دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
وضو کرنے کے بعد گیس خارج ہو جائے، جس کی نہ آواز ہو نہ کوئی بدبو، تو کیا وضو ٹوٹ جائے گا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
وضو ٹوٹنے میں اصل اعتبار اس چیز کا ہے کہ وضو توڑنے والی چیزکے پائے جانے کا یقین ہوجائے، کیونکہ وضو کا ہونا یقینی ہے، تو اب اس کو توڑنے کے لیے بھی، توڑنے والی چیزکے پائے جانے کایقین ہونا ضروری ہے، ایسا یقین کہ کسی قسم کاشک و شبہ نہ رہے، یہاں تک کہ اگر قسم کھانا چاہے، تو بلاجھجک قسم کھاسکے، اور اگر قسم کھانے میں ہچکچائے، تواس کا مطلب ہے کہ یقین نہیں ہوا، بلکہ معاملہ مشکوک ہے، لہذا وضو نہیں ٹوٹا، اسی کو حدیث پاک میں کچھ اس انداز سے بیان فرمایا گیا کہ: جب تم میں سے کسی کو اپنے پیٹ میں کوئی چیز محسوس ہو اور اسے یہ شک ہو کہ اس سے کچھ خارج ہوا ہے یا نہیں، تو وہ مسجد سے اس وقت تک نہ نکلے جب تک وہ آواز نہ سن لے یا بدبو محسوس نہ کر لے۔
لیکن ریح کی آواز سن لینے یا بدبو محسوس کرنے سے یہ مراد نہیں کہ اگرچہ ریح نکلنے کا یقین ہوجائے، تب بھی جب تک آواز یا بونہ آئے، وضو نہیں ٹوٹے گا، بلکہ یہ صرف یقین کے حصول کا ذریعہ بیان کیا گیا ہے، اصل دارو مدار یقین کے پائے جانے پر ہے، ورنہ تو جو شخص بہرہ ہو اور اس کا ناک بند ہو کہ بو بھی محسوس نہ ہو، تواس کاریح نکلنے سے وضو ہی نہ جائے گا کہ نہ اسے آوازآنی ہے اور نہ بو محسوس ہونی ہے۔
مشکاۃ المصابیح میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، فرمایا:
”قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا وجد أحدكم في بطنه شيئا فأشكل عليه أخرج منه شيء أم لا فلا يخرجن من المسجد حتى يسمع صوتا أو يجد ريحا“
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو اپنے پیٹ میں کوئی چیز محسوس ہو اور اسے یہ شک ہو جائے کہ اس سے کچھ خارج ہوا ہے یا نہیں، تو وہ مسجد سے اس وقت تک نہ نکلے جب تک وہ آواز نہ سن لے یا بدبو محسوس نہ کر لے۔ (مشکاۃ المصابیح، جلد1، صفحہ101، حدیث: 306، المكتب الإسلامي، بيروت)
اس حدیث پاک کی تشریح کے متعلق شرح المشکاۃ للطیبی میں ہے
”معناه حتى يتيقن الحدث لا أن سماع الصوت أو وجود الريح شرط؛ [فإنه قد يكون أصم لا يسمع الصوت] وقد يكون أخشم لا يجد الريح. وينتقض طهره إذا تيقن الحدث.۔۔۔وفيه دليل علي أن اليقين لا يزول بالشك في شيء من أمر الشرع، وهو قول عامة أهل العلم.“
ترجمہ: اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ (مسجد سے نہ نکلے)جب تک اسے حدث (وضو ٹوٹنے) کا یقین نہ ہو جائے۔ یہ مراد نہیں کہ آواز سننا یا بدبو پانا بذاتِ خود شرط ہے؛ کیونکہ ممکن ہے کوئی شخص بہرا ہو اور آواز نہ سن سکے، یا کسی کی سونگھنے کی حس نہ ہو اور بدبو محسوس نہ کر سکے۔ (اصل اعتبار یقین کا ہے، چنانچہ) جب حدث کا یقین ہو جائے تو طہارت ختم ہو جاتی ہے۔اور اس حدیث میں اس اصول کی بھی دلیل ہے کہ شریعت کے کسی معاملے میں یقین، محض شک سے زائل نہیں ہوتا، اور یہی بات عام اہلِ علم کا قول ہے۔ (شرح المشکاۃ للطیبی، کتاب الطھار ۃ، جلد3، صفحہ758، مطبوعہ: ریاض)
سنن الترمذی میں اسی حدیث پاک کے تحت امام اعظم علیہ الرحمۃ کے شاگرد، حضرت سیدناعبداللہ بن مبارک علیہ الرحمۃ کاقول مذکورہے
” قال ابن المبارك: «إذا شك في الحدث، فإنه لا يجب عليه الوضوء، حتى يستيقن استيقانا يقدر أن يحلف عليه»
ترجمہ: ابن المبارک نے فرمایا: جب حدث میں شک ہو تو اس پر وضو واجب نہیں حتی کہ حدث کا ایسا یقین ہو جائے کہ اس پر قسم کھا سکے۔ (سنن الترمذی، ج 1، ص 40، دار ابن کثیر، دمشق)
اسی مفہوم کی مختلف الفاظ پر مشتمل روایات ذکر کرنے کے بعد امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں:
’’ان حدیثوں کا حاصل یہ ہے کہ شیطان نماز میں دھوکہ دینے کے لئے کبھی انسان کی شرمگاہ پر آگے سے تھوک دیتا ہے کہ اسے قطرہ آنے کا گمان ہوتا ہے کبھی پیچھے پھونکتا یا بال کھینچتا ہے کہ ریح خارج ہونے کا خیال گزرتا ہے اس پر حکم ہوا کہ نماز سے نہ پھرو جب تک تری یا آواز یا بُو نہ پاؤ یعنی جب تک وقوعِ حدث پر یقین نہ ہولے۔ ہمارے امام اعظم کے شاگرد جلیل سیدنا عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں:
اذا شک فی الحدث فانہ لایجب علیہ الوضوء حتی یستیقن استیقانا بقدران یحلف علیہ
(جب حدث میں شک ہو تو اس پر وضو واجب نہیں حتی کہ حدث کا ایسا یقین ہو جائے کہ اس پر قسم کھا سکے۔)“ (فتاوٰی رضویہ، ج01، حصہ ب، ص 1049، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
فتوی نمبر:WAT-4568
تاریخ اجراء:02 رجب المرجب1447ھ/23دسمبر2025ء