والد کا ایک بیٹے کی جائیداد دوسرے بیٹے کو دینا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
والد کا ایک بیٹے کی جائیداد اس کی اجازت کے بغیر دوسرے بیٹے کو دینا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا والد اپنے ایک بیٹے کی خرید کردہ ملکیتی غیر منقولہ جائداد، اس بیٹے کے ہوتے ہوئے، اس کی رضامندی کے بغیر، اپنے دوسرے عاقل و بالغ بر سر روزگار بیٹوں کے نام منتقل کر سکتا ہے؟
جواب
انسان کو اپنی ملکیت میں تصرف کا اختیار ہوتا ہے، دوسری کی ملکیت میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف نہیں کر سکتے، لہذا والد کا اپنے بیٹے کی اجازت کے بغیر، اس کی زمین یا کوئی بھی چیز کسی دوسرے کو دے دینا، شرعا درست نہیں ہے، اور اگر والد نے ایسا کیا، تو بھی جسے وہ زمین وغیرہ دی ہے، وہ اس زمین کا مالک نہیں ہو گا، جب تک کہ اصل مالک یعنی وہ بیٹا کہ جس کی زمین تھی، وہ اجازت نہ دے دے۔ ہاں! اگر وہ اجازت دے دے گا، تو پھر دوسرا اس کا مالک بن جائے گا۔
کسی کو ہبہ کرنے کے لیے چیز اپنی ملک ہونا ضروری ہے، چنانچہ در مختار میں شرائط ہبہ کو بیان کرتے ہوئے مذکور ہے "و شرائط صحتها في الواهب العقل و البلوغ و الملك" ترجمہ:ہبہ کرنے والے میں ہبہ کی صحت کی شرائط (1) عقل (2) بلوغ اور (3) ملکیت ہونا ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، کتاب الھبۃ، جلد 8، صفحہ 568، مطبوعہ: کوئٹہ)
فتاوی رضویہ میں ہے باپ بیٹے کے مال کا اس کی زندگی میں ہر گز مالک نہیں۔ و قولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم "انت و مالک لابیک" من باب البر (اور حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے، تو یہ بھلائی کے باب میں ہے قانون نہیں ہے)۔ ۔ ۔ نہ باپ کو بے رضا و اجازت پسر اس کے مال سے ایک حبہ لینے کا اختیار ۔ ۔ ۔ و مما یقطع بانہ مؤول انہ تعالی ورث الاب من ابنہ السدس مع ولد ولدہ، فلو کان الکل ملکہ لم یکن لغیرہ شیئ مع وجودہ (اس کے مؤول ہونے کی قطعی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے باپ کو بیٹے کے مال میں اس کی اولاد کی موجود گی میں چھٹے حصے کا وارث بنایا ہے، اگر بیٹے کے کل مال کا مالک باپ ہو تو پھر باپ کی موجودگی میں دوسروں کو کچھ نہ ملے)۔ (فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 643 تا 645، رضافاؤنڈیشن، لاہور)
فتاوی رضویہ میں سوال ہوا زید نے ایک اراضی اپنے بیٹے کے نام خریدی، بعد ایک مدت کے وہ زمین ایک طبیب کوہبہ کی پسر زید اصل مالک زمین نے کہ عاقل بالغ تھا اس فعل کو جائز رکھا اور کہا مجھے منظور ہے چنانچہ وہ طبیب ایک مدت تک برضائے واہب ومالک اس زمین پر قابض ودخیل رہا، اب بعد انتقال زید وپسر زید نبیرہ زید اس زمین کو واپس لینا چاہتا ہے، آیا وہ اسے واپس لے سکتاہے؟
اس کے جواب میں امام اہلسنت، امام احمدرضاخان رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں: صورت مستفسرہ میں اگرچہ زید کا ہبہ ہبہ فضولی تھا مگر جب اصل مالک نے اس کی اجازت دی اور موہوب لہ نے برضائے مالک قبضہ پالیا تو وہ زمین اس طبیب کی ملک تام ہوگئی اب کہ مالک نے انتقال کیا اصلا حق رجوع کسی کو نہ رہا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 206، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا احمد سلیم عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5174
تاریخ اجراء: 23 محرم الحرام 1448ھ / 09 جولائی 2026ء