logo logo
AI Search

آئی لیش لفٹ کروانا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

آئی لیش لفٹ (Eyelash Lift) کروانا اور اس حالت میں وضو کرنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا آئی لیش لفٹ کروانا جائز ہے؟ کیا اس کے بعد وضو ہو جائے گا؟

جواب

آئی لیش لفٹ (Eyelash Lift) ایک بیوٹی ٹریٹمنٹ ہے جس میں قدرتی پلکوں (lashes) کو خاص محلول کی مدد سے اوپر کی طرف curl اور lift کیا جاتا ہے۔اس سے پلکیں زیادہ لمبی، گھنی اور کھلی ہوئی نظر آتی ہیں۔ عام طور پر اس کا اثر تقریباً 68 ہفتے رہ سکتا ہے۔

مذکورہ معلومات کے مطابق آئی لیش لفٹ کا حکم یہ ہے کہ جس لوشن وغیرہ کے ذریعے پلکوں کو اوپر کی طرف لفٹ کیا جاتا ہے، اگر وہ جرم دار ہے، یعنی اس کی تہہ بن جاتی ہے، جس سے پانی نیچے سرایت نہیں کرتا، اور بوقت ضرورت اسےبغیر حرج و مشقت کے اتارنے کی بھی صورت نہیں، تو اس بیوٹی ٹریٹمنٹ کی اجازت نہیں ہوگی، کہ اس صورت میں وضو اور غسل صحیح طریقے سے ادا نہیں ہوگا، کیونکہ وضو و غسل میں پلکوں کے ہر بال کو دھونا فرض ہے۔ ہاں! اگر نفاس والی اپنے نفاس کے دنوں میں لگائے، اور اسے اپنی عادت کے اعتبارسے معلوم ہو کہ نفاس ختم ہونے سے پہلے یہ اترجائے گا، یا حیض والی حیض کے دنوں میں لگائے اور اس کی جتنےدنوں کی عادت ہے، اس کے مطابق حیض ختم ہونے سے پہلے اتر جانے کا اسے علم ہو، تووہ لگا سکتی ہیں، اسی طرح اگر اس لوشن کی تہہ نہیں بنتی کہ جو پانی نیچے سرایت کرنے سے مانع ہو، تو پھر اس میں حرج نہیں ہے، جب کہ کوئی اور شرعی خرابی نہ پائی جاتی ہو۔

امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: ’’پلک کا ہر بال پو را (دھونا فرض ہے)۔ بعض اوقات کیچڑ وغیرہ سخت ہو کر جم جاتا ہے کہ اس کے نیچے پانی نہیں بہتا، اس کا چھڑانا ضرور ہے۔“ (فتاوٰی رضویہ، جلد 1، حصہ دوم، صفحہ 598، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

اپنے ارادے سے ایسی حالت پیدا کرنا، جو وضو و غسل، اور فرض یا واجب عبادت کو اپنی شرائط کے ساتھ پورا کرنے میں رکاوٹ بنے، ناجائز و گناہ ہے، جیسا کہ ایک مسئلے سے متعلق سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں: ”اگر حقہ سے منہ کی بو متغیر ہو، بے کلی کئے منہ صاف کئے مسجد میں جانے کی اجازت نہیں۔۔ مگر جو حقہ ایسا کثیف و بے اہتمام ہو کہ معاذ اللہ تغیرِ باقی پیدا کرے کہ وقتِ جماعت تک بو زائل نہ ہو، تو قربِ جماعت میں اس کا پینا شرعاً ناجائز کہ اب وہ ترکِ جماعت و ترکِ سجدہ یا بدبو کے ساتھ دخولِ مسجد کا موجب ہو گا اور یہ ممنوع و ناجائز ہیں اور ہر مباح فی نفسہ کہ امرِ ممنوع کی طرف مؤدی ہو، ممنوع و ناروا۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 25، صفحہ 94، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5393
تاریخ اجراء: 24 ربیع الاول 1448ھ / 07 ستمبر 2026ء