logo logo
AI Search

بے وضو غلاف میں لپٹے قرآن کو چھونے کا کفارہ کیا ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بے وضو  بھولے سے غلاف میں لپٹے قرآن  کریم کو چھونے کا کفارہ کیا ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر قرآن پاک کو الگ سے غلاف میں لپیٹ کر کہیں رکھا ہو، اور بے وضو شخص بے خیالی میں اُس غلاف کو چھولے، تو اُس پر کیا کفارہ لازم ہوگا؟

جواب

بے وضو شخص کا بلا حائل قرآن پاک کو چھونا ، ناجائز و حرام ہے، یونہی ایسے کسی حائل سے چھونا بھی ناجائز ہے کہ جو اپنے یا پھر قرآن پاک کے تابع ہو۔ البتہ اگر قرآن پاک الگ سے کسی غلاف میں لپٹا ہو تو بے وضو  یا بے غسل کا بلا حائل    اُس غلاف کو چھونا شرعاً جائز ہے کہ یہ غلاف نہ تو اپنے تابع ہے اور نہ ہی قرآن پاک کے تابع ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں اُس شخص پر کوئی حکم نہیں لگے گا ۔

قرآن کریم  کو ایسے کسی حائل سے چھونا شرعاً جائز ہے کہ جو نہ اپنے تابع ہو اور نہ ہی قرآن پاک کے تابع ہو۔ جیسا کہ نہایۃ المراد فی شرح ہدیۃ ابن العماد میں ہے:

” قال الحلبی فی "شرح المنیۃ": ولا یجوز لھم  ای للجنب و الحائض و النفساء مس المصحف الا بغلافہ ۔۔۔۔۔و کذلک لایجوز المس المذکور للمحدث ایضاً؛ لانہ غیر طاھر ،ھذا یعنی جواز الاخذ بالغلاف اذا کان الغلاف غیر مشرز ای غیر محبوک، مشدود بعضہ الی بعض ،و ان کان مشرزاً؛  لا یجوز الاخذ بہ ،ولامسہ ھو الصحیح ۔ “

 ترجمہ: ” علامہ حلبی علیہ الرحمہ نے "شرح منیہ" میں فرمایاکہ جنبی ،حائضہ اور نفاس والی کےلئے مصحف کو چھونا ، جائز نہیں مگر اُس مصحف کے غلاف کے ساتھ ۔۔۔۔ اسی طرح بے وضو شخص کا بلاحائل چھونا ،جائز نہیں،کیونکہ وہ پاکی کی حالت میں نہیں  ہے۔یہ یعنی غلاف کے ساتھ پکڑنے کا جواز اسی صورت میں ہے کہ جب وہ غیر متصل ہو،یعنی اس کا بعض حصہ ، بعض کے ساتھ ملا کر سیا نہ ہو ، اگر ملا کر سلائی کر دیا  ہوتو اس کو غلاف کو پکڑنا ، جائز نہیں اور نہ ہی اُسے چھونا جائز ہے، یہی صحیح ہے۔“ (نھایۃ المراد فی شرح ھدیۃ ابن العماد،ص197،مطبوعہ بیروت، لبنان،ملتقطاً)

فتاوٰی عالمگیری میں ہے:

”ومنھا حرمۃ مس المصحف لا یجوز لھما و للجنب والمحدث مس المصحف الا بغلاف متجاف عنہ کالخریطۃ والجلد الغیر المشرز لا بما ھو متصل بہ ھو الصحیح ھکذا فی الھدایۃ، وعلیہ الفتویٰ کذا فی الجوھرۃ  النیرۃ۔“

یعنی حرام کاموں میں سے قرآن پاک کو چھونے کی حرمت بھی ہے کہ حیض و نفاس والی عورت کے لئے، جنبی کے لئے اور بے وضو کے لئے قرآن پاک کو چھونا،  جائز نہیں مگر ایسے غلاف کے ساتھ چھونا،  جائز ہے جو اس سے الگ ہو جیسے جزدان، اور   ایسی  جلد جو مصحف کے ساتھ متصل  نہ ہو۔ البتہ اس غلاف کے ساتھ مصحف کو چھونا ، جائز نہیں جو اُس مصحف سے جڑا ہوا ہو، یہی صحیح ہے، ایسا ہی ہدایہ میں ہے، اسی پر فتوی  ہے اسی طرح جوہرہ نیرہ میں ہے۔(فتاوٰی عالمگیری،کتاب الطھارۃ، ج 01، ص 39-38،  مطبوعہ پشاور)

بہارِ شریعت میں ہے:”اگر قرآنِ عظیم جزدان میں ہو تو جزدان پر ہاتھ لگانے میں حرج نہیں، یوہیں رومال وغیرہ کسی ایسے کپڑے سے پکڑنا جو نہ اپنا تابع ہو نہ قرآنِ مجید کا تو جائز ہے ۔“(بہارِ شریعت، ج 01، حصہ 02، ص 326، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب:ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی

فتوی نمبر:Nor-13803

تاریخ اجراء:29شوال المکرم1446ھ/28اپریل2025ء