قے یا الٹی آنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
قے آنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
الٹی یا قے آنے سے وضو ٹوٹنے یا نہ ٹوٹنے میں درج ذیل تفصیل ہے:
(1) اگر کھانا، پانی، صفرا (پیلے رنگ کا کڑوا پانی) یا جمے ہوئے خون کی قے آئے اور منہ بھر کر ہو تو وضو ٹوٹ جاتا ہے، اور اگر منہ بھر کر نہ ہو تو وضو نہیں ٹوٹتا۔ منہ بھر کر قے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ قے کا روکنا بغیر مشقت کے ممکن نہ ہو۔ (یاد رہے کہ ایسی قے سے جیسے وضو ٹوٹ جاتا ہے یونہی یہ قے ناپاک بھی ہے کپڑوں اور جسم کو اس سے بچانا لازم ہے اگر کہیں لگ جائے تو پھر شرعی طریقہ کار کے مطابق اس حصے کو پاک کیا جائے گا۔)
(2) اگر پتلے خون کی قے ہو اور تھوک پر غالب ہو تو اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، چاہے منہ بھر کر ہو یا نہ ہو۔
(3) اگر بلغم کی قے ہو تو اس سے وضو نہیں ٹوٹتا اگرچہ منہ بھر کر ہو۔
(4) اگر تھوڑی تھوڑی کرکے کئی دفعہ قے آئے، لیکن سب ملا کر اس کی مقدار اتنی بنتی ہے کہ اگر ایک دفعہ میں ہوتی تو منہ بھر جاتا تو اس صورت میں دیکھا جائے گا کہ اگر ایک ہی متلی (قے آنے سے پہلے طبیعت بے چین ہونے کی کیفیت، جس سے قے آنے کا احسا س ہوتا ہے) مسلسل باقی رہی اور تھوڑی تھوڑی قے ہوتی رہی تو وضو ٹوٹ جائے گا اور اگر ایک ہی متلی مسلسل نہیں رہی، بلکہ پہلی دفعہ کی متلی ختم ہوگئی اور طبیعت ٹھیک ہو گئی پھر دوبارہ متلی شروع ہوئی اور تھوڑی قے ہو گئی،پھر جب متلی ختم ہو گئی تو تیسری دفعہ پھر متلی شروع ہوکر قے ہوئی تو وضو نہیں ٹوٹا۔ البتہ اگر ایک ہی مجلس میں ایسا ہوا ہو تو وُضو کر لینا بہتر ہے۔
تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے: ”ينقض الوضوء قىء ملأفاه بأن يضبط بتكلف من مرة اي صفراء او علق أي سوداء؛ أو ماء اذا اوصل الي معدته وان لم يستقر۔ ۔ ۔ لاينقضه قيء من بلغم علي المعتمد (أصلا) و ينقضه دم مائع من جوف أو فم (غلب على بزاق) حكما للغالب( أو ساواه) احتياطاً. لاينقضه المغلوب بالبزاق و القيح كالدم و الاختلاط بالمخاط كالبزاق.و يجمع متفرق القيء و يجعل كقيء واحد لاتحاد السبب و هو الغيثان عند محمد رحمه الله وهو الأصح؛ لأن الأصل إضافة الأحكام إلى أسبابها إلا لمانع، كما بسط في الكافي“
ترجمہ: ایسی قے جو منہ بھر کر ہو، وضو توڑ دیتی ہے، خواہ وہ صفرا ہو یا علق یعنی سیاہ مادہ، یا پانی ہو، بشرطیکہ وہ معدے تک پہنچ چکا ہو، اگرچہ معدے میں ٹھہرا نہ ہو۔ بلغم کی قے سے، راجح قول کے مطابق، وضو نہیں ٹوٹتا۔ بہنے والا خون اگر معدے یا منہ سے نکلے اور لعاب پر غالب ہو تو وضو ٹوٹ جائے گا، اور اگر خون اور لعاب برابر ہوں تو بھی احتیاطاً وضو ٹوٹنے کا حکم ہوگا۔ لیکن اگر خون لعاب کے مقابلے میں کم ہو تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔ پیپ کا حکم بھی خون کی طرح ہے، جبکہ اگر خون مخاط (ناک یا حلق کے بلغم) کے ساتھ ملا ہوا ہو تو اس کا حکم لعاب کے ساتھ ملے ہوئے خون جیسا ہوگا۔ اور اگر قے تھوڑی تھوڑی کرکے کئی مرتبہ آئے تو اسے جمع کرکے ایک ہی قے شمار کیا جائے گا، کیونکہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک سب کا سبب ایک ہی ہے، یعنی غثیان (متلی)۔ یہی زیادہ صحیح قول ہے؛ کیونکہ اصول یہ ہے کہ احکام کو ان کے اسباب کے ساتھ متعلق کیا جاتا ہے، جب تک کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ اس کی تفصیل الکافی میں بیان کی گئی ہے۔ (تنویر الابصار مع الدر المختار ملتقطا، جلد 01 صفحہ 265 - 269، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
فتاوی ہندیہ میں ہے: ”(و منها القيء) لو قلس ملء فيه مرة أو طعاما أو ماء نقض والحد الصحيح في ملء الفم أن لا يمكنه إمساكه إلا بكلفة و مشقة ۔ ۔ ۔ و إن قاء ملء الفم بلغما إن نزل من الرأس لم ينتقض وإن صعد من الجوف لم ينتقض عندهما خلافا لأبي يوسف رحمه الله تعالى هذا إذا قاء بلغما صرفا ۔ ۔ ۔ و إن قاء دما إن كان سائلا نزل من الرأس ينقض اتفاقا و إن كان علقا لا ينقض اتفاقا۔ ۔ ۔ و إن قاء قليلا لو جمع يبلغ ملء الفم قال محمد رحمه الله تعالى إن اتحد السبب جمع و إلا فلا و هذا أصح كذا في المضمرات. إذا قاء ثانيا قبل سكون نفسه من الهيجان والغثيان كان السبب متحدا و إن كان بعده كان السبب مختلفا. كذا في الكافي“
ترجمہ: (وضو توڑنے والی چیزوں میں سے ایک قے بھی ہے۔) اگر ایک مرتبہ منہ بھر کر قے آئے، خواہ وہ کھانا ہو یا پانی، تو وضو ٹوٹ جائے گا۔ منہ بھرنے کی صحیح حد یہ ہے کہ قے کو منہ میں بغیر مشقت اور تکلیف کے روکنا ممکن نہ ہو۔ اگر منہ بھر کر بلغم کی قے ہو تو اگر وہ سر سے نیچے آیا ہو تو وضو نہیں ٹوٹے گا، اور اگر معدے سے اوپر آیا ہو تو بھی امام ابوحنیفہ اور امام محمد رحمہما اللہ کے نزدیک وضو نہیں ٹوٹے گا، البتہ امام ابویوسف رحمہ اللہ کا اس میں اختلاف ہے۔ یہ حکم خالص بلغم کی صورت میں ہے۔ اگر خون کی قے ہو تو اگر خون مائع (بہنے والا) ہو اور سر سے آیا ہو تو بالاتفاق وضو ٹوٹ جائے گا، جبکہ اگر جما ہوا خون (علق) ہو تو بالاتفاق وضو نہیں ٹوٹے گا۔ اور اگر تھوڑی تھوڑی قے آئے، جسے جمع کرنے سے وہ منہ بھرنے کے برابر ہوجائے، تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر سب قے کی وجہ ایک ہی ہو تو انہیں جمع کیا جائے گا، ورنہ نہیں۔ یہی زیادہ صحیح قول ہے۔ اگر پہلی قے کے بعد متلی اور طبیعت کا ہیجان ختم ہونے سے پہلے دوبارہ قے ہوگئی تو دونوں قے کی وجہ ایک ہی شمار ہوگی، اس لیے انہیں جمع کیا جائے گا۔ لیکن اگر پہلی قے کے بعد متلی اور ہیجان ختم ہوگیا، طبیعت ٹھیک ہوگئی، پھر دوبارہ متلی شروع ہوئی اور قے آئی تو دونوں کی وجہ الگ شمار ہوگی، اس لیے انہیں جمع نہیں کیا جائے گا۔(فتاوی ہندیہ، کتاب الطھارۃ، فصل فی نواقض الوضوء، ج 1، ص 11،دار الفکر، بیروت)
بہار شریعت میں ہے: ”مونھ بھر قے کھانے یا پانی یا صفرا کی وُضو توڑ دیتی ہے۔ فائدہ: مونھ بَھر کے یہ معنے ہیں کہ اسے بے تکلّف نہ روک سکتا ہو۔ بلغم کی قے وُضو نہیں توڑتی جتنی بھی ہو۔ بہتے خون کی قے وُضو توڑ دیتی ہے جب تھوک سے مغلوب نہ ہو اور جما ہوا خون ہے تو وُضو نہیں جائے گا جب تک مونھ بھر نہ ہو۔ ۔ ۔ اگر تھوڑی تھوڑی چند بار قے آئی کہ اس کا مجموعہ مونھ بھر ہے تو اگر ایک ہی متلی سے ہے تو وُضو توڑدے گی اور اگر متلی جاتی رہی اور اس کا کوئی اثر نہ رہا پھر نئے سرے سے متلی شروع ہوئی اور قے آئی اور دونوں مرتبہ کی علیٰحدہ علیٰحدہ مونھ بھر نہیں مگر دونوں جمع کی جائیں تو مونھ بھر ہو جائے تو یہ ناقضِ وُضو نہیں، پھر اگر ایک ہی مجلس میں ہے تو وُضو کر لینا بہتر ہے۔“ (بہار شریعت، جلد 01، صفحہ 307، 306، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5385
تاریخ اجراء: 04 ربیع الاول 1448ھ / 18 اگست 2026ء