بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہوا خارج کرنے کے بعد استنجا کرنا لازمی ہوتا ہے؟ کیا بغیر اس کے نماز نہیں پڑھ سکتے؟
پچھلے مقام سے ہوا خارج ہو تو وضو ٹوٹ جاتا ہے، لیکن جب اس کے ساتھ کوئی نجاست نہ نکلے تو استنجا کرنے کی ضرورت نہیں، نماز کے لیے صرف نیا وضو کر لینا کافی ہے۔ اس صورت میں استنجا کرنے کو لازمی جاننا غلط ہے؛ کیونکہ محض ہوا خارج ہونے کی وجہ سے استنجا کرنا سنت نہیں، بلکہ بدعت ہے۔
رئیس العلماء علامہ محمد عابد بن احمد سندھی مدنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1257ھ / 1841ء) لکھتے ہیں:
فلا يسن الاستنجاء من ريح خارج من الدبر بغير بلل فان عينها طاهرة وإنما نقضت لانبعاثها من موضع النجاسة والاستنجاء منها بدعة
ترجمہ: بغیر کسی تری کے پیچھے کے مقام سے خارج ہونے والی ہوا کی وجہ سے استنجا کرنا سنت نہیں؛ کیونکہ اس کا عین پاک ہے اور یہ صرف وضو توڑتی ہے اس لیے کہ یہ نجاست کے مقام سے اٹھتی ہے، اور ہوا خارج ہونے کی وجہ سے استنجا کرنا بدعت ہے۔(طوالع الأنوار شرح الدر المختار، کتاب الطهارة، باب الاستنجاء، جلد 1، صفحه 401، مخطوطه)
علامہ ابو الخیر مفتی محمد نور اللہ نعیمی بصیر پوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1403ھ /1983ء) لکھتے ہیں: ہوا سے جسم آلودہ نہیں ہوتا، لہذا استنجا کی ضرورت نہیں اور شلوار دھونی بھی ضروری نہیں۔ (فتاوی نوریہ، جلد 1، صفحہ 125، فقیہ اعظم پبلی کیشنز بصیر پور، اوکاڑہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-969
تاریخ اجراء: 07 جمادى الاولى 1447ھ / 30 اکتوبر 2025ء