وضو میں موزوں پر مسح بھول جائے تو بعد میں کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وضو میں فوراً موزوں پر مسح کرنا بھول گیا اور بعد میں کیا تو کیا حکم ہے ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے فجر کے وقت وضو کیا اور اس دوران باقی تمام اعضاء تو دھو لیے، لیکن موزوں پر مسح کرنا بھول گیا۔ وضو سے فارغ ہو کر جب کچھ دیر گزر گئی، تو اسے یاد آیا کہ موزوں پر مسح کرنا تو رہ گیا ہے۔ اس نے اسی وقت دوبارہ وضو کیے بغیر صرف موزوں پر مسح کر لیا۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا اتنی دیر کے وقفے کے بعد موزوں پر مسح کر لینا شرعاً درست تھا اور کیا اس کا وضو مکمل ہو گیا یا اسے دوبارہ نئے سرے سے پورا وضو کرنا ضروری تھا؟
جواب
اگر کوئی شخص وضو کرے اور موزوں پر مسح بھول جائے، پھر کچھ دیر بعد اُسے یاد آئے کہ مسح نہیں کیا تھا، تو اُسے حکم ہے کہ اب مسح کر لے، دوبارہ سے مکمل وضو کرنے کی حاجت نہیں مگر یہ ضروری ہے کہ وضو اور موزوں پر مسح کے درمیانی وقت میں کوئی حدث لاحق نہ ہوا ہو، ورنہ مکمل وضو کرنا ہی ضروری ہوگا۔
کچھ وقت گزرنے کے باوجود محض مسح کر لینے اور مکمل وضو نہ دہرانے کی وجہ یہ ہے کہ افعالِ وضو میں موالات یعنی پے در پے اعضاء دھونا سنتِ مؤکدہ ہے اور بلا عذر موالات چھوڑنا مکروہ و ممنوع ہے، ہاں اگر عذر ہو، مثلاً برتن میں پانی ختم ہو گیا یا برتن اُلٹا اور پانی گر گیا یا وضو کرنے والاکوئی عضو دھونا بھول گیا اور کچھ وقت گزر گیا، تو اِس نوعیت کے اعذار کے سبب موالات کی سنت چھوٹ گئی، تو حکم کراہت نہیں ہے۔
ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے وضو کیا اور موزوں پر مسح نہیں کیا، پھر جب مسجد گئے تو موزوں پر مسح کیا، چنانچہ مؤطا امام مالک بروایۃ محمد بن الحسن الشیبانی میں ہے:
أن ابن عمر۔۔۔ توضأ فغسل وجهه و يديه، و مسح برأسه، ثم دعي لجنازة حين دخل المسجد ليصلي عليه، فمسح على خفيه ثم صلى۔
ترجمہ: ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے وضو کیا تو اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے اور سر کا مسح کیا، پھر جب وہ مسجد میں داخل ہوئے تو انہیں نمازِ جنازہ پڑھانے کے لیے بلایا گیا، تو انہوں نے اپنے موزوں پر مسح کیا اور پھر نماز پڑھائی۔ (مؤطا امام مالک بروایۃ محمد بن الحسن الشیبانی، باب المسح علي الخفين، صفحہ 44، مطبوعۃ المکتبۃ العلمیۃ)
موالات یعنی پے در پے کا معیار کیا ہے، نیز اِس کی سنیت کے متعلق ”فتاوٰی عالَم گیری“ میں ہے:
(و منها الموالاة) و هي التتابع وَحَدُّه أن لايجف الماء على العضو قبل أن يغسل ما بعده في زمان معتدل و لا اعتبار بشدة الحر و الرياح و لا شدة البرد و يعتبر أيضا استواء حالة المتوضئ كذا في الجوهرة النيرة۔
ترجمہ: وضو کی سنتوں میں سے موالات بھی ہے، جس کا مطلب ہے پے در پے وضو کے افعال ادا کرنا۔ اس کی حد یہ ہے کہ معتدل موسم میں پہلا عضو خشک ہونے سے پہلے اُس کے بعد والا عضو دھو لیا جائے۔ اس خشک ہونے کی مدت کا اندازہ کرنے میں نہ تو سخت گرمی اور تیز ہوا کا اعتبار کیا جائے گا اور نہ ہی شدید سردی کا، بلکہ معتدل موسم کا لحاظ ہوگا۔ یونہی وضو کرنے والے کی اپنی جسمانی حالت کے معتدل ہونے کا بھی اعتبار کیا جائے گا۔جیسا کہ الجوہرۃ النیرۃ میں ہے۔ (الفتاوى الھندیۃ، جلد 01، صفحہ 08، مطبوعہ کوئٹہ)
موالات سنتِ مؤکدہ ہے، چنانچہ فتح باب العنایۃ بشرح النقایۃ میں ہے:
أن بعض سنن الوضوء مما لم يثبت أنه عليه الصلاة و السلام تركه أصلا كالترتيب، و الولاء، و التيامن، و كذا النية۔
ترجمہ: وضو کی بعض سنتیں ایسی ہیں کہ جن کے بارے میں یہ اصلاً ثابت نہیں کہ آپ ﷺ نے انہیں کبھی چھوڑا ہو، جیسے ترتیب، موالات (اعضاء کو پے در پے دھونا)، دائیں طرف سے شروع کرنا اور اسی طرح نیت۔ (فتح باب العنایۃ بشرح النقایۃ، جلد 1، صفحہ 46، مطبوعہ دار ارقم)
بلاعذر ولاء ترک کرنا مکروہ ہے، البتہ اگر عذر ہو، تو مکروہ نہیں، چنانچہ علامہ زَبِیدی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 800ھ / 1397ء) لکھتےہیں:
إنما يكره التفريق في الوضوء إذا كان لغير عذر أما إذا كان لعذر؛ فرغ ماء الوضوء أو انقلب الإناء فذهب لطلب الماء أو ما أشبه ذلك فلا بأس بالتفريق على الصحيح۔
ترجمہ: وضو کے افعال میں فاصلہ کرنا صرف اُس صورت میں مکروہ ہے، جب یہ کسی عذر کے بغیر ہو، البتہ جب اگر کسی عذر کی وجہ سے ہو، مثلاً وضو کا پانی ختم ہو جائے یا برتن الٹ جائے اور وہ پانی لینے چلا جائے یا اس جیسی کوئی اور صورت پیش آ جائے، تو صحیح قول کے مطابق اعضاء دھوتے ہوئے فاصلہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ (الجوھرۃ النیرۃ، جلد 01، صفحہ 07، مطبوعہ المطبعة الخيرية)
کسی عضو کا دھونا بھول جانا بھی ولاء ترک ہونے کا عذر ہے، لہذا یہاں حکمِ کراہت بھی نہیں ہوگا، چنانچہ صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1367ھ / 1947ء) لکھتے ہیں: پے در پے دھونا بھی سنت ہے۔ در مختار بیان سنن وضوء میں ہے:
الترتیب و الولاء بكسر الواو غسل المتاخر او مسحه قبل جفاف الأول بلا عذر حتى لو فني ماءها فمضى بطلبه لا باس به و مثله الغسل و التیمم۔
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ ولاء کی سنیت اس وقت ہے جب عذر نہ ہو اور اگر کسی عذر سے پے در پے نہ کیا تو خلاف سنت نہیں۔ اور ظاہر ہے کہ بھولنا بھی عذر ہے۔ (فتاوٰی امجدیہ، جلد 01، صفحہ 05، مطبوعہ مکتبہ رضویہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9721
تاریخ اجراء: 20 رجب المرجب 1447ھ / 10 جنوری 2026ء