گفٹ کی رقم سے خریدا گیا مکان کس کی ملکیت ہوگا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
واہب کے وکیل نے چیز ہلاک کر دی تو کیا حکم ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائےدین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے شوہر تقریبا بیس سال سے الگ رہ رہے تھے، انہوں نے تقریباً سات سال پہلے ہمارے گھر آکر میرے دو بیٹوں کو چھ چھ لاکھ، ان کے ہاتھ میں دیئے، مجھے دو لاکھ دیئے اور مجھے میری دوبالغہ بیٹیوں کے سامنے ان کے نام سے تین تین لاکھ روپے دیئے اور بیٹیوں والی رقم میرے پاس ہی رکھی رہی، ان کے قبضہ میں نہیں دی، یہاں تک کہ میں نے 18 لاکھ کا ایک مکان خاص اپنے دو بیٹوں کی نیت سے خریدا، جس میں بیٹیوں کو دینے والی رقم یعنی تین تین لاکھ بھی شامل تھی۔ تو مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ یہ مکان خاص میرے بیٹوں کا ہے یا اس میں بیٹیوں کو دینے والی رقم بھی شامل ہونے کی وجہ سے ان کا بھی حصہ ہے؟ رہنمائی فرمادیں۔
نوٹ: سائلہ نے واضح کیا ہے کہ مالک مکان سے ڈیلنگ ا نہوں نے خود کی ،خریداری کو کسی بیٹے، بیٹی کی طرف منسوب نہیں کیا، البتہ نیت بیٹوں کے لئے ہی خریدنے کی تھی، مکان 18 لاکھ میں خریدا تھا، اس رقم کی ادائیگی کے لئے دونوں بیٹوں سے پانچ پانچ لاکھ لیے، میرے دو لاکھ اور تین تین لاکھ وہ تھے جو کہ دونوں بیٹیوں کے نام سے ملےتھے۔ نیز بیٹیوں والی رقم کے حوالے سے وضاحت دی کہ میری بیٹیوں نے مجھے گفٹ پر قبضہ کرنے کا وکیل نہیں بنایا تھا، بلکہ میرے شوہر نے مجھے ان کے نام سے رقم دی تھی۔ ان دو بیٹیوں سے بھی وضاحت لی تو انہوں نے بھی کہا کہ ہم نے والدہ کو تین تین لاکھ پر قبضہ کرنے کا وکیل نہیں بنایا تھا، لیکن ہم والدہ ہی کے ساتھ رہتے تھے، اس لئے ہمارے والد نے وہ رقم ہمارے ہاتھ میں دینے کے بجائے والدہ کے ہاتھ میں دی۔ دونوں بیٹوں سے پانچ پانچ لاکھ قرض یا ہبہ کے اعتبار سے دینے کے متعلق وضاحت لی گئی تو انہوں نے بتایا کہ والدہ نے مکان کی پیمنٹ کی ادائیگی کرنے کے لئے پیسے لیے تھے، اور ہم سے یہ بات نہیں کی کہ میں تمہارے لئے خرید رہی ہوں یا اپنے لیے، نیز وہ رقم ہم دونوں نے قرض کی نیت سے نہیں دیئے، بلکہ واپس نہ لینےیعنی گفٹ کی نیت سے دیئے تھے۔ نیز اب سائلہ کے شوہر انتقال کرچکے ہیں۔
جواب
پوچھی گئی صورت میں مذکورہ بالا مکان کی مالک صرف آپ ہی ہیں ،اس میں کسی بیٹے یا کسی بیٹی کا کوئی حق و حصہ نہیں، نیز آپ کے ذمے دونوں بیٹوں کے پانچ پانچ لاکھ کی رقم بھی لازم نہیں، جبکہ تین تین لاکھ آپ کے ذمے لازم ہے جوکہ صرف بیٹیوں کو نہیں دیں گی، بلکہ مرحوم شوہر کے تمام ورثاء میں ان کے حصہ میراث کے مطابق تقسیم کریں گی۔
اس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ خریداری جب مطلق ہویعنی خریدار نے اسے اپنے غیر کی طرف منسوب نہ کیا ہو تو اگرچہ خریدار کی نیت اپنے علاوہ کسی دوسرے کے لئے خریدنے کی ہو، بیع خریدار پر ہی نافذ ہوتی ہےاور اس چیز کا مالک وہی قرار پاتا ہے، صرف نیت سے دوسرے کی ملکیت ثابت نہیں ہوتی،یونہی خریداری میں محض کسی دوسرے کی رقم شامل ہونے سے اس چیز میں اس دوسرے کا کوئی حصہ و ملکیت نہیں ہوتا۔ لہذا جب آپ نے مالک مکان سے خریداری کے وقت ایجاب یا قبول کے الفاظ کو بیٹوں کی طرف منسوب نہیں کیا، تو آپ ہی اس مکان کی مالک ہوئی ،بیٹے اس مکان کے مالک نہیں ہوئے، اگر چہ آپ کی نیت ان کے لئے خریدنے کی تھی، یونہی مکان کی خریداری میں بیٹوں سے لیے ہوئے پانچ پانچ لاکھ اور بیٹیوں کو ہبہ کیے جانے والے تین تین لاکھ شامل ہونے کی وجہ سے بھی بیٹے اور بیٹیاں اس مکان کے مالک و حصہ دار نہیں ہوئے کہ محض کسی کی رقم شامل ہونے سے وہ شخص اس چیز کا مالک نہیں بنتا۔
نیز آپ کے ذمے پانچ پانچ لاکھ جو کہ دونوں بیٹوں سے لیے تھے ،وہ دینا لازم نہیں کیونکہ آپ کے دونوں بیٹوں نے آپ کو مکان کی پیمنٹ کے وقت پانچ پانچ لاکھ بطور ہبہ دئیے تھے، بطور قرض نہیں دیئے تھے۔ جبکہ دونوں بیٹیوں کو آپ کے شوہر کی طرف سے ملنے والے تین تین لاکھ کا تاوان آپ کے ذمہ لازم ہے جو کہ صرف ان دوبیٹیوں کو دینے کے بجائے آپ اپنے مرحوم شوہر کے تمام ورثاء میں ان کے حصہ میراث کے مطابق تقسیم کریں گی کیونکہ آپ کے شوہر نے آپ کو تین تین لاکھ روپے بیٹیوں کو دینے کے لئے وکیل کیا، آپ کی بیٹیوں نے آپ کو ہبہ پر قبضہ کرنے کا وکیل نہیں کیا، اور ہبہ کے مکمل ہونے کے لئے موہوب لہ (جس کو تحفہ دیا جارہا ہے) یا اس کے وکیل کا قبضہ کرنا ضروری ہے جبکہ یہاں پربیٹیوں کا یا ان کے وکیل کا قبضہ نہیں ہوا یہاں تک کہ آپ نے موہوبہ تین تین لاکھ استعمال کر کے ہلاک کردیئے ،توموہوبہ چیز کے ہلاک ہونے سے ہبہ باطل ہوگیا، جس کی وجہ سے اس کا تاوان آپ پرلازم ہوا جوکہ شوہر کو کریں گے، اور ان کے انتقال کرجانے کے سبب بیٹیوں سمیت سب ورثاء میں انکے حصہ میراث کے مطابق تقسیم کریں گے۔
اس کی نظیر یہ مسئلہ بھی ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کو کچھ رقم صدقہ کرنے کے لئے یا اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنے کے لئے دی، اس نے صدقہ کرنے یا اہل وعیال پر خرچ کرنے کے بجائے اس کو اپنے استعمال میں لا کر ہلاک کردی تو دوسراشخص، پہلے کو اس رقم کا تاوان دے گا، محض بعد میں اپنی ذاتی رقم اس کے طرف سے صدقہ کرنے یا اس کے اہل و عیال پر خرچ کرنے سے تاوان سے بری نہیں ہوگا، یونہی مذکورہ مسئلہ میں آپ کے شوہر نے آپ کو ان بیٹیوں کو دینے کے لئے تین تین لاکھ دیئے تھے، آپ نے ان کو دینے سے پہلے استعمال کر کے ختم کردیئے تو آپ پر تین تین لاکھ کا تاوان شوہر کو ادا کرنا لازم ہوا، ان کے انتقال کرجانے کے سبب ان کے سب ورثاء میں ان کے حصہ میراث کے مطابق تقسیم کریں گی۔
بیع کس کے لئے واقع ہوتی ہے اس کو بیان کرتے ہوئے در مختار میں ہے: لو اشتری لغیرہ نفذ علیہ اذالم یضفہ الی غیرہ۔ ملخصا" اگر کسی نے کوئی چیز دوسرے کے لئے خریدی تو خریداری اسی (خریدار) پر نافذ ہوگی جبکہ اسے (خریداری کو) اپنے غیر کی طرف منسوب نہ کیا ہو۔ (در مختار مع رد المحتار، ج 7، ص 322، مطبوعہ کوئٹہ)
رد المحتار میں ہے:قولہ: (نفذ علیہ) ای: علی المشتری و لو اشھد انہ یشتریہ لفلان و قال فلان: رضیت فالعقد للمشتری لانہ اذا لم یکن وکیلاً بالشراء وقع الملک لہ فلا اعتبار بالاجازۃ بعد ذلک لانھا انما تلحق الموقوف لا النافذ۔ مصنف علیہ الرحمہ کا قول: (خریداری اس پر نافذ ہوگی) یعنی خریدار پر اگرچہ اس نے گواہ بنا لیا ہو کہ فلاں کے لئے خرید دے گا اور فلاں نے بھی کہا: میں راضی ہوں تو عقد مشتری کے لئے ہوگا کیونکہ جب وہ خریدنے کا وکیل نہیں ہے تو ملک اس (خریدار) کے لئے واقع ہوئی لہذا اس کے بعد اجازت کا اعتبار نہیں ہوگا کیونکہ اجازت موقوف کو لاحق ہوتی ہے، نہ کہ نافذ کو۔ (رد المحتار، ج 7، ص 322، مطبوعہ: کوئٹہ)
فضولی شخص نےمحض دوسرے کی نیت سے کوئی چیز خریدی ،جبکہ لفظوں میں خریداری کو دوسرے کی طرف منسوب نہیں کیا تو بیع خریدار پر ہی نافذ ہو گی، دوسرے کی نیت کی وجہ سے، خریداری اس کی اجازت پر موقوف نہیں ہوگی، چنانچہ بحر الرائق اور بنایہ شرح الہدایہ میں ہے: و اللفظ للآخر" و اعلم أن شراء الفضولي على وجوه ذكرها في الفتاوى الصغرى و تتمته: الأول: إن أضاف الشراء إليه نصا بأن قال البائع بعت هذا من فلان، و قال الفضولي: اشتريت لفلان أو قبلت لفلان، و إن لم يقل لفلان فإنه يتوقف۔ و الثاني: لو قال بعت منك، و قال الفضولي: قبلت أو قال اشتريت و نوى بقلبه لفلان ينفذ بالاتفاق على المشتري و لا يتوقف۔ الثالث: إذا قال الفضولي: اشتريت هذا لفلان، وقال البائع بعت منك ذكر فيه شيخ الإسلام خواهر زاده روايتين: والصحيح أنه لا يتوقف بلا خلاف۔الرابع: إذا قال البائع: بعت منك هذا لأجل فلان، فقال المشتري: اشتريت، أو قبلت، أو قال المشتري: اشتريت هذا لأجل فلان فقال البائع بعت فإنه لا يتوقف۔
اور جان لو کہ فضولی شخص کی خریداری کی کئی صورتیں ہیں جنہیں فتاویٰ صغریٰ اور اس کی تتمہ میں ذکر کیا گیا ہے:پہلی صورت: اگر فلان کی طرف خریدنے کی نسبت صراحتاً ہو، اس طرح کہ بائع کہے میں نے یہ فلاں شخص کو بیچا، اور فضولی نے کہا: میں نے فلاں کے لیے خریدا یا میں نے فلاں کے لیے قبول کیا، اگرچہ وہ فلاں کے لیے نہ بھی کہے، تو بھی بیع موقوف ہوگی یعنی فلان کی اجازت پر۔دوسرا طریقہ: اگر بیچنے والے نے کہا: میں نے تجھے بیچا، اور فضولی نے کہا: میں نے قبول کیا یا میں نے خریدا اور دل میں نیت کی کہ فلاں کے لیے خریدا ہے، تو یہ خرید و فروخت خریدار (فضولی)کے حق میں بالاتفاق نافذ ہوجائے گی اور فلاں کی اجازت پر موقوف نہیں ہوگی۔تیسرا طریقہ:جب فضولی نے کہا: میں نے یہ فلاں کے لیے خریدا، اور بیچنے والے نے کہا: میں نے تمہیں بیچا، تو شیخ الاسلام خواہر زادہ نے اس میں دو روایتیں نقل کی ہیں، اور صحیح قول کے مطابق یہ معاملہ بلا خلاف موقوف نہیں ہوگا ۔چوتھا طریقہ: اگر بیچنے والے نے کہا: میں نے یہ تم سے فلاں کی خاطر بیچا، اور خریدار نے کہا: میں نے خریدا یا میں نے قبول کیا، یا خریدار نے کہا: میں نے یہ فلاں کی خاطر خریدا اور بیچنے والے نے کہا: میں نے بیچا، تو ایسی صورت میں بھی یہ بیع موقوف نہیں ہوگی، بلکہ نافذ ہو جائے گا۔ (بنایہ شرح الھدایہ، ج 10 ص 89 تا 90، مطبوعہ: کوئٹہ) (بحر الرائق شرح کنزالدقائق، ج 06 ص 249، مطبوعہ: کوئٹہ)
یونہی سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: جو (جائیداد) دوسرے کے روپے سے خریدی وہ اگر اپنے لئے خریدی یعنی عقد بیع دوسرے کے نام نہ کرایا تو وہ بھی اسی مشتری کی ہے لان الشراء متی وجد نفاذاعلی المشتری نفذ (اس لئے کہ خریداری جب مشتری پر نفاذ کے طورپر پائی جائےتو نافذہوجاتی ہے۔ ت) پھر اس صورت میں اگر ثابت ہوکہ یہ روپیہ دوسرے نے اسے بطور تملیك دے دیا تھا تو روپیہ کا بھی مطالبہ اس پر نہ تھا ورنہ اگر باجازت تھا قرض تھا، بے اجازت تھا غضب تھا، بہرحال اس پر ضمان لازم ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج 17، ص 138، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
کسی چیز کی خریداری میں محض دوسرے کی رقم شامل ہونے سے، اس چیز میں دوسرے کی ملکیت ثابت نہیں ہوتی، چنانچہ فتاوی خیریہ میں ہے: لا تثبت الدار للاب بقول الابن اشتریتھا من مال ابی اذ لایلزم من الشراء من مال الاب ان یکون المبیع للاب۔ گھر والد کا ثابت نہیں ہوگا بیٹے کے اس قول سے کہ میں نے گھر کو اپنے والد کے مال سے خریدا ہے کیونکہ والد کے مال سے خریدنے سے لازم نہیں آتا کہ مبیع والد کی ہو۔ (فتاوی خیریہ بھامش تنقیح فتاوی حامدیہ، ج 01، ص 351، مطبوعہ: پشاور)
دوسرے کی رقم سے چیز خریدی تو چیز کی ملکیت خریدنے والے کی ہوگی، پھر دوسرے نے وہ رقم ہبہ کے طور پر دی ہوگی تو خریدنے والے پر اس رقم کی واپسی نہیں، اور اگر ہبہ کے طور پر نہیں دی، بلکہ قرض کے طور پر دی ہے تو اس رقم کو واپس دینا ہوگا، چنانچہ سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: وہ خریداری ہندہ نے اگر اپنے لئے کی ہے، مالک صرف ہندہ ہے اگرچہ قیمت میں شوہر کا روپیہ بھی شریک ہے، پھر یہ روپیہ اگر شوہر نے ھبۃ دیا فبہا ورنہ اس قدر روپیہ ہندہ سے واپس لے سکتا ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج 19، ص 391، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
موہوبہ چیز پر ملکیت کےلئے موہوب لہ کا قبضہ کر نا شرط ہے ،قبضہ سے پہلے موہوب لہ مالک نہیں ہوتا جیسا کہ فتاوی عالمگیری میں ہے: ومنھا ان یکون الموھوب مقبوضا حتی لایثبت الملک للموھوب لہ قبل القبض۔ اور ان شرائط میں سے یہ ہے کہ موہوبہ چیز پر قبضہ کیا گیا ہو یہاں تک کہ قبضہ سے پہلے موہوب لہ کی ملکیت ثابت نہیں ہوتی۔ (فتاوی عالمگیری، ج 04، ص 374، مطبوعہ: کوئٹہ)
واہب اورموہوب لہ دونوں ، ہبہ میں موہوبہ چیزکو پہنچانے اور قبضہ کرنے کے لئےکسی کو وکیل بناسکتے ہیں چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے: یجوز للواھب ان یوکل بالتسلیم و للموھوب لہ ان یوکل بالقبض۔ واہب کے لئے جائز ہے کہ وہ موہوبہ چیز سپرد کرنے کے لئے وکیل بنائے اور موہوب لہ کے لئے جائز ہے کہ وہ قبضہ کے لئے وکیل بنادے۔ (فتاوٰی عالمگیری، ج 3، ص 600، مطبوعہ: کوئٹہ)
اپنی بالغ اولاد کو کوئی چیز ہبہ کی تو ہبہ تام ہونے کے لئے اس بالغ کا قبضہ کرنا شرط ہے، محض اس بالغ کے عیال میں موجود ہونے سے محض ہبہ کرنے سے ہبہ تام نہیں ہوگا، چنانچہ تنویر الابصار میں ہے: (وهبة من له ولاية على الطفل تتم بالعقد)۔ ملخصاً" وہ شخص بچہ کو ہبہ کرے جس کو بچہ پر ولایت حاصل ہے، تو عقد سے ہی ہبہ تام ہوجائے گا۔
رد المحتار میں علامہ ابن عابدین الشامی رحمۃ اللہ علیہ اس "على الطفل" عبارت کے تحت فرماتے ہیں: فلو بالغًا يُشترط قبضه، و لو في عياله، تتارخانية۔ تو اگر وہ بچہ بالغ ہو تو اس کی طرف سے قبضہ کرنا شرط ہے۔ اور اگرچہ وہ اس کے عیال میں ہو، تتارخانیہ۔ (تنویر الابصار مع رد المحتار، ج 8، ص 579 تا 580، مطبوعہ: کوئٹہ)
اپنی بالغ اولاد کو ہبہ کرے یا کسی اجنبی کو ہبہ کرے ہبہ تام ہونے کے لئے دونوں کا قبضہ کرنا ضروری ہے، چنانچہ شرح المجلہ میں ہے: اذا وھب احد لابنہ الکبیر البالغ العاقل شیئا یلزم التسلم و بدونہ قبضہ لا تتم الھبۃ ،اذ لا فرق بینہ و بین الاجنبی حینئذ۔ اگر کوئی شخص اپنے بڑے، بالغ، عاقل بیٹے کو کوئی چیز ہبہ (تحفے) کے طور پر دے تو قبضہ ضروری ہے، اور بغیر قبضہ کے ہبہ مکمل نہیں ہوتا، کیونکہ قبضہ کے لازم ہونے میں بیٹے اور اجنبی میں کوئی فرق نہیں ہے۔ (شرح المجلہ، ج 03، ص 371، مطبوعہ: پشاور)
بہار شریعت میں ہے: ہبہ تمام ہونے کے لئے قبضہ کی بھی ضرورت ہے بغیر اس کے ہبہ تمام نہیں ہوتا۔ (بہار شریعت، ج 3، ص 71، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ، کراچی)
موہوب لہ کے قبضہ سے پہلے موہوبہ چیز ہلاک ہوجائے تو ہبہ باطل ہوجاتا ہے جیسا کہ سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: یہاں اگر موت عمرو سے پہلے چک بیکار ہوگیا تو ہبہ بوجہ ہلاک موہوب قبل القبض باطل ہوگیا۔ (فتاوی رضویہ، ج 16، ص 246، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مؤکل نے وکیل کو دس درہم صدقہ کرنے کے لئے دیئے، وکیل نے اس دراہم کو اپنی ذات پر خرچ کردیا، اس کے بعد اپنی طرف سے اتنے دراہم صدقہ کیے تو یہ مؤکل کی طرف سے نہیں ہونگے، بلکہ وکیل کی طرف سے شمار ہونگے اور وکیل مؤکل کو اتنی رقم کا تاوان دے گا، چنانچہ محیط برھانی میں ہے: و في وكالة العيون: رجل دفع إلى رجل عشرة دراهم ليتصدق بها، فأنفق الوكيل بها على نفسه، و تصدق بعشرة من مال نفسه عن الأمر، لم يجز؛ لأن بالإنفاق صارت الدراهم دينا في الذمة، و ما تصدق بها دراهم الوكيل، لا دراهم الأمر، و لو كانت الدراهم عنده قائمة، فلم يتصدق بها، و تصدق بغيرها، جاز استحسانا۔ کتاب 'العیون' کی وکالت کے باب میں ہے: ایک شخص نے دوسرے شخص کو دس درہم دیئے تاکہ وہ انہیں صدقہ کرے۔ تو وکیل نے وہ درہم اپنی ذات پر خرچ کر لیے، اور پھر اپنے مال میں سے دس درہم آمر کی طرف سے صدقہ کر دیئے ، تو یہ جائز نہیں ہوگا۔ کیونکہ خرچ کرنے سے وہ درہم وکیل کے ذمے قرض ہوگئے، اور جن درہموں کو صدقہ کیا وہ وکیل کے درہم ہے ،نہ کہ آمر کے درہم ہے، اگروہ درہم اس کے پاس موجود تھے اور ان درہموں کو صدقہ نہیں کیا اور اس کے علاوہ دوسرے درہم صدقہ کیے تو استحساناً جائز ہے۔ (محیط برھانی، ج 15، ص 43، مطبوعہ: کراچی)
یونہی بہار شریعت میں ہے: زید نے عمروکودس روپے دیے کہ یہ میرے بال بچوں پر خرچ کرنا۔ ۔ ۔ عمرو نے زید کے روپے خرچ کر ڈالے اس کے بعد بال بچوں کے لیے چیزیں خریدیں وہ سب عمرو کی مِلک ہیں اور بچوں پر خرچ کرنا تبرع ہے اور زید کے روپے جو خرچ کیے ہیں اُن کا تاوان دینا ہو گا۔ ملتقطاً (بہار شریعت، ج 2، ص 1008، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد نوید رضا عطاری مدنی
مصدق: مفتی فضیل رضا عطاری
فتوی نمبر: Har-7266
تاریخ اجراء: 29 رجب المرجب 1447ھ/ 19 جنوری 2026ء