وضو کے دوران کپڑوں پر پانی کے قطرے گرنا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دوران وضو قطرے ٹپک کر کپڑوں پر گریں، تو کیا حکم ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ دورانِ وضو جو پانی اعضائے وضو سے لگ کر کپڑوں پر گرتا ہے، اس کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ حالانکہ بچنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔
جواب
فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق اعضائے وضو سے گرنے والے مستعمل پانی کے قطروں سے اپنے کپڑوں کو بچانا آدابِ وضو میں سے ہے، لہذا ممکنہ صورت میں ان قطروں سے اپنے کپڑوں کو بچانا چاہیے۔ البتہ اگرکپڑوں پر مستعمل پانی کے قطرے گرجائیں تب بھی وہ کپڑے پاک ہی رہیں گے، اوربندہ گنہگار نہیں ہوگا کہ صحیح و معتمد و مفتیٰ بہ مذہب کے مطابق مستعمل پانی ناپاک نہیں۔
فتاوی عالمگیری میں آدابِ وضو کے تحت مذکور ہے:
و یتوقی التقاطر علی الثیاب
یعنی وضو کے قطرے کپڑوں پر گرنے سے بچانا (مستحب ہے)۔ (فتاوٰی عالمگیری، کتاب الطھارۃ، ج 01، ص 09، مطبوعہ پشاور)
تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے:
(و من آدابہ الجلوس۔۔ فی مکان مرتفع) تحرزاً عن الماء المستعمل۔ و عبارۃ الکمال: و حفظ ثیابہ من التقاطر، و ھی اشمل
یعنی آدابِ وضو میں سے یہ بھی ہے کہ وضو کرنے والا مستعمل پانی سے بچنے کے لیے کسی بلند جگہ پر بیٹھے۔ صاحبِ فتح القدیر کی عبارت یہ ہے کہ وضو کرنے والا اپنے کپڑوں کو وضو کے قطروں سے بچائے، یہ زیادہ عمومی عبارت ہے۔
مذکورہ بالا عبارت کے تحت فتاوٰی شامی، حاشیہ طحطاوی علی الدروغیرہ کتبِ فقہیہ میں مذکور ہے:
و النظم للاول قولہ (تحرزاً الخ) لوقوع الخلاف فی نجاسۃ۔۔۔ علی القول الصحیح بطھارۃ۔
یعنی مائے مستعمل سے بچنے کا حکم اس لیے ہے کہ اس کے نجس ہونے میں فقہاء کا اختلاف ہے، اگرچہ کہ صحیح قول اس کی طہارت کا ہے۔ (رد المحتار مع در المختار، کتاب الطھارۃ، ج 01، ص 271 - 272، مطبوعہ کوئٹہ)
بہارِ شریعت میں ہے: کپڑوں کو ٹپکتے قطروں سے محفوظ رکھنا (وضو کے مستحبات میں سے ہے)۔ (بہارِ شریعت، ج 01، حصہ 02، ص 297، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
مستعمل پانی ناپاک نہیں ہوتا۔ جیسا کہ فتاوٰی رضویہ میں ہے: مائے مستعمل صحیح و معتمد و مفتیٰ بہ مذہب میں ناپاک نہیں، طاہر غیر مطہر ہے۔ یہی ہمارے امام اعظم رضی اللہ عنہ کا مذہب معتمد ہے۔ (فتاوٰی رضویہ، ج 04، ص 335، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Nor-13849
تاریخ اجراء: 01ذو الحجۃ الحرام 1446ھ/29مئی 2025ء