اللہ پاک کے نور ہونے کا کیا مطلب ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ پاک کے نور ہونے سے کیا مراد ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اللہ پاک کے نور ہونے سے کیا مراد ہے؟
جواب
اللہ تبارک و تعالیٰ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے: ”اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-“ ترجمہ کنزالایمان: اللہ نور ہے آسمانوں اور زمین کا۔ (پارہ 18، سورۃ النور، آیت 35)
”نور“ کی وضاحت کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن ہے: ”محققین کے نزدیک نور وہ کہ خود ظاہر ہو اور دوسروں کا مظہر (ظاہر کرنے والا) ، کما ذکرہ الامام حجۃ الاسلام الغزالی الی ثم العلامۃ الزرقانی فی شرح المواھب الشریفۃ (جیسا کہ حجۃ الاسلام امام غزالی نے پھر شرح مواہب شریف میں علامہ زرقانی نے ذکر فرمایا ہے ۔ ت) بایں معنی اللہ عزوجل نور حقیقی ہے بلکہ حقیقۃً وہی نور ہے اور آیہ کریمہ اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ) اللہ تعالیٰ نور ہے آسمانوں اورزمین کا) بلاتکلف و بلادلیل اپنے معنی حقیقی پر ہے۔ فان اللہ عزوجل ھو الظاھر بنفسہ المظھر لغیرہ من السمٰوٰت والارض و من فیھن و سائر المخلوقات (کیونکہ اللہ عزوجل بلاشبہ خود ظاہر ہے اور اپنے غیر یعنی آسمانوں، زمینوں، ان کے اندر پائی جانے والی تمام اشیاء اور دیگر مخلوقات کو ظاہر کرنے والا ہے۔ ت) (فتاوی رضویہ، جلد 30، صفحہ 665، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتوی نمبر: Web-2547
تاریخ اجراء: 26 ربیع الثانی 1447ھ/20 اکتوبر 2025ء