
دار الافتاء اھلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر پانی کی لائن سے بدبو والا پانی آرہا ہو کہ دور سے گٹر کی طرح کی اور ناک میں لینے سے کچھ الگ طرح کی بدبو آرہی ہو اور پانی گدلا بھی ہو۔ پھر دوسرے دن صاف پانی آیا ہو، تو جو بدبو والا پانی آیا اس کا کیا حکم ہوگا؟ بدبو والا پانی ٹینکی میں اسٹور رہا اور استعمال بھی ہوتا رہا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پانی میں بدبوآنا یا رنگ بدلنا، پانی کے ناپاک ہونے پر ہی دلیل نہیں ہوتا کہ بدبو آنے، یا ذائقہ اور رنگ بدلنے کی کئی اور وجوہات بھی ہوسکتی ہیں جیسے بعض دفعہ پانی میں کسی پاک چیز کے سڑ جانے، یا کئی دنوں تک پانی کے اسٹور (محفوظ) رہنے یا جراثیم کش کیمیکل کے ملنے سے بھی پانی میں بدبو آتی اور رنگ گدلا ہوجایا کرتا ہے۔ لہذا اگر یقین یا غالب گمان نہ ہو کہ بدبو کسی نجاست کے ملنے کی وجہ سے آرہی تھی تو صرف شک کی وجہ سے ایسا پانی ناپاک نہیں ہوگا، اس صورت میں اس کا استعمال شرعاً جائز ہوا، ہاں البتہ اگر کسی کی شرعا معتبر خبردینے یا نجاست کے ذرات نظر آنے کے ذریعے یقین یا غالب گمان سے معلوم تھا کہ یہ بدبو آنا نجاست کے ملنے کی وجہ سے ہی ہے، تو اب اس صورت میں اس پانی کا استعمال کرنا جائز نہیں تھا۔
اگر پانی کے اوصاف رنگ، بو، ذائقہ کی تبدیلی کا سبب نجس چیز ہونا معلوم ہو تو پانی ناپاک ہوگا،ورنہ اگرشک ہو تو پانی پاک ہی کہلائے گا، چنانچہ در مختار میں ہے:
(و بتغیر احد أوصافہ) من لون أو طعم أو ریح (ینجس) الکثیر۔۔۔ أما القلیل فینجس و ان لم یتغیر بنجس (لا لو تغیر ب) طول (مکث) فلو علم نتنہ بنجاسۃ لم یجز، و لو شک فالاصل الطھارۃ
ترجمہ: اور پانی کے اوصاف یعنی رنگ یا ذائقہ یا بو میں سے ایک وصف کی تبدیلی سے کثیر پانی نجس ہو جائے گا۔۔۔ رہا قلیل پانی، تو وہ ناپاک ہو جاتا ہے اگرچہ اس کا کوئی وصف تبدیل نہ ہو۔ (اور نجاست کی وجہ سے اوصاف کی تبدیلی سے پانی ناپاک ہوتا ہے) نہ کہ دیر تک پانی کے ٹھہرے رہنے کے سبب ہونے والی تبدیلی سے، لہذا اگر پانی کی بدبو کا نجاست کی وجہ سے ہونا معلوم ہوجائے تو اس کا استعمال جائز نہیں ہوگا، اور اگر شک ہو (کہ بدبو نجاست کی وجہ سے ہے یا نہیں) تو اصل طہارت ہی کا حکم ہوگا (یعنی پانی پاک سمجھا جائے گا)۔ (تنویر الابصار مع در مختار، جلد 1، صفحہ 367، 368، دار المعرفۃ، بیروت)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
يجوز التوضؤ في الحوض الكبير المنتن إذا لم تعلم نجاسته. كذا في فتاوى قاضي خان
ترجمہ: بڑے بدبو دار حوض میں وضو کرنا جائز ہے جب تک کہ اس کی نجاست معلوم نہ ہو، ایسا ہی فتاویٰ قاضی خان میں ہے۔ (الفتاوی الھندیۃ، جلد 1، صفحہ 18، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فتاوی رضویہ میں لکھتےہیں: ’’دہ دردہ پانی کا رنگ یا بُو یا ذائقہ اگر نجاست ملنے کے سبب بدل جائے تو ضرور ناپاک ہوجائے گا اور پاک چیزوں کے سڑنے یا بہت دن گزرنے سے تینوں وصف بدل جائیں تو کچھ حرج نہیں اور تحقیق نہ ہوکہ یہ تغیر کس وجہ سے ہے تو حکمِ جواز ہے‘‘۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 4، صفحہ 333، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
فتاوی رضویہ میں ہی ایک مقام پر لکھتےہیں: ”رنگ یا بُو یا مزہ اگر کسی پاک چیز کے گرنے یا زیادہ دیر ٹھہرنے سے بدلے تو پانی خراب نہیں ہوتا۔ ہاں نجاست کی وجہ سے تغیر آجائے، تو نجس ہوگا اگرچہ کتنا ہی کثیر کیوں نہ ہو۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد 3، صفحہ 250، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
فتاوی رضویہ ہی میں ہے: ’’شرع مطہر میں مدار نجاست ،علم پر ہے اور مدار طہارت، نامعلومی نجاست پر۔ جس چیز کی نجاست معلوم نہیں وہ پاک ہے‘‘۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 3، صفحہ 272، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-825
تاریخ اجراء: 21 محرم الحرام 1447ھ / 17 جولائی 2025ء