سولر پلیٹ کے ذریعے گرم کئے گئے پانی سے وضو کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سولر پلیٹ کے ذریعے گرم کئے گئے پانی سے وضو کرنے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اِس بارے میں کہ کسی آلے مثلاً سولر پلیٹ کے ذریعے گرم کئے گئے پانی سے، وضو کرنا درست ہے؟ اور کیا اِس سے کوئی بیماری لگتی ہے؟

جواب

جو پانی گرم ملک میں گرم موسم میں سونے چاندی کے علاوہ کسی اور دھات کے برتن میں دھوپ سے گرم ہو جائے، تو جب تک گرم رہے، اُس سے وضو و غسل نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس سے برص کی بیماری لگنے کا اندیشہ ہے، جبکہ کسی آلے کے ذریعے گرم کئے گئے پانی سے وضو کرنے کے حوالے سے ایسا کہیں مذکور نہیں، لہذا اس سے وضوکرنا بلا کراہت جائز ہے اور ایسے پانی کا استعمال نقصان دہ بھی نہیں ہے۔

رد المحتار میں ہے

قال ابن حجر: و استعماله يخشى منه البرص كما صح عن عمر رضي اللہ عنه۔۔۔ و ذكر شروط كراهته عندهم، و هي أن يكون بقطر حار وقت الحر في إناء منطبع غير نقد، و أن يستعمل و هو حار. أقول: و قد منا في مندوبات الوضوء عن الإمداد أن منها أن لا يكون بماء مشمس، و به صرح في الحلية مستدلا بما صح عن عمر من النهي عنه؛ ولذا صرح في الفتح بكراهته، و مثله في البحر و قال في معراج الدراية و في القنية: و تكره الطهارة بالمشمس، «لقوله صلى الله عليه و سلم لعائشة رضي الله عنها حين سخنت الماء بالشمس: لا تفعلي يا حميراء، فإنه يورث البرص» و عن عمر مثله۔۔۔ وفي الغاية: و كره بالمشمس في قطر حار في أوان منطبعة، و اعتبار القصد ضعيف، و عدمه غير مؤثر اهـ ما في المعراج، فقد علمت أن المتعمد الكراهة عندنا لصحة الأثر۔۔۔. و الظاهر أنها تنزيهية عندنا أيضا، بدليل عده في المندوبات

ترجمہ: ابنِ حجر رحمہ اللہ نے فرمایا: اس (دھوپ میں گرم ہوئے پانی) کے استعمال سے برص (کوڑھ) کا اندیشہ ہے، جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے صحیح طور پر منقول ہے۔ اور ان کے نزدیک اس کے مکروہ ہونے کی چند شرطیں ذکر کی گئی ہیں، اور وہ یہ ہیں: یہ پانی گرم علاقے میں، گرمی کے وقت، ایسے برتن میں ہو جو سونا چاندی کے علاوہ سے بنا ہو، اور اسے اسی حالت میں استعمال کیا جائے کہ وہ گرم ہو۔ میں کہتا ہوں: ہم نے وضو کے مستحبات کے بیان میں امداد کے حوالے سے یہ بات پہلے ذکر کر دی ہے کہ وضو کا پانی دھوپ میں گرم کیا ہوا نہ ہو۔ اور حلیہ میں بھی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے صحیح روایت موجوممانعت سے استدلال کرتے ہوئے، اسی کی صراحت کی گئی ہے، اسی وجہ سے فتح القدیر میں اس کے مکروہ ہونے کی صراحت کی گئی ہے، اور اسی کی مثل بحر میں ہے۔ اور معراج الدرایۃ میں فرمایا: قنیہ میں ہے: دھوپ میں گرم کیے ہوئے پانی سے طہارت مکروہ ہے، اس حدیث کی بنا پر کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے فرمایا، جب انہوں نے پانی دھوپ میں گرم کیا: ”اے حمیرا! ایسا نہ کرو، کیونکہ یہ برص پیدا کرتا ہے۔ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی اسی کی مثل روایت ہے۔ اور غایہ میں ہے: گرم علاقے میں، دھوپ میں گرم کیے ہوئے پانی سے، ایسے برتنوں میں جو دھات کے بنے ہوں، طہارت مکروہ ہے۔ اور قصد کا اعتبار ضعیف ہے، اور قصد نہ ہونا مؤثر نہیں ہے۔ معراج کی عبارت ختم ہوئی۔ پس تم جان چکے کہ ہمارے نزدیک معتمد کراہت ہے، کیونکہ اس بارے میں اثر صحیح ہے۔ اور ظاہر یہ ہے کہ ہمارے نزدیک بھی یہ کراہت تنزیہی ہے، اس دلیل سے کہ فقہاء نے اسے وضو کے مستحبات میں شمار کیا ہے۔ (رد المحتار، جلد 1، صفحہ 359، مطبوعہ: کوئٹہ)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: جو پانی گرم ملک میں گرم موسم میں سونے چاندی کے سوا کسی اور دھات کے برتن میں دھوپ میں گرم ہو گیا، تو جب تک گرم ہے اس سے وُضو اور غُسل نہ چاہیے، نہ اس کو پینا چاہیے بلکہ بدن کو کسی طرح پہنچنا نہ چاہیے، یہاں تک کہ اگر اس سے کپڑ ا بھیگ جائے تو جب تک ٹھنڈا نہ ہو لے اس کے پہننے سے بچیں کہ اس پانی کے استعمال میں اندیشہ برص ہے، پھر بھی اگر وُضو یا غُسل کر لیا تو ہو جائے گا۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 334، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد سجاد عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: WAT-4587

تاریخ اجراء: 08 رجب المرجب 1447ھ / 29 دسمبر 2025ء