logo logo
AI Search

قرض دے کر مفت رہائش حاصل کرنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

قرض دے کر کچھ عرصہ کے لئے مفت رہائش حاصل کرنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

پوچھی گئی صورت میں آپ کا مالک مکان کو قرض دینے کے عوض اس کے مکان میں بغیر کرائے کے رہائش رکھنا خالصتاً سودی معاملہ ہے جو کہ ناجائز و حرام ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ قرض پر فقط اضافی رقم لینا ہی سود نہیں ہوتا، بلکہ قرض کے عوض کسی بھی قسم کی مشروط منفعت حاصل کرنابھی سود ہے۔ لہٰذا پوچھی گئی صورت آپ کا مالک مکان کے ساتھ ایسا معاملہ کرنا شرعاً جائز نہیں۔

سود کی حرمت کے بارے میں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ اَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا﴾ ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ نے حلال کیا بیع کو اور حرام کیاسود۔ (پارہ 3، سورۃ البقرہ، آیت 275)

حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: کل قرض جر منفعۃ فھو ربا" ترجمہ: ہر وہ قرض جو نفع کھینچے،تو وہ سود ہے ۔ (کنز العمال، ج 16، ص 238، مطبوعہ: بیروت)

علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں: كل قرض جر نفعا حرام اي اذا كان مشروطا“ ترجمہ: ہر وہ قرض جو مشروط نفع لائے حرام ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب القرض، جلد 7، صفحہ 413، مطبوعہ: کوئٹہ)

مصنف عبدالرزاق میں ہے "عن ابن سیرین قال: جاء رجل إلی ابن مسعود فقال: إن رجلا رھننی فرسا فرکبتھا قال: ما أصبت من ظھرھا فھو ربا" ترجمہ: ابن سیرین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ایک شخص حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس حاضر ہو کر عرض گزار ہوا کہ ایک آدمی نے رہن کے طور پر گھوڑا مجھے دیا تھا، تو میں نے اس پر سواری کی۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے نے فرمایا: جو تم نے اس پر سوا ر ی کا نفع اٹھایا وہ سود ہے۔ (المصنف، کتاب البیوع، باب: ما یحل للمرتھن من الرھن، جلد 8، صفحہ 245، المجلس العلمی، الھند)

امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں: بر بنائے قرض کسی قسم کانفع لینا مطلقا سودوحرام ہے،حدیث میں ہے، حضورسیدعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم فرماتے ہیں: کل قرض جرمنفعۃ فھوربا‘‘ رواہ الحارث فی مسندہ عن امیرالمومنین المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ ترجمہ: جو قرض کوئی نفع کھینچ کر لائے وہ سود ہے۔ اس کو حارث نے اپنی مسند میں حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے۔ ۔ ۔ یعنی اگر قرض اس شرط پر دیا کہ نفع لیں گے، تووہ نفع بربنائے قرض حرام ہوا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر شرط کی دو صورتیں ہیں: نصاً یعنی بالتصریح قرارداد انتفاع ہوجائے، اور عُرفاً کہ زبان سے کچھ نہ کہیں مگر بحکم رسم و رواج قرارداد معلوم اور داد و ستد خود ہی ماخوذومفہوم ہو ان دونوں صورتوں میں وہ نفع حرام وسُودہے، فان المعھود کالمشروط لفظا۔ (اس لئے کہ جو عرف کے اعتبار سے معہود ہو، وہ ایساہی ہوتا ہے جیسے لفظوں میں مشروط ہے) ۔ ۔ ۔ جب یہ اصل کلی معلوم ہولی حکم مسئلہ واضح ہوگیا کہ اگرمکان وغیرہ شیئ مرہون سے مرتہن کابذریعہ سکونت وغیرہ نفع لینا مشروط ہوچکاہے جیساکہ دخلی رہن ناموں میں اس کی صاف تصریح ہوئی ہے جب تو اس کاصریح سُودحرام ہوناظاہر، ورنہ غالب عرف وعادت رسم ورواج زمانہ صراحۃً حاکم ابنائے زمان اسی نفع کی غرض سے قرض دیتے ہیں اورلینے دینے والے سب بغیرذکر اسے قراریافتہ سمجھتے ہیں، اگر مرتہن جانے کہ مجھے انتفاع نہ ملے گا ہرگز عقدنہ کرے اور راہن بوجہ قرض دبا ہوا نہ ہو تو کبھی مجبوراً اجازت انتفاع نہ دے ولہٰذا  مرتہن اس نفع وسود کواپناحق واجب جانتے ہیں اور راہن کواس پر مجبور کرتے ہیں، تویہ انتفاع اگرچہ لفظاً مشروط نہ ہو عرفاً بیشک مشروط و معہود ہے توحکم مطلق حرمت و ممانعت ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 25، صفحہ 223، 225، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی 
فتوی نمبر: WAT-5272
تاریخ اجراء: 09 صفر المظفر 1448ھ / 24 جولائی 2026ء