ہر چیز مقدر ہے تو پھر دعا کیوں کریں؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
جب ہر چیز اللہ تعالی وقت مقررہ پر عطا فرماتا ہے تو کیا انسان دعا نہ کرے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
مذکورہ آیت کریمہ کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنی جلد بازی کی وجہ سے کبھی غصے میں اپنے، اپنے اہلِ خانہ، یا مال و اولاد کے خلاف بددعائیں کر بیٹھتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ انہیں قبول فرما لے تو نقصان اور ہلاکت واقع ہو سکتی ہے، لیکن وہ اپنے فضل و کرم سے عموماً ایسی بددعاؤں کو قبول نہیں فرماتا۔ البتہ! جس مطلب کی طرف سوال میں اشارہ کیا گیا ہے، وہ مراد لینا ہرگز درست نہیں؛ کیونکہ دعا کرنا حصول مراد کا سبب یعنی ایک تدبیر ہے، جس کی تعلیم خود قرآن وحدیث میں دی گئی ہے، اور تدبیر کرنا تقدیر کے ہرگز منافی نہیں۔ بلکہ اس کے برخلاف مطلقاً دعا ترک کردینے، یا خود کو اللہ تعالیٰ کے حضور عاجز ی کرنے اور اس سے مانگنے سے بے نیاز سمجھ کر دعا ترک کردینے پر وعیدیں ارشاد ہوئی ہیں۔ جس طرح انسان اپنی بھوک مٹانے کے لیے کھانا کھانے ،اور پیاس مٹانے کے لیے پانی پینےجیسے اسباب اختیار کرتا ہے، یونہی کوئی مطلوبہ جائز چیز پانے، یا کسی مصیبت کے آجانے پر اس کے ٹل جانے وغیرہ کی دعا کرنا، تقدیر کے ہرگز منافی نہیں، بلکہ حدیث پاک میں کثرت سے دعا مانگنے اور ہر چیز مانگنے کا ارشاد فرمایا گیا ہے، یہاں تک کہ جب جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے، تو وہ بھی اللہ تعالیٰ سے مانگنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ خلاصہ کلام یہ کہ ہر نیک و جائز کام کی دعا کرنا جائز ہے، اور تقدیر کے ہرگز منافی نہیں۔
قرآن کریم میں ارشاد خداوندی ہے: ﴿وَ یَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآءَهٗ بِالْخَیْرِؕ- وَ كَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا﴾ ترجمہ کنز العرفان: اور (کبھی) آدمی برائی کی دعا کربیٹھتا ہے جیسے وہ بھلائی کی دعا کرتا ہے اور آدمی بڑا جلد باز ہے۔ (پارہ 15،بنی اسرائیل، آیت: 11)
مذکورہ آیت کریمہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ آدمی جس طرح بھلائی کی دعائیں مانگتا ہے اسی طرح بعض اوقات برائی کی دعا بھی کردیتا ہے جیسے کئی مرتبہ غصے میں آکر اپنے اور اپنے گھر والوں کے اور اپنے مال و اولاد کے خلاف دعا کردیتا ہے، غصہ میں آکر ان سب کو کوستا ہے اور اُن کے لئے بددعائیں کرتا ہے تو یہ انسان کی جلد بازی ہے (اور جلد بازی عموماً نقصان دیتی ہے۔) اگر اللہ تعالیٰ اس کی یہ بددعا ئیں قبول کرلے تووہ شخص یا اس کے اہل و مال ہلاک ہوجائیں لیکن اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس کو قبول نہیں فرماتا۔ (صراط الجنان، جلد 5، صفحہ 426، مکتبۃ المدینہ، کراچی(
دعا کرنا ایک تدبیر یعنی سبب کا اختیار کرنا ہے جس کی تعلیم خود قرآن وحدیث میں دی گئی اور دعا سمیت کوئی بھی جائز تدبیر کرنا تقدیر کے منافی ہرگز نہیں۔ امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: دعا خود موثر حقیقی کب ہے؟ صرف حصول مراد کا ایک سبب ہے، اور تدبیر کاہے کا نام ہے۔ رب جل جلالہ فرماتا ہے:وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْ اَسْتَجِبْ لَكُمْ تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا۔وہ قادر تھا کہ بے دعا مراد بخشے، پھر اس تدبیر کی طرف کیوں ہدایت فرمائی ؟ اور وہ بھی اس تاکید کے ساتھ کہ حدیث میں حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا۔مَنْ لَّمْ يَدْعُ اللہ غَضِبَ عليه -جو اللہ سے دعانہ کرے گا اللہ تعالیٰ اس پر غضب فرمائے گا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 29، صفحہ 307، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
ایک اور مقام پر لکھتے ہیں: فی الواقع عالم میں جو کچھ ہوتا ہے سب اللہ جل جلالہ کی تقدیر سے ہے۔ مگر تدبیر زنہار معطل نہیں۔ دنیا عالم اسباب ہے۔ رب جل مجدہ نے اپنی حکمت بالغہ کے مطابق اس میں مسببات کو اسباب سے ربط دیا۔ اور سنت الہیہ جاری ہوئی کہ سبب کے بعد مسبب پیدا ہو۔ جس طرح تقدیر کو بھول کر تدبیر پر پھولنا کفار کی خصلت ہے یونہی تدبیر کو محض عبث و مطرود و فضول و مردود بتانا کسی کھلے گمراہ یا سچے مجنون کا کام ہے جس کی رو سے صدہا آیات و احادیث سے اعراض اور انبیاء و صحابہ وائمہ و اولیاء سب پر طعن و اعتراض لازم آتا ہے۔
پھر اس پر مزید کلام کرنے کے بعد آگے لکھتے ہیں: یہاں سے ظاہر ہوا کہ اگر تدبیر مطلقا مہمل (بے کار) ہو تو دین و شرائع (قوانین شرع) و انزال کتب (کتابیں اتارنا) و ارسال رسل (رسولوں کو بھیجنا) و اتیان فرائض (فرائض کا کرنا) و اجتناب محرمات (حرام کاموں سے بچنا) معاذ اللہ! سب لغو و فضول و عبث ٹھہریں۔ آدمی کی رسی کاٹ کر بجار (آزاد چھوٹا ہوا سانڈ) کر دیں۔ دین و دنیا سب یکبارگی برہم ہو جائیں۔ و لا حول و لا قوة الا بالله العلى العظیم ( نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ ہی نیکی کرنے کی قوت مگر بلندی و عظمت والے خدا کی طرف سے) نہیں نہیں بلکہ تدبیر بے شک مستحسن ہے، اور اُس کی بہت صورتیں مندوب و مسنون ہیں، جیسے دُعا و دوا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 29، صفحہ 304 تا 311، ملتقطا، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
دعا ترک کرنے کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: قال اللہ تعالى: من لا يدعوني أغضب عليہ ترجمہ: اللہ تبارک وتعالی نے ارشاد فرمایا کہ جو مجھ سے دعا نہ مانگے میں اس پر غضب فرماؤں گا۔ (جامع الصغیر، صفحہ 8486، رقم الحدیث: 8486، غیر مطبوعہ)
دعا ترک کردینے پر جو وعیدیں ارشاد ہوئی ہیں ان کا ایک محمل وہ لوگ بھی ہیں جو دعا کو مطلقاً ترک کردیتے ہیں۔ مفسراہلسنت،حضرت علامہ مولانا، مفتی محمد قاسم عطاری صاحب دامت برکاتہم العالیہ لکھتے ہیں: یاد رہے کہ جن آیات و اَحادیث میں دعاترک کرنے پر جہنم میں داخلے یا غضبِ الٰہی وغیرہ کی وعیدیں آئی ہیں، ان میں وہ لوگ مراد ہیں جو مُطْلَقاً دعا کو ترک کر دیتے ہیں (یعنی کچھ بھی ہوجائے، ہم نے دعا نہیں کرنی) یا مَعَاذَ اللہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے بے نیاز سمجھ کر دعا ترک کردیتے ہیں، اور اسی وجہ سے اس کے حضور گریہ و زاری کرنے سے کتراتے اور پرہیز کرتے ہیں اور یہ صورت صریح کفر اور اللہ تعالیٰ کے دائمی غضب کا باعث ہے، جیسا کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں: اَحادیثِ سابقہ (جو کہ دوسری فصل، ادب نمبر30 کے تحت ذکر ہوئیں) جن میں ارشاد ہوا کہ جو دعا نہ کرے اللہ تعالیٰ اس پر غضب فرمائے، ترکِ مُطْلَق ہی پر محمول یا مَعَاذَاللہ، اپنے کو بارگاہِ عزت عزوجل سے بے نیاز جاننا، اس کے حضور تَضَرُّع و زاری سے پر ہیز رکھنا کہ اب صریح کفر ومُوجبِ غضبِ اَبدی ہے، و لہٰذا اُدْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ (مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا) کے مُتَّصل ہی ارشاد ہوا اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ (بیشک وہ جو میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں عنقریب ذلیل ہو کرجہنم میں جائیں گے)۔‘‘ (صراط الجنان، جلد 8، صفحہ 583، 584، مکتبۃ المدینہ کراچی)
کثرت سے دعا مانگنے کے متعلق المعجم الاوسط للطبرانی میں ہے عن عائشة قالت: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم: إذا تمنى أحدكم فليكثر، فإنما يسأل ربه ترجمہ: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: تم میں جو کوئی دعا کرے تو کثرت سے کرے، کیونکہ وہ اپنے رب ہی سے دعا کرتا ہے۔ (المعجم الأوسط للطبراني، جلد 2، صفحہ 301، رقم الحدیث: 2040، مطبوعہ: قاھرہ)
ہر چیز اللہ تعالیٰ سے مانگنے کے متعلق سنن ترمذی میں ہے عن ثابت البناني، أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم قال: ليسأل أحدكم ربه حاجته حتى يسأله الملح، و حتى يسأله شسع نعله إذا انقطع ترجمہ: حضرت ثابت بنانی رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے ہر کوئی اپنے رب سے اپنی حاجت کا سوال کرے، حتی کہ اللہ سے نمک مانگے، اور حتی کہ اپنے جوتے کا تسمہ بھی اس سے مانگے جب وہ ٹوٹ جائے۔ (سنن الترمذي،جلد 5، صفحہ 583، مطبوعہ: مصر)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5222
تاریخ اجراء: 15 صفر المظفر 1448ھ / 30 جولائی 2026ء