logo logo
AI Search

سونا قرض دے کر اتنا ہی واپس لینا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

کسی کو دو گرام سونا دینا کہ بیچ کر اپنی ضروریات پوری کر لو بعد میں اتنا ہی سونا واپس دے دینا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

پوچھی گئی صورت میں دو گرام سونا لینا، پھر اُسے فروخت کر کے اس کی رقم اپنی ضرورتوں میں استعمال کرنا، اور بعد میں اسی معیار اور مقدار کا دو گرام سونا واپس دینا شرعی اعتبارسے جائزہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص سونا، چاندی وغیرہ مثلی چیز اس طورپر لے کہ اسے فروخت کرکے فی الحال اپنی ضرورت میں استعمال کرے گااور بعد میں اس جیسی چیز واپس کرے گا، تو شرعاً یہ قرض کہلاتا ہے۔ اور اگر قرض پر کوئی نفع یا اضافہ مشروط نہ ہو، تو ایسے قرض کا لین دین جائز ہے، اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔

واضح رہے کہ یہاں سونا جتنے کیرٹ کا دیا تھا، واپس بھی اتنے ہی کیرٹ کا کرنا ذمہ پر لازم ہوگا۔ اس سے اعلیٰ قسم کا سونا لینا یا دینا طے کیا ہو تو یہ عقد جائز نہیں ہوگابلکہ قرض پر ملنے والے نفع ہونے کی بنا پر سود ہو جائے گا۔

علامہ علاؤ الدین حصکفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: (عارية الثمنين و المكيل و الموزون و المعدود و المتقارب) عند الإطلاق (قرض) ضرورة استهلاك عينها‘‘یعنی سونا چاندی، مکیلی و موزونی اور عددی متقارب اشیاء کو عاریۃ  لینا جب کہ ان کا استہلاک مقصود ہو، قرض ہے۔ (الدر المختار، جلد 8، صفحہ 556، مطبوعہ کوئٹہ)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: مکیل و موزون وعددی متقارب کو عاریت لیا اور عاریت میں کوئی قید نہیں تو عاریت نہیں بلکہ قرض ہے مثلاًکسی سے روپے، پیسے، گیہوں، جَو وغیرہا عاریت لیے، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اِن چیزوں کو خرچ کریگااور اسی قسم کی چیز دے گا یعنی روپیہ لیا ہے تو روپیہ دے گا پیسہ لیا ہے تو پیسہ دے گا اور جتنا لیا اُتنا ہی دے دیگا یہ عاریت نہیں بلکہ قرض ہے کیونکہ عاریت میں چیز کو باقی رکھتے ہوئے فائدہ اُٹھایا جاتا ہے اور یہاں ہلاک و خرچ کرکے فائدہ اُٹھانا ہے لہٰذا فرض کروکہ قبلِ اِنتفاع یہ چیز یں ضائع ہو جائیں جب بھی تاوان دینا ہوگا کہ قرض کا یہی حکم ہے کہ لینے والا مالک ہو جاتا ہے نقصان ہوگا تو اس کا ہوگا دینے والے کا نہیں ہوگا۔ ہاں اگر ان چیزوں کے عاریت لینے میں کوئی ایسی بات ذکر کردی جائے جس سے یہ بات واضح ہوتی ہوکہ حقیقۃً عاریت ہی ہے قرض نہیں تو اُسے عاریت ہی قرار دیں گے مثلاً روپے یا پیسے مانگتا ہے کہ اس سے کوئی چیزوزن کریگا یا اس سے تول کر باٹ بنائے گا یا اپنی دوکان کو سجائے گا تو عاریت ہے۔ (بہارِ شریعت، جلد 2، صفحہ59،مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا عابد عطاری مدنی 
فتویٰ نمبر: Web-2516
تاریخ اجراء: 15 ربیع الآخر 1447ھ / 09 اکتوبر 2025ء