logo logo
AI Search

شاور یا نل کے نیچے غسل کرنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

شاور، نل یا ٹونٹی کے نیچے غسل کرنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

غسل کے لیے کسی خاص برتن مثلاً لوٹا، بالٹی یا مگ وغیرہ کا استعمال ضروری نہیں ہے، بلکہ شاور، نل یا ٹونٹی کے نیچے کھڑے ہو کر بھی غسل کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ غسل کے تمام فرائض مکمل طور پر ادا کیے جائیں۔ غسل کے تین فرض ہیں: (1)کلی کرنا۔ (2) ناک میں پانی ڈالنا۔ (3) پورے ظاہرِ بدن پر پانی بہانا۔ یعنی منہ کے اندر ہر حصے تک اور ناک کے نرم حصے تک پانی پہنچ جائے، نیز سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کے تلووں تک جسم کے ہر ظاہر حصے اور بالوں کی جڑوں تک اس طرح پانی پہنچے کہ بدن کا کوئی حصہ بال برابر بھی خشک نہ رہ جائے، بالخصوص شاور یا نل کے نیچے کھڑے ہو کر غسل کرتے ہوئے ٹانگوں کے بیچ کی جگہ کو اچھی طرح دھو لیا جائے کہ کوئی حصہ خشک یا پانی پہنچنے سے نہ رہ جائے۔ اگر یہ تینوں فرائض مذکورہ طریقے کے مطابق ادا ہوجائیں تو فرض غسل ادا ہوجائے گا۔ تاہم، غسل کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے اس طرح نیت کی جائے کہ میں پاکی حاصل کرنے کے لیے غسل کرتا ہوں۔ پھر پہلے دونوں ہاتھ پہنچوں تک تین تین بار دھوئیں، پھر استنجے کی جگہ دھوئیں، خواہ نجاست ہو یا نہ ہو۔ پھر جسم پر اگر کہیں نجاست ہو تو اس کو دور کریں۔ پھر نماز کا سا وضو کریں۔ اگر پاؤں رکھنے کی جگہ پر پانی جمع ہے تو پاؤں نہ دھوئیں، اور اگر سخت زمین ہے، جیسا کہ آج کل عموماً غسل خانوں کی ہوتی ہے، یا چوکی وغیرہ پر غسل کر رہے ہیں تو پاؤں بھی دھو لیں۔ پھر بدن پر تیل کی طرح پانی چُپَڑ لیں، خصوصاً سردیوں میں۔ پھر تین بار سیدھے کندھے پر پانی بہائیں، پھر تین بار الٹے کندھے پر، پھر سر پر اور تمام بدن پر تین بار پانی بہائیں۔ پھر غسل کی جگہ سے الگ ہو جائیں۔ اگر وضو کرنے میں پاؤں نہیں دھوئے تھے تو اب دھو لیں۔

فتاوی عالمگیری میں ہے: ”(الفصل الأول في فرائضه) و هي ثلاثة: المضمضة والاستنشاق وغسل جميع البدن على ما في المتون“ ترجمہ: (پہلی فصل: غسل کے فرائض کے بیان میں) غسل کے فرائض تین ہیں: کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، اور پورے بدن کو دھونا، جیسا کہ متون میں بیان کیا گیا ہے۔ (فتاوی عالمگیری، الباب الثانی فی الغسل، جلد 01، صفحہ 13، دار الفكر)

فتاوی رضویہ میں ہے: ”مذہب حنفی میں غسل کے تین فرض ہیں: کلی اور ناک میں پانی پہنچانا اور سارے بدن پر پانی ڈالنا۔ ہدایہ: فرض الغسل المضمضۃ و الا ستنشاق و غسل سائرالبدن“ غسل کے فرائض کلی کرنا، ناک میں پانی پہنچانا، اور سارے بدن پر پانی بہانا۔ (فتاوی رضویہ،جلد 27، صفحہ 605، رضا فاؤنڈیشن، لاہور(

فتاوی عالمگیری میں پورے جسم پر پانی بہانے کا سنت طریقہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”و کیفیۃ الافاضۃ ان یفیض الماء علی منکبہ الایمن ثلاثا ثم الایسر ثلاثا ثم علی راسہ و سائر جسدہ ثلاثا کذا فی معراج الدرایۃ“ ترجمہ: اور پانی بہانے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے دائیں کندھے پر تین مرتبہ، پھر بائیں کندھے پر تین مرتبہ، اس کے بعد سر اور پورے جسم پر تین مرتبہ پانی بہائے۔ جیسا کہ معراج الدرایہ میں مذکور ہے۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 1، صفحہ 14، مطبوعہ دار الفکر)

بہارِ شریعت میں غسل کی سنتیں بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”تین مرتبہ دہنے مونڈھے پر پانی بہائے پھر بائیں مونڈھے پر تین بار پھر سر پر اور تمام بدن پر تین بار۔“ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 319، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5362
تاریخ اجراء: 06 ربیع الاول 1448ھ / 20 اگست 2026ء