کراماتِ اولیا کے منکر کے ساتھ کیسا رویہ رکھا جائے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
کراماتِ اولیا کے منکر کے ساتھ ہمارا رویہ کیسا ہونا چاہئے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر کوئی شخص اولیاے کرام کی کرامات کا انکار کرے تو ہمارا اس شخص کے ساتھ کیسا رویہ ہونا چاہئے؟
جواب
کرامات اولیا حق ہیں، اور قرآن و سنت سے ثابت ہیں، اولیاء اللہ کی کرامات کا انکار کرنا بدمذہبی و گمراہی ہے اور بدمذہب کے متعلق شریعت مطہرہ کا حکم یہ ہے کہ ان کی صحبت اختیار کرنا، ان کے ساتھ کھانا پینا، ان کی غمی و خوشی میں شریک ہونا وغیرہ سب منع ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بدمذہبوں کی صحبت سے دور رہنے کا حکم ارشاد فرمایا، چنانچہ حدیثِ پاک میں ہے: "فإياكم و إياهم، لا يضلونكم، و لا يفتنونكم" یعنی اپنے کو اُن سے دُور رکھو اور اُنھیں اپنے سے دور کرو، کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کر دیں، کہیں وہ تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دیں۔ (صحیح مسلم، باب النھی عن الروایۃ عن الضعفاء والاحتیاط فی تحملھا، ص 13، دار الکتب العلمیۃ)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت کے مطابق یہاں تک فرمایا کہ: "إن مرضوا فلا تعودوهم، و إن ماتوا فلا تشهدوهم" یعنی اگر وہ بیمار ہوجائیں تو ان کی عیادت نہ کرو، اگر مرجائیں تو ان کے جنازے میں شریک نہ ہو۔ (سنن ابی داؤد، رقم الحدیث 4691، ص 738، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
اس کے علاوہ حضرت جابر بن عبد الله رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت میں مزید اتنا اضافہ ہے کہ: "وإن لقيتموهم فلا تسلموا عليهم" یعنی اگر تم ان سے ملو، تو سلام نہ کرو۔ (سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث 92، ص 27، دار ابن کثیر)
ایک حدیث مبارکہ میں ہے ”فلا تجالسوھم ولا تشاربوھم ولا تؤاکلوھم ولا تناکحوھم“ یعنی نہ تم اُن کے پاس بیٹھو، نہ ان کے ساتھ پیو، نہ ان کے ساتھ کھاؤ اور نہ ان کے ساتھ شادی بیاہ کرو۔ (کنز العُمّال، رقم الحدیث 32468، ج 11، ص 529، مؤسسة الرسالة)
شرح المقاصد للتفتازانی میں کرامات اولیاء کے منکریں کے بارے میں ہے: ’’وانکارھا لیس بعجیب من اھل البدع والاھواء اذلم یشاھدوا ذٰلک من انفسھم قط ولم یسمعوا بہ من رؤسائھم الذین یزعمون انھم علی شیء مع اجتھادھم فی امور العبادات واجتناب السیئات فوقعوا فی اولیاء اللہ تعالی اصحاب الکرامات یمزقون ادیمھم ویمضغون لحومھم لایسمونھم الا باسم الجھلۃ المتصوفۃ ولا یعدونھم الا فی عداد آحاد المبتدعۃ۔۔۔۔۔ ولم یعرفوا ان مبنی ھٰذا الامر علی صفاء العقیدۃ ونقاء السریرۃ واقتفاء الطریقۃ واصطفاء الحقیقۃ‘‘
ترجمہ: بدعتیوں اور گمراہوں کی طرف سے کرامات کا انکار کوئی عجیب بات نہیں کیونکہ نہ تو انہوں نے اپنے اندر کبھی ایسی باتیں دیکھی ہیں، نہ اپنے ان پیشواؤں سے اس کا ذکر سنا ہے جن کے بارے میں وہ، عبادات میں ان کی محنت اور گناہوں سے ان کے اجتناب کی بنا پر، یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ بھی کسی مقام پر فائز ہیں، چنانچہ وہ بدعتی، صاحبِ کرامات اولیاء اللہ کی عیب جوئی میں پڑ گئے، ان کے گوشت نوچنےاور ان کی کھال ادھیڑنے لگ گئے، اوروہ ان کومحض جاہل صوفی کہتے ہیں اوران کومحض بدعتی شمارکرتے ہیں اور وہ یہ نہ جان سکے کہ اس معاملے کی بنیاد عقیدے کی پاکیزگی، باطن کی صفائی، طریقت کی پیروی اور حقیقت کے انتخاب پر ہے۔ (شرح المقاصد للتفتازانی، ج 3، ص 328، النوریہ الرضویہ پبلشنگ کمپنی، لاہور)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: ’’کرامات اولیاء کا انکار گمراہی ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 14، ص 324، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”کرامت اولیا حق ہے، اس کا منکر گمراہ ہے۔ مردہ زندہ کرنا، مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو شفا دینا، مشرق سے مغرب تک ساری زمین ایک قدم میں طے کر جانا، غرض تمام خوارقِ عادات اولیاء سے ممکن ہیں، سوا اس معجزہ کے جس کی بابت دوسروں کے لیے ممانعت ثابت ہو چکی ہے۔ جیسے قرآن مجید کے مثل کوئی سورت لے آنا یا دنیا میں بیداری میں اللہ عزوجل کے دیدار یا کلام حقیقی سے مشرف ہونا، اس کا جو اپنے یا کسی ولی کے لیے دعویٰ کرے، کافر ہے۔“ (بہارشریعت، ج 1، حصہ 1، ص 269 تا 271، مکتبۃ المدینہ، کراچی )
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5262
تاریخ اجراء: 14 صفر المظفر 1448ھ/29 جولائی 2026ء