logo logo
AI Search

جانور ذبح کرنے کا سنت طریقہ

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کا مسنون طریقہ

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کا مسنون طریقہ کیا ہے؟ وضاحت سے بیان فرمادیں؟

جواب

افضل یہ ہے کہ اگر احسن طریقے سے ذبح کر سکتا ہو، تو اپنی قربانی کا جانور خود ذبح کرے، ورنہ جو اچھے طریقے سے شریعت کے مطابق ذبح کر سکتا ہو، اسے کروائے، اور یہ وہیں حاضر رہے، ذبح سے پہلے ہی آلہ ذبح (چھری وغیرہ) کو خوب تیز کر لے، جانور کے پاؤں باندھ لے، اور جانور کو قبلہ رخ، اس کے بائیں پہلو پر لٹائے، اور ذبح کرنے والا بھی قبلہ رو ہو، چونکہ پاک و ہند میں قبلہ مغرب میں ہے، اس لئے جانور کا سر جنوب کی طرف اور اس کی پیٹھ مشرق کی طرف ہونی چاہیے، تاکہ وہ بائیں پہلو پر لیٹے اور اس کا منہ قبلہ رو ہو جائے، اور ذابح (ذبح کرنے والا) بھی قبلہ رو ہو، پھر اپنا سیدھا قدم جانور کی گردن کے قریب پہلو پر رکھ کر اَللّٰھُمَّ لَکَ وَمِنْکَ بِسْمِ اللہ اللہ اَکْبَر پڑھ کر تیز چُھری سے جانور کی چاروں رگیں حلقوم (سانس والی)، مری (کھانے پانی والی)، اور ان کے اطراف کی ودجین (خون کی رگیں) لبہ اور جبڑوں کے درمیان  کاٹ دے، اگر ان میں سے تین بھی کٹ گئیں، تو بھی باجماع ائمہ احناف ذبیحہ حلال ہو جائے گا، اب نہ جانور کا سر کاٹے، اور نہ ٹھنڈا ہونے سے پہلے اس کی کھال وغیرہ اتارے ۔

اپنے ہاتھ سے قربانی کرنے کے متعلق صحیح بخاری میں امام محمد بن اسماعیل بخاری علیہ الرحمۃ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ذکر فرماتے ہیں: "عن انس رضی اللہ عنہ قال: ضحی النبی صلی اللہ علیہ وسلم بکبشین املحین، فرایتہ واضعا قدمہ علی صفاحھما یسمی ویکبر، فذبحھما بیدہ" ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: کہ نبی پاک علیہ السلام نے دو چتکبرے مینڈھوں کی قربانی کی، میں نے حضور علیہ السلام کو ان دونوں کے اطراف پر اپنا پاؤں رکھے دیکھا کہ آپ نے تسمیہ و تکبیر کہی اور ان کو اپنے ہاتھوں سے ذبح فرمایا۔ (صحیح البخاری، جلد 5، صفحہ 2113، رقم الحدیث 5238، دار ابن کثیر، دمشق)

اس حدیث پاک کی شرح بیان کرتے ہوئے علامہ بدر الدین عینی علیہ الرحمۃ عمدۃ القاری میں فرماتے ہیں: ’’فیہ التسمیۃ والتکبیر وذبح الاضحیۃ بیدہ، ان کان یحسن ذالک، فالتکبیر مع التسمیۃ مستحب، وکذا وضع الرجل علی صفحۃ عنق الاضحیۃ الایمن، واما التسمیۃ فھی شرط‘‘ ترجمہ: اس حدیث پاک میں تسمیہ، تکبیر اور اپنے ہاتھ سے ذبح کرنے کا بیان ہے اگر اچھی طرح ذبح کر سکتا ہو، لہذا تسمیہ کے ساتھ تکبیر کہنا مستحب ہے، یوں ہی اپنا پاؤں جانور کی گردن کے سیدھی جانب رکھنا مستحب ہے، جبکہ تسمیہ (یعنی بسم اللہ) کہنا شرط ہے۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری، جلد 21، صفحہ 155، دارالفکر، بیروت)

ذبح کیلئے آلہ ذبح تیز کرنے کے متعلق سنن نسائی میں حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ’’قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : ان اللہ کتب الاحسان علی کل شئی فاذا قتلتم فاحسنوا القتلۃ واذا ذبحتم فاحسنوا الذبح، ولیحد احدکم شفرتہ ولیرح ذبیحتہ‘‘ ترجمہ: نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ﷲ تبارک و تعالیٰ نے ہر چیز میں خوبی کرنا لکھ دیا ہے لہٰذا قتل کرو تو اس میں بھی خوبی کا لحاظ رکھو اور ذبح کرو تو ذبح میں خوبی کرو اور اپنی چھری کو تیز کر لے اور ذبیحہ کو راحت پہنچائے۔ (سنن نسائی، ج 8، ص44، حدیث 8604، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)

حدیث پاک میں جانور لٹانے سے پہلے چھری تیز کرنے کے متعلق صریح حکم فرمایا گیا، چنانچہ مستدرک علی الصحیحین میں ہے ’’عن ابن عباس رضی اللہ عنہ: ان رجلا اضجع شاۃ یرید ان یذبحھا وھو یحد شفرتہ، فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: اترید ان تمیتھا موتات ھل حددت شفرتک قبل ان تضجعھا‘‘ ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بکری کو ذبح کرنے کے ارادے سے لٹایا، اور اپنی چھری تیز کرنے لگا، تو نبی پاک علیہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اسے کئی موتیں مارنا چاہتے ہو ؟ تم نے اسے لٹانے سے پہلے اپنی چھری کیوں نہ تیز کرلی۔ (مستدرک علی الصحیحین، ج 4، ص 260، حدیث 7570، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

جانور کو قبلہ رو لٹانے کے متعلق السنن الکبری للبیھقی میں ہے ’’عن ابن عمر رضی اللہ عنھما انہ کان یستحب ان یستقبل القبلۃ اذا ذبح‘‘ ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ ذبح کے وقت جانور کو قبلہ رو لٹانا مستحب ہے۔ (السنن الکبری للبیھقی، ج 9، ص 479، حدیث 19173، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

خزانۃ الفقہ میں ہے”ويستحب للذبح ستة أشياء: يحد شفرته أولا، ثم يضجع الشاة وأن يوجهها إلى القبلة ويشد قوائمها ويسمي الله تعالى ويذبحها ولا يذكر غير اسم الله“ ترجمہ: ذبح کے لیے چھ چیزیں مستحب ہیں: پہلے چھری کو خوب تیز کرے، پھر بکری کو لٹائے، اور اسے قبلہ رخ کرے، اور اس کے پاؤں باندھے، اور اللہ تعالیٰ کا نام لے، پھر ذبح کرے اور اللہ کے نام کے علاوہ کسی اور کا نام نہ لے۔ (خزانۃ الفقہ، ص 262، مطبوعہ: اکوڑہ خٹک)

فتاوی رضویہ میں اعلی حضرت امام اہلسنت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: "سنّت یہ چلی آ رہی ہے کہ ذبح کرنے والا اور جانور دونوں قبلہ رُو ہوں، ہمارے عَلاقے (یعنی پاک و ہند) میں قِبلہ مغرِب میں ہے، اس لئے سرِ ذَبیحہ (یعنی جانور کا سر) جُنُوب کی طرف ہونا چاہئے تا کہ جانور بائیں پہلو لیٹا ہو، اور اس کی پیٹھ مشرِق کی طرف ہو تا کہ اس کا مُنہ قبلے کی طرف ہو جائے۔" (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 216، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

اس پر اجماع نقل کرتے ہوئے، امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں: "ہمارے ائمہ کرام کا اجماع ہے کہ اگر تین رگیں کٹ گئی ہوں تو ذبیحہ حلال ہے۔" (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 222، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

 ذبح کے مقام کو بیان کرتے ہوئے بدائع الصنائع میں امام ملک العلماء ابو بکر بن مسعود کاسانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: "ومحلہ مابین اللبۃ واللحیین لقول النبی صلی اللہ علیہ وسلم: ’’الذکاۃ مابین اللبۃ واللحیین“" ترجمۃ: ذبح کا محل لبہ اور جبڑوں کے درمیان ہے کہ حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: ذبح لبہ اور جبڑوں کے درمیان ہے۔ (بدائع الصنائع، جلد 5، صفحہ 41، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

مکتبۃ المدینہ کےشائع کرد ہ رسالے "ابلق گھوڑے سوار" میں ہے "جانور کی گردن کے قریب پہلو پر اپنا سیدھا پاؤں رکھ کر اَللّٰھُمَّ لَکَ وَمِنْکَ بِسْمِ اللہِ اللہُ اَکْبَر پڑھ کر تیز چُھری سے جلد ذَبْح کردیجئے۔" (ابلق گھوڑے سوار، صفحہ 14، مکتبۃالمدینۃ، کراچی)

در مختار میں ہے ’’وکرہ کل تعذیب بلا فائدۃ مثل قطع الراس والسلخ قبل ان تبرد‘‘ ترجمہ: بلا فائدہ ہر ایذاء رسانی مکروہ ہے جیسے سر کاٹنا، اور ٹھنڈا ہونے سے پہلے کھال اتارنا۔ (در مختار، جلد 9، صفحہ 495، مطبوعہ: کوئٹہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5035
تاریخ اجراء: 06 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 23 مئی 2026ء