logo logo
AI Search

کتا بالٹی میں موجود پانی پی لے تو کیا وہ پانی پاک ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کتے نے بالٹی میں سے پانی پی لیا تو پانی پاک ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کتےنے اُس بالٹی میں سے پانی پی لیا جس میں تولیہ دھلنے کے لیے رکھا ہوا تھا، تو کیا اس صورت میں وہ تولیہ ناپاک ہوجائے گا؟

جواب

کتے کا جھوٹاچونکہ  ناپاک ہوتا ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں جب کتے نے بالٹی میں سے پانی پیا تو بالٹی کا پانی اور اس میں موجود تولیہ ناپاک ہوگیا، اب شرعی تقاضوں کے مطابق بالٹی کے پانی اور تولیے کو پاک کرنا ہوگا۔

کتے کا جھوٹا ناپاک ہے۔ جیسا کہ  بدائع الصنائع میں ہے:

سؤر الخنزير والكلب وسائر سباع الوحش، فإنه نجس عند عامة العلماء۔۔۔۔۔۔ ولنا ما روي عن النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه قال: «إذا ولغ الكلب في إناء أحدكم فاغسلوه ثلاثا، وفي رواية خمسا، وفي رواية سبعا» والأمر بالغسل لم يكن تعبدا، إذ لا قربة تحصل بغسل الأواني؛ ألا ترى أنه لو لم يقصد صب الماء فيه في المستقبل لا يلزمه الغسل، فعلم أنه لنجاسته؛ ولأن سؤر هذه الحيوانات متحلب من لحومها، ولحومها نجسة ويمكن التحرز عن سؤرها وصيانة الأواني عنها؛ فيكون نجسا ضرورةً۔ “

یعنی خنزیر، کتا اور دیگر درندوں کا جھوٹا اکثر علماء کے نزدیک ناپاک ہے۔۔۔۔ہمارے نزدیک اس ناپاک ہونے کی دلیل حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی یہ حدیث ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں منہ ڈالے تو اس برتن کو  تین بار دھوؤ، ایک روایت میں پانچ بار، جبکہ ایک دوسری روایت میں سات مرتبہ دھونے کا بھی ذکر ہے۔ یہاں برتن کو دھونے کاجو حکم دیا گیا ہے یہ محض عبادت نہیں ہے، کیونکہ فقط برتن دھونے سے تو کوئی قربت حاصل نہیں ہوتی۔ کیا تو نہیں دیکھتا کہ اگر وہ شخص اُس برتن میں دوبارہ  پانی ڈالنے کا ارادہ ہی نہ کرے تو اُس پر وہ برتن دھونا لازم نہیں ہوگا،معلوم ہوا کہ برتن کودھونے کا حکم کتے کا جھوٹا ناپاک ہونے  کی وجہ سے ہے۔ اور اس وجہ سے بھی کہ ان جانوروں کا جھوٹا دراصل ان کے جسم سے خارج شدہ لعاب ہوتا ہے جو کہ گوشت سے بنتا ہے، جبکہ ان کا گوشت ناپاک ہوتا ہے تو ان کا جھوٹا بھی ناپاک ہوگا۔ اور ان جانوروں کے جھوٹے سے بچنا اور برتنوں کو ان سے محفوظ رکھنا ممکن ہے، لہذا  لازمی طور پر ان کا جھوٹاناپاک ہوگا۔ (بدائع الصنائع ، کتاب الطھارۃ،ج01،ص64، دار الكتب العلمية، بیروت، ملتقطاً)

بہارِ شریعت میں ہے:” کتا بدن یا کپڑے سے چھو جائے، تو اگر چہ اس کا جسم تر ہو ، بدن اور کپڑا پاک ہے، ہاں اگر اس کے بدن پر نجاست لگی ہو تو اور بات ہے یا اس کا لعاب لگے تو ناپاک کردے گا۔“(بہارِ شریعت،ج01،حصہ02،ص395، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب:ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی

فتوی نمبر:Nor-13847

تاریخ اجراء:29ذوالقعدۃ الحرام1446ھ/27مئی2025ء