حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول کا عقیدہ اور منکر کا حکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
حضرت عیسی علیہ السلام کا قرب قیامت تشریف لانے کے منکر کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ یہ جو ہم علماء سے سنتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام قرب قیامت تشریف لائیں گے، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اور اس کا ثبوت کونسے دلائل سے ہے ؟ اور جو نہ مانے اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ براہ کرم تفصیل سے ارشاد فرمادیں۔
جواب
یہ عقیدہ رکھنا کہ حضرت عیسی علیہ السلام قربِ قیامت آسمان سے زمین پر تشریف لائیں گے، ضروریاتِ مذہبِ اہلسنت میں سے ہے، جس کا ثبوت احادیثِ متواترہ اور اجماع اہل حق سے ہے۔ جو قرب قیامت حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول کا انکار کرے یا اس میں تاویل کرے کہ بذات خود عیسی علیہ السلام نہیں بلکہ آپ جیسا کوئی آدمی ظاہر ہوگا تو وہ گمراہ گمراہ گر، خاسر، بدمذہب وفاجر وبددین ہے۔
اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا﴾ ترجمہ کنز الایمان: اور بے شک عیسٰی (علیہ السلام) قیامت کی خبر ہے تو ہرگز قیامت میں شک نہ کرنا۔ (سورۃ الزخرف، آیت 61)
مذکورہ آیت کے تحت تفسیر قرطبی معالم التنزیل اور مدارک التنزیل میں ہے ”إنه خروج عيسى عليه السلام، وذلك من أعلام الساعة، لأن اللہ ينزله من السماء قبيل قيام الساعة، كما أن خروج الدجال من أعلام الساعة. وقرأ ابن عباس وأبو هريرة وقتادة ومالك بن دينار والضحاك "وإنه لعلم للساعة" (بفتح العين واللام) أي أمارة“ ترجمہ: بیشک عیسی علیہ السلام کا ظاہر ہونا اور یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کیونکہ اللہ تعالی قیامت قائم ہونے سے کچھ پہلے انھیں آسمان سے نازل فرمائے گا جیسا کہ دجال کا نکلنا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے اور حضرت عبد اللہ بن عباس و ابو ہریرہ و قتادہ و مالک بن دینا اور ضحاک رضی اللہ عنہم نے "انہ لعلم للساعۃ" لام اور عین کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے یعنی قیامت کی نشانی ہے۔ (تفسیر قرطبی، سورۃ الزخرف، آیت 61، الجز 16، صفحہ 105، مطبوعہ قاہرہ)
صحیح بخاری و مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم“ ترجمہ: کیسا حال ہوگا تمہارا جب ابن مریم علیہ السلام تم میں اتریں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔ (صحیح البخاری، باب نزول عیسی ابن مریم، جلد 4، صفحہ 168، رقم:3449، مطبوعہ بیروت)
صحیح بخاری، مسلم، جامع ترمذی سنن ابن ماجہ وغیرہ کتب حدیث میں ہے ”واللفظ للاول: والذي نفسي بیدہ لیوشکنّ أن ینزل فیکم ابن مریم حکماً عدلاً فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر“ ترجمہ: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، بے شک ضرور وہ وقت نزدیک ہے کہ حضرت عیسی بن مریم علیہ السلام تم میں حاکم، عادل ہوکر اتریں گے پس وہ صلیب کو توڑ دیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے۔ (صحیح البخاری، باب قتل الخنزیر، جلد 3، صفحہ 82، رقم: 2222، مطبوعہ بیروت)
اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ "المعتقد المنتقد" پر اپنے حاشیے "المستند المعتمد بنجاۃ الابد" میں فرماتے ہیں: ”وعقیدۃ نزولہ من ضروریات مذہب اہل السنۃ، نطقت بہ الاحادیث المتواترۃ فمن انکرھا او اولھا بخروج رجل یماثل عیسی علیہ السلام فھو ضال مضل“ ترجمہ: اور حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول کا عقیدہ ضروریاتِ مذہبِ اہلسنت میں سے ہے، جس پر احادیث متواترہ ناطق ہیں پس جو کوئی اس کا انکار کرے یا اس میں تاویل کرے کہ عیسی علیہ السلام جیسا کوئی شخص نکلے گا تو وہ گمراہ، گمراہ گر ہے۔ (المستند المعتمد بنجاۃ الابد، الباب الثالث فی السمعیات، صفحہ 237، مطبوعہ النوریۃ الرضویہ لاہور)
حجۃ الاسلام حضرت علامہ مفتی محمد حامد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ "فتاوی حامدیہ" میں موجود اپنے رسالے "الصارم الربانی علی اسراف القادیانی" میں فرماتے ہیں: ”مسئلہ ثانیہ: اس جناب رفعت قباب علیہ الصلوۃ والسلام کا قرب قیامت آسمان سے اترنا، دنیا میں دوبارہ تشریف فرما ہو کر اس عہد کے مطابق جو اللہ عزوجل نے تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلا م سے لیا، دین محمد رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی مدد کرنا، یہ مسئلہ قسمِ ثانی یعنی ضروریات مذہب اہل سنت و جماعت سے ہے جس کا منکر گمراہ، خاسر، بدمذہب، فاجر۔ اس کی دلیل احادیث متواترہ و اجماع اہل حق ہے۔“ (فتاوی حامدیہ، کتاب العقائد، صفحہ 142، مطبوعہ شبیر برادرز، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
مصدق: مفتی ابو الحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتوی نمبر: Lar-10975
تاریخ اجراء: 18 ربیع الثانی 1443ھ/24 نومبر 2021ء