logo logo
AI Search

کیا احرام باندھتے وقت وضو کا ہونا ضروری ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

احرام کی نیت کے وقت وضو ہونا ضروری ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ ہم عمرے کے لیے روانگی کے وقت گھر سے ہی غسل وغیرہ کر کے احرام کی چادریں پہن لیتے ہیں، لیکن ابھی عمرے کی نیت سے تلبیہ نہیں کہتے، بلکہ جب جدہ آنے والا ہو تو میقات سے پہلے فلائٹ کے دوران تلبیہ کہتے ہیں، بعض اوقات اس دوران وضو برقرا رنہیں رہتا، تو کیا بغیر وضو بھی احرام باندھ سکتے ہیں؟

جواب

باوضو ہونا احرام کے لیے ضروری نہیں، اگر کوئی بغیر وضو بھی عمرے کی نیت سے تلبیہ کہے تو اس کا احرام اور پابندیاں شروع ہوجاتی ہیں، البتہ وضو کی اہمیت و فضائل بے شمار ہیں حتی کہ ہر وقت باوضو رہنا مستحب ہے، پھر جبکہ سفر بیت اللہ شریف کا ہو تو اس کا خاص اہتمام ہونا چاہیے کہ حتی المقدور باوضو رہا جائے، خصوصاً احرام یعنی عمرے یا حج کی نیت سے تلبیہ کہتے وقت باوضو ہونا، جداگانہ سنت ہے۔

المناسک لملا علی قاری میں ہے:

(و الغسل) و ھو سنۃ للاحرام مطلقاً (أو الوضو) أی فی النیابۃ عنہ

ترجمہ: احرام کےلیے غسل کرنا یا اس کی جگہ وضو کرنا علی الاطلاق سنت ہے۔ (ارشاد الساری الی مناسک الملا علی قاری، صفحہ 127، المکتبۃ الامدادیہ، مکۃ المکرمۃ)

بنایہ، نہر الفائق، طحطاوی علی مراقی الفلاح اور درمختار میں ہے،

و اللفظ للآخر: و شرط لنيل السنة أن يحرم و هو على طهارته

ترجمہ: اس سنت کےحصول کےلیے شرط ہےکہ احرام طہارت کی حالت میں ہو۔

و ھو علی طھارتہ

کے تحت جد الممتار میں ہے:

من کلا الحدثین

ترجمہ: یعنی حدث اکبر و اصغر دونوں سے (پاک ہو)۔ (جد الممتار، جلد 4، صفحہ 303، مکتبۃ المدینہ)

رد المحتار میں ہے:

لأنه إنما شرع للاحرام حتى لو اغتسل فأحدث ثم أحرم فتوضأ لم ينل فضله

ترجمہ: کیونکہ یہ طہارت احرام کے لیے مشروع ہوئی ہے حتی کہ اگر کسی نے غسل کیا پھر وضو ٹوٹ گیا، تو اس نے احرام باندھ کر پھر وضو کیا اسے اس سنت کی فضیلت حاصل نہیں ہوگی۔ (در مختار مع رد المحتار، جلد 2، صفحہ 481، دار الفکر)

بہار شریعت میں ہے: جب وہ جگہ قریب آئے، مسواک کریں اور وضو کریں اور خوب مَل کر نہائیں، نہ نہا سکیں تو صرف وضو کریں یہاں تک کہ حیض و نفاس والی اور بچے بھی نہائیں اور باطہارت احرام باندھیں یہاں تک کہ اگر غسل کیا پھر بے وضو ہوگیا اور احرام باندھ کر وضو کیا تو فضیلت کا ثواب نہیں۔ (بھار شریعت، حصہ 6، صفحہ 1071، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0456
تاریخ اجراء: 11 ربیع الثانی1446ھ / 14 نومبر 2024ء