دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ سردیوں میں عموماً گرم پانی کو کسی چھوٹے برتن میں ڈال کر وضو کیا جاتا ہے۔ جب چہرہ دھویا جائے تو تھوڑے سے قطرے لازمی طور پر اُس برتن میں گرتے ہیں، حالانکہ اُسی برتن میں موجود پانی سے ابھی بقیہ وضو کرنا ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ چہرے سے چھوٹ کر برتن میں قطرے گرنے سے برتن کا پانی وضو کے قابل رہتا ہے یا نہیں؟ سائل: محمد منصور
وضو کرتے ہوئے اگر چہرے سے چند قطرے جدا ہو کر برتن میں گر جائیں تو برتن میں موجود پانی مستعمل نہیں ہو گا، بلکہ بدستور وضو کے قابل رہے گا، کیونکہ صاف پانی میں مستعمل پانی مل جائے تو وہ صاف پانی اُسی وقت مستعمل کہلاتا ہے، جب مستعمل پانی زیادہ اور مطلق پانی مغلوب ہو جائے، جبکہ عموماً چہرے سے الگ ہو کر برتن میں گرنے والے قطرے اتنے زیادہ نہیں ہوتے کہ صاف پانی سے زیادہ ہو جائیں، لہذا برتن میں موجود پانی وضو کے قابل ہی رہے گا۔
چہرے سے قطرے الگ ہو کر صاف پانی میں گریں تو ”اجزاء“ کا اعتبار کیا جائے گا۔ علامہ ابن نجیم مصری حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 970ھ/1562ء) لکھتے ہیں:
إذا اختلط بالمطلق فالعبرة للأجزاء فإن كان الماء المطلق أكثر جاز الوضوء بالكل، وإن كان مغلوبا لايجوز۔
ترجمہ: جب مستعمل پانی، مطلق پانی کے ساتھ مختلط ہو جائے تو اجزا کو دیکھا جائے گا۔ اگر مطلق پانی کی مقدار زیادہ ہو تو اس سارے پانی سے وضو کرنا جائز ہوگا اور اگر مطلق پانی مغلوب ہو جائے اور مستعمل پانی زیادہ ہو جائے تو وضو جائز نہیں ہوگا۔ (بحر الرائق، جلد 01، صفحہ73، مطبوعہ دار الکتاب الاسلامی)
امامِ اہلِ سنَّت، امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: جب غیر مستعمل پانی، مستعمل سے زائد ہو تو پانی قابلِ وضو و غسل رہتا ہے، مثلاً لگن میں وضو کیا اور وہ پانی ایک گھڑے بھر آب ِغیر مستعمل میں ڈال دیا، تو یہ مجموع قابلِ وضو ہے کہ مستعمل نامستعمل سے کم ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 02، صفحہ 44، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
”فتاوٰی امجدیہ“ میں ہے: ماءِ مستعمل جب ماءِ غیر مستعمل میں مل جائے، تو جب تک غیر مستعمل مقدار میں زیادہ ہے، مطہر ہے، یہی حکم اُس وقت بھی ہے، جب وضو کے قطرے لوٹے میں گرے کہ جب تک یہ قطرات لوٹے کے پانی کے برابر نہ ہوں، اُس سے وضو جائز ہے۔ (فتاوٰی امجدیہ، جلد01، صفحہ16، مطبوعہ مکتبہ رضویہ، کراچی)
نوٹ: اوپر تحریر کردہ جواب اُس صورت میں ہے کہ جب اعضاءِ وضو پر نجاست حقیقیہ نہ ہو، لہذا اگر کسی عضوِ وضو پر نجاستِ حقیقیہ ہو اور پانی کے قطرے اُس ناپاک جگہ سے چھوٹ کر برتن میں گریں تو برتن کا پانی یقیناً ناپاک اور ناقابلِ وضو ہو جائے گا، کیونکہ قلیل پانی میں نجاست کا ایک قطرہ بھی گرجائے تو وہ سارا پانی ناپاک ہوجاتا ہے۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: FSD -9570
تاریخ اجراء:27ربیع الثانی1447ھ/21اکتوبر2025ء