مذاق میں خود کو کرسچین کہنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مذاق میں خود کو کرسچین کہنے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کسی نے مذاق میں یہ جملہ کہا کہ میں کرسچین ہوں، پھر کہا میں نے مذاق میں کہا ہے، ایسی صورت میں اس کے لئے کیا حکم ہے؟
جواب
استغفر اللہ العظیم!یہ جملہ کہ میں کرسچین ہوں، کفر ہے ایسا کہنے سے بندہ،دائرہ اسلام سے نکل جاتا ہے ، اگرچہ اس نےیہ جملہ مذاق میں کہا ہو کہ مذاق میں کلمہ کفر بولنا بھی کفر ہے،ایسے شخص پر لازم ہے کہ توبہ اور تجدید ایمان کرے، اگر شادی شدہ ہو تو تجدیدِ نکاح بھی لازم ہے۔
بحرالرائق میں ہے: ”و من ھزل بلفظ کفر ارتدوان لم یعتقدہ للاستخفاف“ یعنی: جس نے مذاق میں کلمہ کفربکاتووہ مرتد ہوگیا اگرچہ اس کااعتقادنہ رکھتاہوکہ اس کوہلکاسمجھناپایاگیا۔ (البحرالرائق، جلد 05، صفحہ 202،مطبوعہ:کوئٹہ)
فتاوی رضویہ میں ہے:”جس نے جس فرقے کانام لیا اُس فرقہ کا ہو گیا، مذاق سے کہے یا کسی دوسری وجہ سے ۔“(فتاوی رضویہ ،جلد 14 ،صفحہ 583،رضا فاؤنڈیشن لاہور )
امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ اپنی مایہ ناز تصنیف ”کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب“ میں لکھتے ہیں: ”سوال: کیا ہنسی مذاق میں کُفر بکنے والے کی قراٰنِ کریم میں بھی مذمّت آئی ہے؟جواب: جی ہاں! مذاق میں کُفر بکنے والوں پر خدائے رحمٰن عَزَّوَجَلَّ نے اپنے پاک قراٰن میں بَزَبانِ رحمتِ عالمیان صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کفر کا فتویٰ صادِر فرمایا ہے۔ چُنانچِہ پارہ 10 سورۃُ التَّوبہ آیت نمبر 65 اور 66 میں ارشادِ ربُّ العباد ہے: وَ لَىٕنْ سَاَلْتَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُؕ-قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ﴿65﴾ لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْؕ- (پ 10 التوبہ65ـ - 66) ترجمۂ کنزالایمان: اور اے محبوب! اگر تم ان سے پوچھو توکہیں گے کہ ہم تو یونہی ہنسی کھیل میں تھے۔ تم فرماؤ کیا اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنستے ہو!بہانے نہ بناؤ تم کافر ہو چکے مسلمان ہو کر۔“(کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب ،صفحہ 497،مکتبۃ المدینہ کراچی )
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا رضا محمد مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2573
تاریخ اجرا: 06جمادی الاولٰی1447ھ / 29 اکتوبر 2025ء