logo logo
AI Search

غسل کے فرائض اور انکی تفصیل

بسم اللہ الرحمن الرحيم

غسل کے فرائض کتنے ہیں؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

غسل کے تین فرض ہیں: (1) کلی کرنا۔ (2) ناک میں پانی ڈالنا۔ (3) پورے ظاہرِ بدن پر پانی بہانا۔

یعنی منہ کے اندر ہر حصے تک اور ناک کے نرم حصے تک پانی پہنچ جائے، نیز سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کے تلووں تک جسم کے ہر ظاہر حصے اور بالوں کی جڑوں تک اس طرح پانی پہنچے کہ بدن کا کوئی حصہ بال برابر بھی خشک نہ رہ جائے۔ اگر یہ تینوں فرائض مذکورہ طریقے کے مطابق ادا ہوجائیں تو فرض غسل ادا ہوجائے گا۔

الاختیار لتعلیل المختار میں ہے: ”فرض الغسل: المضمضة، و الاستنشاق، و غسل جميع البدن“ ترجمہ: غسل کے فرض: کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، اور پورے بدن کو دھونا ہے۔ (الاختیار لتعلیل المختار، جلد 01، صفحہ 11، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

فتاوی رضویہ میں ہے: ”مذہب حنفی میں غسل کے تین فرض ہیں: کلی اور ناک میں پانی پہنچانا اور سارے بدن پر پانی ڈالنا۔ ہدایہ: فرض الغسل المضمضۃ و الا ستنشاق و غسل سائرالبدن“ غسل کے فرائض کلی کرنا، ناک میں پانی پہنچانا، اور سارے بدن پر پانی بہانا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 27، صفحہ 605، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5361
تاریخ اجراء: 05 ربیع الاول 1448ھ / 19 اگست 2026ء