logo logo
AI Search

استنجاء کا یقین اور وضو میں شک ہو تو نماز پڑھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

استنجاء کا یقین اور طہارت میں شک ہو، تو پڑھی گئی نماز کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے جماعت سے تقریباً 1 گھنٹہ قبل استنجاء کیا، اس کے بعد وضو کِیا یا نہیں؟ یہ زید کو یاد نہیں، لہذا زید اسی حالت میں جماعت میں شامل ہوگیا اور دورانِ نماز بھی اُسے یہی شک رہا کہ اُس نے وضو کیا تھا یا نہیں۔ آپ سے معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا اس صورت میں زید کی نماز درست ادا ہوگئی؟

جواب

کوئی شخص بے وضو تھا اُسے اس بات میں شک ہو کہ میں نے وضو کیا ہے یا نہیں؟ تو وہ بے وضو ہی شمار ہوگا کہ یہاں حدث کا یقین ہے اور طہارت میں شک ہےجبکہ یقین شک سے زائل نہیں ہوتا، لہذا صورتِ مسئولہ میں زید نے جو نماز ادا کی وہ بغیر طہارت کے ادا ہوئی، اُس نماز کو دوبارہ سے ادا کرنا زید کے ذمے پر لازم ہے، کیونکہ طہارت نماز کی بنیادی شرط ہے اس کے بغیر اصلاً ہی نماز ادا نہیں ہوتی۔

حدث کا یقین ہو اور طہارت میں شک ہو تو وہ یقینی طور پر حدث کی حالت میں ہے۔ جیسا کہ بدائع الصنائع میں ہے:

و من أيقن بالطهارة و شك في الحدث فهو على الطهارة، و من أيقن بالحدث و شك في الطهارة فهو على الحدث، لأن اليقين لا يبطل بالشك۔

یعنی جسے طہارت کا یقین ہو مگر حدث واقع ہونے میں شک اور تردد ہو تو وہ باوضو ہی ہے۔ جسے حدث کا یقین ہو مگر وضو کرنے میں شک ہو تو وہ حدث ہی کی حالت میں ہے کہ یقین شک سے باطل نہیں ہوتا۔ (بدائع الصنائع، کتاب الطھارۃ، ج 01، ص 33، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

بہارِ شریعت میں ہے: اگر بے وُضو تھا اب اسے شک ہے کہ میں نے وُضو کیا یا نہیں تو وہ بلا وُضو ہے، اس کو وُضو کرنا ضرور ی ہے۔ (بہار شریعت، ج 01، حصہ 02، ص 311، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

طہارت نماز کی بنیادی شرط ہے، بغیر طہارت کے اصلاً نماز ادا نہیں ہوتی۔ جیسا کہ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی میں ہے:

الحدث۔۔۔ فی الشرع ما یوجب الغسل او الوضوء۔۔۔۔ اما طھارۃ من الحدث قدمھا لکونھا اھم الشروط و اکدھا حتی انہ لا تسقط بحال و لا یجوز الصلوۃ بدونھا اصلاً۔

یعنی شریعت میں حدث سے مراد وہ چیز ہے جو غسل یا وضو کو واجب کردے۔۔۔۔ بہر حال حدث سے پاکی حاصل ہونے کو ہم نے دیگر شرائط پر مقدم رکھا ہے کیونکہ یہ شرط دیگر شرائط سے اہم اور زیادہ تاکید والی ہے یہاں تک کہ یہ کسی بھی حالت میں ساقط نہیں ہوتی اور بغیر طہارت کے نماز اصلاً ہی جائز نہیں ہوتی۔ (غنیۃ المستملی، شرائط الصلوۃ و فرائضھا، ج 1، ص 45 - 47، مطبوعہ بیروت، ملتقطاً)

بہارِ شریعت میں ہے: نماز کے لیے طہارت ایسی ضروری چیزہے کہ بے اس کے نماز ہوتی ہی نہیں۔ (بہار شریعت، ج 01، حصہ 02، ص 282، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Nor-13814
تاریخ اجراء: 05 ذیقعدۃ الحرام 1446ھ / 03مئی 2025 ء