logo logo
AI Search

جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں کہنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں۔ اس جملے کی وضاحت

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں۔ یہ ایک معروف عوامی جملہ ہے، اگر اس میں آسمان سے مراد لوحِ محفوظ لی جائے، تو یہ جملہ درست مفہوم رکھتا ہے؛ کیونکہ لوحِ محفوظ میں اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کے احوال،حتی کہ نکاح اور رشتوں کے متعلق بھی پہلے سے لکھ دیا ہے۔ البتہ! اس جملے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ انسان اسباب اختیار کرنا چھوڑ دے، اور یہ سمجھ کر بیٹھ جائے کہ اگر تقدیر میں رشتہ لکھا ہے، تو بغیر کوشش کے خود بخود ہو جائے گا، کیونکہ شریعت نے اسباب اختیار کرنے کا بھی حکم دیا ہے، لہٰذا اس کے لیے شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے اسباب اختیار کرنے چاہییں، اور ساتھ میں اچھے رشتے کے لیےدعابھی کرنی چاہیے۔

ارشاد باری تعالی ہے ﴿وَ كُلُّ صَغِیْرٍ وَّ كَبِیْرٍ مُّسْتَطَرٌ﴾ ترجمہ: اور ہر چھوٹی بڑی چیز لکھی ہوئی ہے۔ (پارہ 27،سورۃ القمر، آیت 53)

تفسیر نسفی میں ہے {وَ كُلُّ صَغِیْرٍ وَّ كَبِیْرٍ} من الأعمال ومن كل ما هو كائن {مُّسْتَطَرٌ} مسطور في اللوح" ترجمہ: مخلوق کے تمام اعمال اور ہر ہونے والی چیزلوحِ محفوظ میں لکھی ہوئی ہے۔ (تفسیر نسفی، جلد 3، صفحہ 408، مطبوعہ: بیروت)

حضرتِ علّامہ محمد بن احمد انصاری قُرطبی علیہ رحمۃ اللہ القوی تفسیرِ قُرطبی میں لکھتے ہیں: و قال مقاتل: اللوح المحفوظ على يمين العرش. و قيل: اللوح المحفوظ الذي فيه أصناف الخلق و الخليقة، و بيان أمورهم، و ذكر آجالهم و أرزاقهم و أعمالهم، و الأقضية النافذة فيهم، ومآل عواقب أمورهم“ ترجمہ: حضرتِ سیِّدُنا مُقاتِل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: لوح محفوظ عرش کی دائیں (یعنی سیدھی) جانب ہے۔ اور کہا گیا ہے: لوحِ محفوظ میں مخلوق کی تمام اَقسام اور ان کے مُتَعلِّق تمام اُمور مَثَلًا ان کی موت، ان کے رزق، ان کےاعمال اور ان پر نافِذ ہونے والے فیصلوں اور ان کے تمام امور کے نتائج کا بیان ہے۔ (تفسیر قُرطبی، جلد 19، صفحہ 298، مطبوعہ: قاھرۃ)

توکل ترک اسباب کا نام نہیں، بلکہ اسباب اختیا ر کرتے ہوئے اللہ تعالی کی ذات پہ دل کے اعتماد کا نام ہے، چنانچہ علامہ قرطبی رحمۃ اللہ تعالی علیہ مزید فرماتے ہیں: أن اللہ تعالى قد خلق للآدمي آلة يدفع عنه بها الضرر، و آلة يجتلب بها النفع، فإذا عطلها مدعيا للتوكل كان ذلك جهلا بالتوكل . . . لأن التوكل إنما هو اعتماد القلب على اللہ تعالى" ترجمہ: اللہ تعالی نے آدمی کے لیے ایسے اسباب پیدا فرمائے ہیں کہ جن کے ذریعے وہ ضَرر کو دور کرتا، اور نفع حاصل کرتا ہے، تو جب بندہ توکُّل کا دعوی کرتے ہوئے، اِن اسباب کو چھوڑ دے، تو یہ در اصل توکُّل سے ناواقفیت ہے، کیونکہ توکل اللہ تعالی کی ذات پر، دل کے اعتماد کرنے کا نام ہے۔ (تفسیر قرطبی، جلد 9، صفحہ 309، مطبوعہ: قاہرۃ)

امامِ اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فتاویٰ رضویہ میں فرماتے ہیں: نظر مسبب جل و علا پر رکھ کر جائز اسبابِ رزق کا اختیار کرنا ہرگز منافیِ توکل نہیں، توکل ترکِ اسباب کا نام نہیں بلکہ اعتماد علی الاسباب کا ترک ہے۔ حدیث میں ہے: نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم فرماتے ہیں: اعقلھا و توکل علی اللہ۔ بر توکل پائے اشتر را ببند، (اونٹ کو باندھ کر اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجئے)۔ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 379، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی 
فتویٰ نمبر: WAT-5249
تاریخ اجراء: 22 صفر المظفر 1448ھ / 06 اگست 2026ء