logo logo
AI Search

اللّٰہ نے جان کر لکھ دیا کہنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

تقدیر کے متعلق کہے جانے والے ایک جملے مفہوم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

مذکورہ جملہ کہنے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ پہلے معلوم نہیں تھا، بعد میں معلوم ہوا۔ بلکہ مطلب یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کا علم ازلی ہے، اور اپنے اس علم ازلی کے مطابق جوہونے والا تھا اس کے موافق تقدیر لکھی، سوال میں مذکورہ جملہ کہنے میں کوئی حرج نہیں معتبر علماء کے کلام میں بھی اسی طرح کے جملوں سے یہ مسئلہ بیان کیاگیاہے جیساکہ امام اہل سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یہ شیطانی فعلوں کا دھوکا ہے کہ جیسا لکھ دیا ایسا ہمیں کرنا پڑتا ہے بلکہ جیسا ہم کرنے والے تھے اس نے اپنے علم سے جان کر وہی لکھا ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج 29، ص 285، رضافاؤنڈیشن لاھور)

مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ہر بھلائی، بُرائی اُس نے اپنے علمِ اَزلی کے موافق مقدّر فرما دی ہے، جیسا ہونے والا تھا اور جو جیسا کرنے والا تھا، اپنے علم سے جانا اور وہی لکھ لیا، تو یہ نہیں کہ جیسا اُس نے لکھ دیا ویسا ہم کو کرنا پڑتا ہے، بلکہ جیسا ہم کرنے والے تھے ویسا اُس نے لکھ دیا۔ (بہارشریعت، ج 1، ص 11، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2567
تاریخ اجراء: 01 جمادی الاولٰی 1447ھ / 24 اکتوبر 2025ء