قرض معاف کرنے کے بعد مطالبہ کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قرض معاف کرنے کے بعد دوبارہ مطالبہ کرنا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کسی کا پانچ ہزار یورو قرض تھا اور چند دوستوں کی موجودگی میں اس نے قرض معاف کر دیا اور دوستوں نے یہ بات اپنے کانوں سے سنی، پھر اب وہ تقاضا کرے کہ مجھے وہ پانچ ہزار واپس دو۔ کیا اسے وہ رقم واپس کرنا لازم ہوگا اور اس کا یہ مطالبہ کرنا درست ہے؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں اگر واقعی قرض دینے والے نے بلا اکراہ و جبر قرض معاف کر دیا تھا تو اب اس کا مطالبہ کرنا ، ناجائز ہے، اور قرض لینے والے پر اب اس رقم کی ادائیگی لازم نہیں؛ اس لیے کہ شریعتِ مطہرہ کی رو سے جب کوئی قرض خواہ اپنے مقروض کو قرض معاف کر دے تو وہ قرض اس پر سے ختم ہو جاتا ہے اور چونکہ قرض ایک حق ہے، لہذا ایک بار خود اپنا حق ساقط کر دینے (یعنی معاف کر دینے) کے بعد اسے رجوع کرنے کا حق نہیں رہتا۔
علامہ زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم مصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 970ھ / 1562ء) لکھتے ہیں: الساقط لا يعود“ ترجمہ: ساقط چیز لوٹتی نہیں۔ (الأشباه و النظائر، الفن الثالث، ما يقبل الإسقاط من الحقوق و ما لا يقبله، صفحہ 272، دار الكتب العلمية، بيروت)
علامہ شہاب الدین احمد بن محمد حموی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1098ھ / 1687ء) لکھتے ہیں: ومنها الدين يسقط بالإبراء لأن الدين ما دام في الذمة مجرد حق وليس بملك لرب الدين“ ترجمہ: اور ان (قابل اسقاط حقوق) میں سے ایک قرض ہے، یہ ابرا (یعنی معاف کر دینے) سے ساقط ہو جاتا ہے؛ کیونکہ قرض جب تک ذمے میں رہتا ہے، محض ایک حق ہوتا ہے اور قرض دینے والے کی ملکیت نہیں ہوتا۔ (غمز عيون البصائر، الفن الثالث، ما يقبل الإسقاط من الحقوق وما لا يقبله، جلد 3، صفحہ 358، دار الكتب العلمية، بيروت)
درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے: إذا أسقط شخص حقا من الحقوق التي يجوز له إسقاطها يسقط ذلك الحق وبعد إسقاطه لا يعود . . . مثال: لو كان لشخص على آخر دين فأسقطه عن المدين ثم بدا له رأي فندم على إسقاطه الدين عن ذلك الرجل فلأنه أسقط الدين و هو من الحقوق التي يحق له أن يسقطها فلا يجوز له أن يرجع إلى المدين و يطالبه بالدين لأن ذمته برئت من الدين بإسقاط الدائن حقه فيه“ ترجمہ: جب کوئی شخص ایسے حقوق میں سے کسی حق کو ساقط کر دے جنہیں ساقط کرنا اس کے لیے جائز ہو تو وہ حق ساقط ہو جاتا ہے اور اس کے ساقط کرنے کے بعد واپس نہیں لوٹتا۔ مثلاً: اگر کسی شخص کا دوسرے پر قرض ہو اور وہ اس قرض کو مقروض سے ساقط کر دے، پھر اس کی (کوئی دوسری) رائے قائم ہو جائے تو اسے اس شخص سے قرض کو ساقط کر دینے پر ندامت ہو، تو چونکہ اس نے قرض ساقط کر دیا ہے اور قرض ان حقوق میں سے ہے جنہیں ساقط کرنے کا حق اسے حاصل ہے تو اب اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ مقروض کی طرف رجوع کرے اور اس سے قرض کا مطالبہ کرے؛ کیونکہ قرض خواہ کے اس قرض کے معاملے میں اپنے حق کو ساقط کر دینے سے مقروض کا ذمہ اس قرض سے بری ہو چکا ہے۔ (درر الحكام في شرح مجلة الأحكام، المادة 51، جلد 1، صفحہ 54، دار الجيل)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: ابرا میں شرعاً حق رجوع نہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 328، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: دین (قرض) کے ہبہ میں رجوع نہیں کر سکتا، مثلاً دائن (قرض خواہ) نے مدیون (مقروض) کو دین ہبہ کر دیا اور مدیون نے قبول کر لیا دائن واپس نہیں لے سکتا کہ یہ اسقاط ہے، مگر قبول کرنے سے پہلے واپس لے سکتا ہے۔ (بھار شریعت، جلد 3، حصہ 14، صفحہ 84، مکتبة المدینہ، کراچی)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: مدیون کو دین ہبہ کر دینا ایک وجہ سے تملیک (مالک بنانا) ہے اور ایک وجہ سے اسقاط (اپنا مطالبہ چھوڑ دینا)، لہذا رد کرنے سے رد ہو جائے گا اور چونکہ اسقاط بھی ہے، لہذا قبول پر موقوف نہ ہوگا۔ (بھار شریعت، جلد 3، حصہ 14، صفحہ 99، مکتبة المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر:FAM-1191
تاریخ اجراء: 24 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 12 مئی 2026ء