logo logo
AI Search

مدد کے لیے یارسول اللہ کہنا کیسا ؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مدد کے لیے یارسول اللہ پکارنا کیسا ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اہلِ سنت و جماعت کا عقیدہ ہے کہ حضور سیدِ عالم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم اور دیگر صالحین کو ندا کر کے ان سے مدد طلب کرنا، مثلاً یہ کہنا ”یا رسول اللہ! میری مدد فرمائیے“ شرعاً جائز ہے اس عقیدے کے ثبوت میں اسلاف کے بعض اشعار بھی بطورِ دلیل پیش کیے جاتے ہیں، لیکن بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اسلاف نے اپنے اشعار میں ”یا رسول اللہ“کے الفاظ صرف حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی مدح و ثنا کے لیے استعمال کیے ہیں، استمداد و استعانت کے طور پر نہیں، تو ان اشعار سے حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے مدد طلب کرنے کا جواز ثابت نہیں ہوتا، لہٰذا اشعار میں مدح و ثنا کی غرض سے ”یا رسول اللہ“ کہنا تو جائز ہے، لیکن استمداد کی نیت سے کہنا، ناجائز، بلکہ شرک ہے، کیونکہ ان کے بقول مدد صرف اللہ تعالیٰ ہی سے طلب کی جا سکتی ہے۔شرعی رہنمائی فرمائیں کہ کیا نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو استمداد کی غرض سے نہیں پکار سکتے ؟ اور کیا واقعی اَسلاف نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے استعانت و استمداد کے طور پر ”یا رسول اللہ“ نہیں کہا؟ قرآن و سنت اور اسلاف کے عمل کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں۔

جواب

نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم، دیگر انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامْ اور اولیائے کرام رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلاَمْ سے استمداد اور استعانت بلا شبہ جائز اور مستحسن ہے اور اس مقصد کے لیے انہیں پکارنا، خواہ نظم میں ہو یا نثر یعنی عام کلام میں، ”یا“ وغیرہ حروفِ نداء کے ذریعے ہو یا کسی بھی انداز سے، ان کی حیاتِ ظاہر ی میں ہو یا بعدِ وصال، قریب سے ہو یا دور سے، بہر صورت جائز ہے، ہرگز ممنوع، حرام یا شرک نہیں۔ اور یہ بات قرآن کریم کی آیاتِ مبارکہ، کثیر احادیثِ طیبہ، آثارِ صحابہ، اقوالِ ائمہ ، مفسرین، محدثین اور علمائے دین رِضْوَانُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْن کے عمل سے ثابت ہے اور عام مسلمان بھی ہمیشہ سے نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم اور صالحین کواستمداد اور استعانت کے لیے پکارتے رہے ہیں۔

تفصیلی جواب درج ذیل ہیڈنگز کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیں :

(1) استمداد اور استعانت کا معنیٰ و مفہوم اور اہلِ حق کا عقیدہ:

(2) غیر اللہ کو مدد کی خاطر پکارنے پر قرآن و سنت سے دلائل:

(3) استمداد کے متعلق اسلاف کا عمل:

(1) استمداد اور استعانت کا معنیٰ و مفہوم اور اہلِ حق کا عقیدہ:

استمداد کی غرض سے نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم یا دیگر مقربینِ بارگاہِ الٰہی کو پکارنے کے متعلق اسلاف کا عمل جاننے سے پہلے استمداد و استعانت کا معنیٰ و مفہوم اور اس کے متعلق اہلِ حق کا درست عقیدہ سمجھ لینا ضروری ہے، تاکہ اس مسئلے کی بنیاد واضح ہو جائے، چنانچہ غیر اللہ سے کچھ مانگنے کے متعلق چار طرح کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں: (1) استعانت۔ (2) استمداد۔ (3) استغاثہ۔ (4) توسل۔ بالترتیب چاروں کے معانی ملاحظہ کیجیے:

استمداد، یہ مدد سے بنا ہے، اس کا معنی ہے: مدد طلب کرنا۔

استعانت، عون سے بنا ہے، اس کا معنی بھی مدد طلب کرنا ہے۔ (المفردات في غریب القرآن، ص 598، مطبوعہ بیروت)

استغاثہ، غوث سے نکلا ہے، اس کا معنی ہے: مشکل میں کسی کو مدد کے لیے پکارنا۔ (المفردات، ص 617)

توسل، اس کا معنیٰ ہے: ذریعہ، یعنی جس کے ذریعے كسی تک پہنچا جائے اور اس کا قرب حاصل کیا جائے، اسے وسیلہ اور توسل کہا جاتا ہے۔ (لسان العرب، جلد 11، صفحہ 725، مطبوعہ بیروت)

ان الفاظ کے علاوہ دیگر بھی متعدد الفاظ ہیں جو ان کے مترادف یا ان کا حصہ ہیں جیسے استشفاع، تشفع وغیرہا ۔ اور در اصل استمداد، استعانت اور استغاثہ و دیگر سب الفاظ توسل کی ہی صورتیں ہیں کہ ان میں بھی درحقیقت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں صالحین کا وسیلہ ہی پیش کیا جاتا ہے، یوں یہ سب ایک ہی چیز کے مختلف نام ہیں، ان میں کوئی خاص فرق نہیں، ہاں! ایک باریک سا فرق ہے، وہ یہ کہ استمداد، استعانت، ا ستغاثہ اور استشفاع میں بندہ اپنے کلام کی نسبت فاعلِ حقیقی یعنی اللہ تعالیٰ کی بجائے سبب (وسیلہ) کی طرف کرتا ہے، مگر اس کی مراد فاعل حقیقی سے ہی مدد طلب کرنا ہوتا ہے، یعنی نظریہ یہ ہوتا ہے کہ مدد اللہ تعالیٰ ہی فرمائے گا، اس کے اذن کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں، مگر کلام مجازِ عقلی والا لاتا ہے، مثلاً بندہ یوں کہتا ہے: یا رسو ل اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم میری مدد فرمایئے ۔ اس جملے میں مدد مانگنے والے نے استمداد کی نسبت وسیلے یعنی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی طرف کی ہے، مگر مانگنے والے کی مراد یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم ، خدا کی بارگاہ میں اِس کے لیے دعا فرمائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے اذن سے اس کی مدد فرمائیں گے۔ یہ گمان ہرگز نہیں ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم اللہ کی مرضی اور اجازت کے بغیر اس کی مدد کر سکتے ہیں یا یہ اللہ تعالیٰ کو دعا قبول کرنے پر مجبور کر دیں گے، معاذ اللہ۔ اگر کوئی یہ عقیدہ رکھے گا، تو ضرور اس پر حکمِ کفر یا حکمِ شرک ہوگا، لیکن کوئی بھی مسلمان ایسا عقیدہ نہیں رکھتا۔

بقیہ الفاظ کے مقابلے میں توسل میں بندہ اپنے کلام کی نسبت ہی فاعلِ حقیقی کی طرف کرتا ہے اور یوں دعا کرتا ہے، مثلاً: یا اللہ! تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے وسیلے (صدقے و طفیل) سے میری مدد فرما ۔ یا یوں: یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم آپ میرے حق میں دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ میری مدد فرمائے ۔ مختصر یہ کہ کلام کی نسبت سبب کی طرف ہو یا مسبب الاسباب کی طرف، بندہ اللہ تعالیٰ سے ہی مدد مانگتا ہے، اندازِ کلام میں کچھ فرق ہوتا ہے اور یہ سب بلا شبہ جائز ہے۔

چنانچہ امام تقی الملۃ والدین سبکی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات:756ھ) اپنی مشہورِ زمانہ کتاب ”شفاء السقام فی زیارۃ خیر الانام“ میں کثیر احادیث صریحہ سے استمداد، استعانت، استغاثہ اور توسل کا ثبوت پیش کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ”فالتوسل و التشفع والتوجہ والاستغاثۃ بالنبی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم وسائر الانبیاء والصالحین لیس لھا معنی فی قلوب المسلمین غیر ذٰلک ولایقصد بھا احد منھم سواہ فمن لم ینشرح صدرہ لذٰلک فلیبک علی نفسہ نسأل لہ العافیۃ... والمستغاث بہ فی الحقیقۃ: ھو اللہ تعالی، والنبی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم واسطۃ بینہ و بین المستغیث“ یعنی: نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم یا آپ کے علاوہ دیگر انبیائے کرام علیہم السلام یا صالحین کی طرف توسل، تشفع، توجہ اور استغاثہ (فریاد) کے یہی معنیٰ مسلمانوں کے دلوں میں ہیں، کوئی بھی مسلمان اس کے علاوہ کوئی اور معنیٰ نہیں سمجھتا، اور نہ ہی قصد کرتا ہے، وہ معنیٰ یہ ہے کہ حقیقتاً استغاثہ (فریاد) اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہوتی ہے اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ اور اس فریادی کے درمیان وسیلہ و واسطہ ہیں۔ تو جس کا دل اسے قبول نہ کرے، وہ اپنے حال پر روئے، ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔

مزید لکھتے ہیں: ”واذا صح المعنیٰ، فلا علیک فی تسمیتہ: توسلا او تشفعا او توجھا او استغاثۃ“ یعنی: جب اس کا صحیح مفہوم واضح ہو گیا، تو پھر اسے توسل، تشفع، توجہ یا استغاثہ میں سے جس نام سے بھی تعبیر کیا جائے، کوئی مضائقہ نہیں۔ (شفاء السقام، صفحہ 378، 379، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت)

معروف محدث و فقیہ علامہ ابن حجر ہیتمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 972ھ) نے بھی اپنی کتاب ”الجوھر المنظم“ میں اسی مفہوم کو بالتفصیل بیان کیا اور کثیر احادیث سے استمداد و توسل کا ثبوت بیان کیا، پھر لکھا: ”ولا فرق بین ذکر التوسل و الاستغاثہ والتشفع والتوجه به او بغيره من الانبياء، وكذا الاولياء“ یعنی: نبیِ کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم یا دیگر انبیائے کرام علیہم السلام، نیز اولیائے کرام کے ذریعے توسل، استغاثہ، تشفع اور توجہ اختیار کرنے میں کوئی فرق نہیں۔ (الجوھر المنظم، الفصل السابع، صفحہ 111، مطبوعہ مکتبہ مدبولی، قاھرہ)

استمداد درحقیقت توسل ہی کی ایک صورت ہے، چنانچہ سِراجُ الہند حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ ﴿اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ﴾ کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’یہاں یہ سمجھنا چاہیے کہ غیر سے اس طرح مدد مانگنا کہ مطلقاً اُسی پر اعتماد کرے اور اسے اللہ تعالیٰ کی جانب سے مدد کا مظہر نہ سمجھے، تو یہ حرام (بلکہ کفر) ہے۔ اور اگر توجہ صرف الله تعالیٰ کی طرف ہو اور اُس غیرُ اللہ کو مدد کے مَظاہر میں سے ایک مظہر سمجھتے ہوئے اور الله تعالی کے مقرر کردہ اسباب اور حکمت پر نظر کرتے ہوئے اس غیر سے ظاہری طور پر امداد مانگے تو یہ عرفان سے دور نہیں اور شرع شریف میں بھی جائز ہے۔ انبیا علیہم السلام اور اولیاء نے اس قسم کی امداد دوسروں سے مانگی ہے اور حقیقت میں یہ غیر سے نہیں، بلکہ حضرت حق تعالی سے استمداد ہے۔“ (تفسیرِ عزیزی مترجم، جلد 1، صفحہ 53، مطبوعہ نوریہ رضویہ پبلی کیشنز)

شیخ عبد الحق محدّث دہلوی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ اسلاف میں سے ہیں، ان کے اقوال کو سب ہی معتبر سمجھتے ہیں، آپ ’’اشعۃ اللمعات‘‘ میں انبیائے کرام اور اولیائے عظام كو استمداد کی غرض سے پکارنے کے متعلق لکھتے ہیں: ”ولیت شعری چہ مے خواہند ایشان باستمداد وامداد کہ ایں فرقہ منکراند آنرا آنچہ ما مے فہمیم از آں اینست کہ داعی محتاج فقیر الی اللہ، دعا مے کند و طلب مے کند حاجت خود را از جناب عزت وغناوے وتوسل مے کند بروحانیت ایں بندہ مقرب ومکرم در درگاہِ عزت وے، وے گوید خداوندا بہ برکت ایں بندہ تو کہ رحمت کردۂ بروے واکرام کردۂ او را وبلطف وکرمے کہ بوے داری برآوردہ گرداں حاجت مرا، کہ تو معطی کریمی۔ یا ندا مے کند ایں بندہ مکرم ومقرب را کہ اے بندہ خدا اے ولی وے شفاعت کن مراد بخواہ از خدا کہ بد ہد مسئول ومطلوب مرا وقضا کند حاجت مرا۔ پس معطی ومسئول ومامول پروردگار است تعالیٰ وتقدس ونیست ایں بندہ درمیان مگر وسیلہ۔ ونیست قادر وفاعل ومتصرف در وجود مگر حق سبحانہ و اولیاء خدا فانی وہالک اند در فعل الٰہی وقدرت وسطوت وے ونیست ایشاں را فعل وقدرت و تصرف نہ اکنوں کہ درقبور اند ونہ در آں ہنگام کہ زندہ بودند در دنیا“ یعنی: کاش میری عقل ان لوگوں کے پاس ہوتی! جو لوگ اولیاء اللہ سے استمداد اور ان کی امداد کا انکار کرتے ہیں، یہ اس کا کیا مطلب سمجھتے ہیں؟ جو کچھ ہم سمجھتے ہیں، وہ یہ کہ دعا کرنے والا، اللہ کا محتاج ہے، وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا، اس سے اپنی حاجت کو طلب کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ولی و مقرب کا وسیلہ پیش کرتا ہے۔ وہ عرض کرتا ہے کہ اے اللہ! تو نے اپنے اس بندۂ مکرم پر جو رحمت فرمائی ہے اور اس پر جو لطف و کرم کیا ہے اس کے وسیلہ سے میری اس حاجت کو پورا فرما کہ تو دینے والا کریم ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ اس اللہ کے ولی کو ندا کرتا ہے اور اس کو مخاطب کر کے یہ کہتا ہے کہ اے بندۂ خدا اور اے اللہ کے ولی! میری شفاعت کریں اور اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ وہ میرا سوال اور مطلوب مجھے عطا کرے اور میری حاجت برلائے، تو عطا کرنے والا اور حاجت کو پورا کرنے والا (دونوں صورتوں میں) صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے ۔ یہ بندہ درمیان میں صرف وسیلہ ہے جبکہ قادر، فاعل اور اشیاء میں تصرف کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اولیاء اللہ، اللہ تعالیٰ کے فعل، سطوت، قدرت اور غلبہ میں فانی اور ہالک ہیں اور اِن کو نہ تو اب قبر میں افعال پر (ذاتی طور پر کوئی) قدرت اور تصرف حاصل ہے اور نہ اس وقت انہیں کوئی ذاتی قدرت اور تصرف حاصل تھا جب وہ زندہ تھے۔ (اشعۃ اللمعات، جلد 3، صفحہ 401، مطبوعہ نوریہ رضویہ، سکھر)

اشکال: استمداد کے معاملے میں سوال کی نسبت مسبب الاسباب کی طرف ہو، تو کلام حقیقی اور نسبت سبب کی طرف ہو، تو کلام مجازِ عقلی، یہ قاعدہ اور اصول کس نے بنایا اور یہ اصول کہاں سے سمجھا گیا ؟

جواب یہ ہے کہ یہ اصول قرآن مجید میں ہی موجود ہے، مگر اس کو سمجھا عقل والوں نے ہے۔ قرآن مجید میں اس قسم کی کئی مثالیں موجود ہیں، مگر طوالت سے بچتے ہوئے تفہیم کی غرض سے فقط دو مثالوں پر اکتفا کیا جاتا ہے، چنانچہ رب العالمین عزوجل قرآن مجید میں ایک مقام پر موت دینے کی نسبت اپنی طرف فرماتا ہے، جبکہ دوسری آیت میں موت دینے کی نسبت حضرت عزرائیل عَلَیْہِ السَّلام کی طرف فرما رہا ہے، جیساکہ سورۃ الزمر میں ہے: ﴿اَللّٰهُ یَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِهَا﴾ ترجمہ: ”اللہ جانوں کوان کی موت کے وقت وفات دیتا ہے۔“ (سورۃ الزمر، آیت 42)

اور سورۃ السجدۃ میں ارشاد ہوتا ہے: ﴿قُلْ یَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُكِّلَ بِكُمْ ﴾ ترجمہ: ”تم فرماؤ: تمہیں موت کا فرشتہ وفات دیتا ہے جو تم پر مقرر ہے۔“ (سورۃالسجدۃ ، آیت 11)

اسی طرح قرآنِ کریم میں ایک مقام پر اللہ تعالیٰ نے اولاد دینے کی نسبت اپنی طرف فرمائی، جبکہ دوسرے مقام پر حضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلام نے اولاد دینے کی نسبت اپنی طرف فرمائی ہے، چنانچہ سورۃ الشوریٰ میں ہے: ﴿لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَ﴾ ترجمہ: آسمانوں اور زمین کی سلطنت اللہ ہی کے لیے ہے، وہ جو چاہے پیدا کرے، جسے چاہے بیٹیاں عطا فرمائے اور جسے چاہے بیٹے دے۔ (سورۃ الشوری، آیت 49)

اور سورۂ مریم میں ہے: ﴿قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِیًّا﴾ ترجمہ: کہا: میں تو تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں، تا کہ میں تجھے ایک پاکیزہ بیٹا عطا کروں۔ (سورۃ مریم ، آیت 19)

مذکورہ دونوں مثالوں سے واضح ہوا کہ غیر اللہ کی طرف مدد کرنے، اولاد دینے، وفات دینے جیسے عظیم تصرفات و اختیارات کی نسبت کرنا کیسا ہے؟ یقینا قرآن کی آیات سے اس کا جائز ہونا واضح ہو گیا اور یہیں سے ہمارا بیان کردہ اصول بھی واضح ہو گیا کہ فاعلِ حقیقی اللہ تعالیٰ ہی ہے، اور خدا کے علاوہ بقیہ ساری مخلوق جو بھی فعل کرے وہ خدا کی دی ہوئی طاقت سے ہے اور وہ حقیقت میں درمیان میں وسیلہ ہی ہیں۔ موت دینے والی حقیقی ذات خدا عزوجل کی ہے جبکہ حضرت عزرائیل عَلَیْہِ السَّلام اللہ کے حکم اور اس کی دی ہوئی طاقت سے موت طاری کرنے کا وسیلہ اور وفات دینے والے ہیں، اس کے اذن کے بغیر کسی کو وفات نہیں دے سکتے۔ یونہی اولاد دینے والا اللہ ہی ہے، حضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلام نے محض اللہ کے اذن اور اس کی عطا سے اولاد دی اور درمیان میں محض وسیلہ بنے۔

اسی اصول کی وضاحت کرتے ہوئے علامہ سعد الدین تفتازانی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 791ھ / 1388ء) اپنی کتاب ”المطول“ میں لکھتے ہیں کہ جب کوئی مسلمان یہ کہے ”انبت الربیع البقل “ یعنی موسمِ بہار نے سبزہ اگایا، تو یہ اسناد مجازی ہوگی، کیونکہ موحد کا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ اُگانا بہار کی صفت ہے، یعنی مسلمان کا عقیدہ یہ ہے کہ اُگانا اللہ تعالیٰ کا کام ہے اور موسم بہار سبزہ اگنے کا سبب ہے۔ جبکہ یہی جملہ کوئی دہریہ یعنی وجودِ باری تعالیٰ کا منکر کہے، تو اسے حقیقت کہا جائے گا، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے وجود کا ہی منکر ہے، تو تاثیر کا قائل کیسے ہوگا۔ چنانچہ لکھتے ہیں: ”قلت: أراد بالاسناد إلى غير ما هو له مفهومه الظاهر، أعني ما يصدق عليه أنه إسناد إلى غير ما هو له، سواء أعني المغاير في الواقع، أو عند المتكلم في الحقيقة، أو في الظاهر... قول الدهري: أنبت الربيع البقل، بتأول حين يظهر أنه موحد لكونه إلى غير ما هو له في الواقع، وكذا نحو قول الموحد: أنبت اللہ البقل، بتأول عند إخفاء حاله من الدهري، وإظهار أنه غير معتقد لظاهره، بل إنما أسنده إلى السبب، لأنه إلى غير ما هو له عند المتكلم في الظاهر“ ترجمہ: مفہوم اوپر گزر چکا۔ (المطول، صفحہ 201، مطبوعہ بیروت)

علامہ عبد الحکیم شرف قادری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ”اگر کافر نے کہا کہ طبیب نے مریض کو شفاء دی تو یہ حقیقت ہے، کیونکہ وہ اللہ تعالی کی تاثیر کا قائل ہی نہیں ہے، مگر یہی بات اگر مومن نے کہی تو اسے مجاز عقلی کہا جائے گا۔ اور اس کا ایماندار ہو نا اس بات کی علامت ہوگا کہ وہ شفاء کی نسبت طبیب کی طرف اس لئے کر رہا ہے کہ وہ شفاء کا سبب ہے۔ اس لئے نسبت نہیں کر رہا ہے کہ فی الواقع طبیب نے شفاء دی ہے شفاء دینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے ۔ ۔۔ اس گفتگو پر غور کرنے سے مسئلہ استعانت (مدد طلب کرنا) کی حیثیت بالکل واضح ہو جاتی ہے، کیونکہ انبیاء علیہم السلام و اولیاء علیہم الرحمۃ سے مدد چاہنے والا اگر مومن ہے ۔ تو اس کا ایماندار ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اس کے نزدیک کارساز حقیقی مقاصد کو پورا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ ان امور کی نسبت اولیاء و انبیاء کی طرف مجاز عقلی کے طور پر کی گئی ہے کہ وہ مقاصد کو پورا کرنے کے لیے سبب اور وسیلہ ہیں ۔“ (عقائد و نظریات، صفحہ 184، مطبوعہ مکتبہ قادریہ)

مذکورہ تفصیل سے واضح ہوا کہ استعانت، استمداد، استغاثہ اور وسیلہ ایک ہی شئی ہے، بلکہ چونکہ استمداد، توسل کی ہی صورت ہے، لہٰذا جس طرح نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا وسیلہ پیش کرنا، جائز ہے، اسی طرح انہیں مدد کے لیے پکارنا بھی جائز ہے، اسے شرک کہنا، شریعتِ مطہرہ پر بہتان اور سخت گناہ کا کام ہے ۔

خدا توفیقِ ہدایت دے تو غور کرنا چاہیے کہ مسئلہ استمداد یعنی غیر اللہ سے مدد مانگنا اور اس مقصد کے لیے انہیں پکارنا، ایسا مسئلہ ہے کہ جس پر عالمِ اسلام کا اجماع و اتفاق موجود ہے، کیونکہ قرونِ ثلاثہ یعنی اسلام کی ابتدائی تین صدیوں سے لے کر ساتویں صدی ہجری تک تمام اہل اسلام میں انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامْ اور صالحین رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلاَمْ سے مدد طلب کرنا اور قضائے حاجت کے لئے انہیں پکارنا اور وسیلہ بنانا ایک حقیقتِ ثابتہ رہی اور بلا تفریق جمہور مسلمین اس کے جواز و استحسان پر قولاً و عملاً متحد و متفق رہے۔ خیر القرون میں صحابہ و تابعین و تبع تابعین رضی اللہ عنہم، کتاب و سنت کے حاملین اور ساتویں صدی ہجری کے علمائے راسخین، فقہاء و محدثین سب کا یہی موقف رہا، بلکہ ہر دور اور قرن میں یہ نظریہ موجود رہا اور آج بھی کسی اختلاف و نزاع کے بغیر رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے حقیقی جانشین اسی پاکیزہ موقف پر گامزن ہیں، ان میں سے کسی نے بھی انبیاء و صلحاء سے استمداد اور اس مقصد کے لیے انہیں پکارنےکو اسلامی تصورِ توحید کے منافی نہیں جانا۔

اس متفقہ نظریے میں پہلی دفعہ رخنہ ڈالنے والا ، اس کا منکر اور استمداد و توسل کی خاطر غیر اللہ کو پکارنے کو شرک سے تعبیر کرنے والا پہلا شخص ساتویں صدی ہجری کے وسط میں پیدا ہوا جس کا نام ابن تیمیہ ہے۔ اس دور کے جید علمائے کرام نے اس بد عقیدہ شخص کے دیگر تفردات کی طرح اس مسئلہ میں بھی اس کا شدید ردو ابطال فرمایا، جس کے نتیجہ میں تقریباً چار سو سال تک یہ فتنہ زیرِ زمین دفن رہا۔ پھر بارہویں صدی کے آغاز میں عرب میں قرن الشیطان یعنی شیطان کا پیروکار نکلا، جس نے اس فتنہ کو پھر ابھارا اور اسی صدی کے اخیر میں اس کے بعض اندھے مقلدوں نے ہندوستان میں اس فتنہ کو ہوا دی جس سے یہ فتنہ آج تک جاری ہے۔

الغرض جب آغازِ اسلام سے اب تک ہر دور میں انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلامْ اور اولیاء و صلحاء رَحِمَھُمُ اللہُ سے استمداد اور اس غرض سے انہیں پکارنے کا عام دستور رہا، علمائے راسخین اور کتاب و سنت کے حاملین کا ہر قرن و صدی میں یہ معمول رہا، کسی نے اس پر انکار نہیں کیا، سب کے سب بالاتفاق اسے جائز و مستحسن اور حاجات پوری ہونے کا ذریعہ سمجھتے رہے، تو یہ توحید کے منافی یا شرک کیسے ہو سکتا ہے ؟ معلوم ہوا کہ یہ کام ہرگز برا، گناہ یا شرک و گمراہی نہیں ہو سکتا، اگر مدد کے لیے کسی کو پکارنا، شرک ہو، تو پھر دنیا میں کوئی بھی شخص مسلمان نہیں بچے گا، سب کے سب مشرک قرار پائیں گے، کیونکہ ہر شخص دنیا میں کسی نہ کسی کو اپنی مدد کے لئے ضرور پکارتا ہے۔

اگر یہ کہا جائے کہ فوت شدہ کو مدد کے لیے پکارنا، شرک ہے، زندہ کے متعلق یہ حکم نہیں، تو جواب یہ ہے کہ زندہ و مردہ کی یہ تفصیل کس قرآنی آیت یا حدیثِ پاک میں بیان ہوئی ہے ؟ قرآن و حدیث میں کہیں بھی یہ فرق بیان نہیں ہوا۔ لہٰذا جب زندہ و مردہ کا کوئی فرق بیان ہی نہیں ہوا، تو جن کے نزدیک مطلقاً مدد کے لیے پکارنا شرک ہے، تو ان کے مطابق دنیا میں سب لوگ ہی مشرک ہو گئے، العیاذ باللہ۔ جبکہ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کے مجموعی طور پر شرک اور گمراہی سے محفوظ رہنے کی ضمانت خود بیان فرمائی ہے، چنانچہ صحیح بخاری میں ہے: ’’وإني واللہ ما أخاف عليكم أن تشركوا بعدي، ولكني أخاف عليكم أن تنافسوا فيها“ یعنی: بے شک میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں مجھے اپنے بعد تمہارے شرک میں مبتلا ہونے کا کوئی خوف نہیں، ہاں مجھے یہ خوف ہے کہ تم لوگ دنیا میں رغبت کرو گے ۔ (صحیح بخاری ج 5، ص 103، مطبوعہ مصر)

اور گمراہی پر جمع نہ ہونے کی ضمانت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”إن اللہ لا يجمع أمتي أو قال: أمة محمد صلى اللہ عليه وسلم على ضلالة، ويد اللہ مع الجماعة ومن شذ شذ إلى النار“ یعنی: اللہ تعالیٰ میری امت کو یا فرمایا امتِ محمد کو گمراہی پر جمع نہ کرے گا اور اللہ تعالیٰ کا دست رحمت جماعت پر ہے (تو جب لوگوں میں اختلاف دیکھو، تو مسلمانوں کی سب سے بڑی جماعت کو تھام لو کہ) جو جماعت سے جدا ہوا، وہ دوزخ میں گیا۔ (سنن ترمذی، کتاب الفتن، جلد 4، صفحہ 39، مطبوعہ بیروت)

اور علامہ ابن حجر ہیتمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے استمداد اور اس غرض سے آپ کو پکارنے کو اجماعی مسئلہ قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ”وانه صلى اللہ عليه وسلم يتوسل به في كل خير قبل بروزه لهذا العالم وبعده في حياته وبعد وفاته، وكذا في عرصات القيامة فيشفع إلى ربه، وهذا مما قام الاجماع عليه وتواترت به الأخبار یعنی: ہر طرح کے ذکرِ خیر میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا وسیلہ اور ان سے استعانت کی جاسکتی ہے، آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے اس دنیا میں ظہور سے قبل بھی اور بعد ظہور بھی، آپ کی حیات ظا ہری میں بھی اور بعد وصال بھی، یوں ہی میدانِ قیامت میں بھی آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم اپنے رب کے حضور سفارش فرمائیں گے اور یہ ان امور میں سے ہے جن پر اجماع قائم ہے اور اس باب میں روایات تواتر کی حد تک پہنچی ہوئی ہیں ۔ (الجوھر المنظم، الفصل السابع، صفحہ 112، مطبوعہ مکتبہ مدبولی، قاھرہ)

مذکورہ بالاتمام تر تفصیل سے اہلِ حق، اہل سنت کا عقیدہ اور اس کی حقانیت کھل کر سامنے آ گئی کہ اہل سنت و جماعت کے نزدیک انبیاء واولیاءسے مدد مانگنا صرف توسل ہے، یعنی حقیقی مدد اللہ تعالیٰ ہی کی جانب سے ہوتی ہے اور کوئی بھی مسلمان انبیاء، اولیاء اور صلحاء کو مستقل بالذات سمجھ کر مدد کے لیے نہیں پکارتا، نہ ہی انہیں قادر بالذات سمجھتا ہے، بلکہ انہیں قضائے حاجات کا وسیلہ اور حصولِ فیض کا واسطہ جانتے ہوئے پکارتا ہے۔ اور یہ معنیٰ غیرِ خدا ہی کے ساتھ خاص ہے۔ اس استمداد و استعانت کو تصورِ توحید کے منافی قرار دینا اور شرک سمجھنا، توحید اور شرک کے شرعی مفہوم سے جاہل و ناواقف ہونے کی واضح دلیل ہے۔ لہٰذا شرک کی تعریف اور اس کا مفہوم سمجھنا ضروری ہے، تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ اہل حق کا عقیدہ تصورِ توحید کے منافی ہے یا اس کے عین مطابق ہے۔ چنانچہ شرک کی تعریف بیان کرتے ہوئے علامہ سعد الدین تفتازانی عَلَیْہِ الرَحْمَۃُ لکھتے ہیں: ”الاشتراک هو اثبات الشريك في الالوهية بمعنى وجوب الوجود كما للمجوس او بمعنى استحقاق العبادة كما لعبدة الاصنام“ ترجمہ: شرک، تو وہ الوہیت میں کسی شریک کو اس طرح ثابت کرنا کہ اسے واجب الوجود مان لیا جائے، جیسا کہ مجوسیوں کا عقیدہ ہے، یا عبادت کا مستحق مانا جائے، جیسا کہ بت پرستوں کا خیال ہے۔ (شرح عقائد نسفیہ، صفحہ 203، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

شرک کی تعریف سے بخوبی عیاں ہے کہ خدا کی عطا کردہ قوتِ امداد مان کر انبیائے کرام یا اولیائے عظام کو مدد کے لیے پکارنا، ہرگز ہرگز شرک نہیں، ورنہ دینی و دنیاوی کسی بھی طرح کی مدد کسی غیر اللہ سے چاہنا شرک ٹھہرے گا، والعیاذ باللہ۔

(2) غیر اللہ کو مدد کی خاطر پکارنے پر قرآن و سنت سے دلائل:

قرآن و سنت کی صریح نصوص سے ثابت ہے کہ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلامْ اور اولیاء و صالحین رَحِمَھُمُ اللہُ کو اللہ تعالیٰ یہ طاقت دیتا ہے کہ لوگ ان سے مدد مانگ بھی سکتے ہیں اور یہ حضرات مدد کے لیے پکارنے والوں کی حاجت روائی اور مشکل کشائی فرماتے بھی ہیں، بلکہ بعض مواقع ایسے بھی ہیں کہ جہاں خود ان با اختیار ہستیوں نے اتمامِ حجت، تعلیمِ امت یاکسی اور حکمت کے پیشِ نظر دینِ خدا کی مدد یا کسی اور مقصد کے لیے لوگوں سے مدد کا سوال بھی کیا ہے، اختصار کے پیشِ نظر چند آیات و احادیث پیش کی جائیں گی ۔

آیاتِ مبارکہ:

اللہ تعالیٰ بھی مددگار، اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم بھی اور صالحین بھی مددگار ہیں، چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے: ﴿اِنَّمَا وَلِیُّكُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ رٰكِعُوْنَ ﴾ یعنی: اے مسلمانو! تمہارا مددگار صرف اللہ اور اس کے رسول اور وہ ایمان والے ہیں، جو نماز قائم رکھتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہ رکوع کرنے والے ہیں۔ (سورۃ المائدۃ، آیت 55)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دینِ خدا کی مدد کے لیے خود لوگوں کو پکارا، چنانچہ ارشادِ رب العباد ہے: ﴿فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِیْسٰى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِؕ-قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِۚ-اٰمَنَّا بِاللّٰهِۚ﴾ ترجمہ: پھر جب عیسیٰ نے ان (بنی اسرائیل) سے کفر پایا، تو فرمایا: اللہ کی طرف ہو کر کون میرا مددگار ہوتا ہے؟ مخلص ساتھیوں نے کہا: ’’ہم اللہ کے دین کے مددگار ہیں۔ (سورۃ آل عمران، آیت 52)

حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلام نے خرقِ عادت معاملے میں مدد طلب فرمائی اور آپ کی امت کے ولی نے آپ کی مدد بھی کی ، چنانچہ قرآن پاک میں ہے: ﴿قَالَ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَیُّكُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ وَ اِنِّیْ عَلَیْهِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ﴾ ترجمہ: سلیمان نے فرمایا: اے درباریو! تم میں کون ہے جو ان کے میرے پاس فرمانبردار ہوکر آنے سے پہلے اس کا تخت میرے پاس لے آئے، ایک بڑا خبیث جن بولا کہ میں وہ تخت آپ کی خدمت میں آپ کے اس مقام سے کھڑے ہونے سے پہلے حاضر کردوں گا اور میں بیشک اس پر قوت رکھنے والا، امانتدار ہوں، اس نے عرض کی جس کے پاس کتاب کا علم تھاکہ میں اسے آپ کی بارگاہ میں آپ کے پلک جھپکنے سے پہلے لے آؤں گا، پھرجب سلیمان نے اس تخت کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو فرمایا: یہ میرے رب کے فضل سے ہے۔ (سورۃ النمل، آیت 38، 39، 40 )

نیکوں سے مدد مانگنا، چونکہ انہیں بارگاہِ الٰہی میں وسیلہ بنانا ہے اور وسیلے کی تعلیم خود قرآنِ کریم میں بیان ہوئی ہے ، ارشادِ خداوندی ہے: ﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ وَ جَاهِدُوْا فِیْ سَبِیْلِهٖ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ﴾ ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو اور اس کی راہ میں جہاد کرو، اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ۔ (سورہ المائدۃ، آیت 35)

مذکورہ بالا آیات میں اللہ تعالیٰ نے مطلقاً ارشاد فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم اور صالحین مددگار ہیں، یہ نہیں فرمایا کہ تحت العادۃ مدد کر سکتے ہیں، فوق العادۃ یا خرقِ عادت نہیں کر سکتے، زندگی میں مدد کر سکتے ہیں، بعدِ وصال نہیں کر سکتے، قریب سے پکارنے پر مدد کر سکتے ہیں، دور سے پکار نہیں سنتے، وغیرہ، بلکہ مطلقاً فرمایا کہ بہر صورت مدد کر سکتے ہیں، بلکہ کرتے بھی ہیں، لہٰذا جب یہ مدد کر سکتے ہیں، تو انہیں مدد کے لیے پکارنے میں بلا شبہ کوئی حرج نہیں، بلکہ اپنی حاجات کے لیے اہل اللہ سے مدد مانگنا، صحابہ و تابعین اور سلف صالحین رِضْوَانُ اللہِ عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْن کا طریقہ ہے۔

احادیث طیبہ:

امام نسائی، امام ترمذی، امام ابن ماجہ، امام حاکم، امام بیہقی، امام طبرانی وغیرہ کئی محدثین نے اپنی کتابوں میں اس حدیثِ پاک کو بیان کیاکہ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ایک صحابی کو ان کی حاجت کے لیے ایک دعا تعلیم فرمائی، جس میں حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو ندا کرنے اور آپ سے مدد طلب کرنے کی صراحت موجود ہے، واللفظ لابن ماجہ: ”أللھم انی أسئلک وأتوجہ الیک بنبیک محمد نبی الرحمۃ یا محمد انی قد توجھت بک الیٰ ربی فی حاجتی ھٰذہ لتقضی لی أللھم فشفعہ فی، قال أبو اسحاق ھٰذا حدیث صحیح“ ترجمہ: اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری طرف تیرے رحمت والے نبی محمد صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے وسیلہ سے متوجہ ہوتا ہوں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم! میں آپ کے وسیلہ سے اپنے رب کی طرف اپنی اس حاجت کے بارے میں متوجہ ہوتا ہوں تا کہ آپ یہ حاجت میرے لیے پوری فرما دیں ۔ اے اللہ! آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت میرے حق میں قبول فرما۔ ابو اسحاق نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ (سنن ابن ماجہ، صفحہ 99، مطبوعہ کراچی)

مذکورہ بالا حدیث کے متعلق مشہور مفسر و شارح مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ”یہ دعا قیامت تک کے مسلمانوں کو سکھائی گئی ہے، اس میں نداء بھی ہے اور حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام سے مدد بھی مانگی ہے۔“ (جاء الحق، حصہ 1، صفحہ 153، مطبوعہ قادری پبلشرز، لاهور)

نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے نیک لوگوں سے حاجات طلب کرنے کی تعلیم خود ارشاد فرمائی ، جیسا کہ مسند اسحاق، فضائل الصحابۃ لاحمد، المستدرك، صحیح ابن حبان، معجم کبیر، معجم اوسط، شعب الایمان، وغیرہا میں ہے، واللفظ لمعجم الکبیر: ”اطلبوا الخیر والحوائج من حسان الوجوہ یعنی: بھلائی اور حاجتیں ان لوگوں سے مانگو جن کے چہرے عبادت الہٰی سے روشن ہیں۔ (المعجم الکبیر، جلد 11، صفحہ 81، مطبوعہ قاھرہ)

اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت الشاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ/1921ء) اس مضمون کی سترہ احادیث نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ”انصاف کی آنکھیں کہاں ہیں ؟ ذرا ایمان کی نگاہ سے دیکھیں یہ سولہ بلکہ سترہ حدیثیں کیسا صاف صاف واشگاف فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اپنے نیک امتیوں سے استعانت کرنے، ان سے حاجتیں مانگنے، ان سے خیر و احسان کرنے کا حکم دیا کہ وہ تمھاری حاجتیں بکشادہ پیشانی روا کریں گے، ان سے مانگو، تو رزق پاؤ گے، مرادیں پاؤ گے، ان کے دامن حمایت میں چین کرو گے ان کے سایہ عنایت میں عیش اٹھاؤ گے۔ یا رب! مگر استعانت اور کس چیز کا نام ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا صورت استعانت ہوگی ، پھر حضرات اولیاء سے زیادہ کون سا امتی نیک و رحم دل ہوگا کہ ان سے استعانت شرک ٹھہرا کہ اس سے حاجتیں مانگنے کا حکم دیا جائے گا، الحمد للہ حق کا آفتاب بے پردہ وحجاب روشن ہوا۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 21، صفحہ 317، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے یا کے ساتھ پکار کر مدد مانگنے کی بھی خود تعلیم ارشاد فرمائی، مزید یہ کہ ان لوگوں کو پکارنے کا حکم دیا جو بظاہر پاس موجود نہیں ہوتے، چنانچہ مصنف ابن ابی شیبہ، مسند ابو یعلیٰ اور معجم کبیر وغیرہا کتبِ احادیث میں ہے، واللفظ للآخر: ”إذا أضل أحدكم شيئا أو أراد أحدكم عونا وهو بأرض ليس بها أنيس، فليقل: يا عباد اللہ أغيثوني، يا عباد اللہ أغيثوني، فإن لله عبادا لا نراهم“ ترجمہ: جب تم میں سے کوئی شخص کسی چیز کو گم کردے یا اسے مدد کی حاجت ہو اور وہ ایسی جگہ ہو جہاں کوئی مدد گار نہ ہو، تو اسے چاہیے یوں پکارے: ”اے اللہ کے بندو! میری مدد کرو، اے اللہ کے بندو ! میر ی مدد کرو کہ اللہ کے کچھ بندے ہیں جنہیں ہم دیکھ نہیں رہے ہوتے (وہ اس کی مدد کریں گے )۔ (المعجم الكبير للطبراني، ما أسند عتبة بن غزوان، جلد 17، صفحہ 117، مطبوعہ قاهرہ)

امامِ اہلِ سنّت رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس موضوع پر تین احادیث نقل کر کے لکھتے ہیں: ”یہ حدیثیں کہ تین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے روایت فرمائیں قدیم سے اکابر علمائے دین رحمہم اللہ تعالی کی مقبول ومعمول ومجرب ہیں ۔“ (فتاوی رضویہ، ج 21، ص 318، رضا فاؤنڈیشن)

بغور دیکھیے کہ مذکورہ احادیث میں نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کہ جن کے صدقے دنیا میں توحید کا پیغام عام ہوا اور جن کے طفیل کائنات کو اللہ تعالیٰ کے واحد و یکتا ہونے کی معرفت نصیب ہوئی، وہ اپنی امت کو ”یا “ کے ساتھ پکار کر مدد مانگنے کی خود تعلیم ارشاد فرما رہے ہیں۔ اللہ اکبر! اس سے بڑھ کر کیا دلیل دی جائے ؟ جب ان احادیث کی روشنی میں انہی کے امتیوں کو ”یا عباد اللّٰہ، یا علی، یا غوث“ وغیرہ کہہ کر مدد مانگ سکتے ہیں، تو خود انہیں ”یا رسول اللہ اعینونی، یا رسول اللہ اغیثونی، المدد یا رسول اللہ، یا رسول اللہ انظر حالنی“ ، وغیرہ کہنا کیونکر ممنوع، حرام یا شرک ہوگا ؟

مزید ملاحظہ کیجیے، کائنات کے والی، امام الانبیاء صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے میدانِ احد میں اپنے شہید چچا حضرت حمزہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو یا فاعل الخیرات، یا کاشف الکربات یعنی اے بھلائیاں کرنے والے، اے مشکلیں ٹالنے والے کہہ کر پکارا ، چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چچا سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے جنازے کو قبلہ کی سمت رکھ کر شدت سے گریہ فرمایا حتی کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی ہچکی بندھ گئی، پھر سیدنا اَمیر حمزہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو مخاطب کر کے فرمانے لگے : يا حمزة! يا عمَ رسولِ اللہ! و أسد اللہ! و أسد رسوله! ياحمزة! يا فاعل الخيرات! ياحمزة! يا کاشف الکُرُبات! يا ذاب عن وجه رسول اللہ “ یعنی: اے حمزہ رضی اللہ عنہ ! اے رسول اللہ کے چچا! اے اللہ کے شیر! اے اللہ کے رسول کے شیر! اے حمزہ! اے بھلائی کرنے والے! اے غموں اور تکالیف کو دور کرنے والے! اے رسول اللہ کے چہرۂ اَنور کی حفاظت و حمایت کرنے والے۔ (المواهب اللدنية، جلد 1، صفحہ 515، مطبوعہ القاھرۃ)

اِس حدیثِ مبارک میں وصال کر جانے والے کے لئے حرفِ ’’يا ‘‘ کے ساتھ نداء کا جواز حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے ان الفاظ ’’يا حمزۃ، یا کاشف الکربات‘‘ سے روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔

(3) استمداد کے متعلق اسلاف کا عمل:

اسلاف یعنی صحابہ کرام، تابعینِ عظام اور اولیا ء و صلحاء سے ثابت ہے کہ یہ حضرات نہ صرف مدح و ثنا میں یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کہا کرتے تھے، بلکہ مصائب و آلام میں استمداد و استغاثہ کے طور پر بھی سرورِ کائنات صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو ”یا “ کے ساتھ پکارا کرتے تھے، چند روایات اور اشعار ملاحظہ کیجیے:

حضرت بلال بن حارث رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ خلافتِ فاروقی کے زمانے میں نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ انور پر حاضر ہوئے اور براہِ راست نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی کہ آپ اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے بارش طلب کریں، چنانچہ مصنف ابنِ ابی شیبہ میں ہے: ”عن مالك الدار، قال: وكان خازن عمر على الطعام، قال: أصاب الناس قحط في زمن عمر، فجاء رجل إلى قبر النبي صلى اللہ عليه وسلم فقال: يا رسول اللہ، استسق لأمتك فإنهم قد هلكوا۔۔۔الخ“ ترجمہ: حضرت مالک دار رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے، آپ حضرت عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی جانب سے غلے پر خازِن مقرر تھے، آپ بتاتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق کے مبارک زمانے میں قحط پڑ گیا، تو ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ مبارک پر حاضر ہو کر آپ سے عرض گزار ہوا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم! اپنی امت کے لیے بارش طلب کیجیے، بے شک وہ سب قحط کے سبب ہلاک ہوئے جارہے ہیں۔ (مصنف ابنِ ابی شیبہ، جلد 6، صفحہ 356، مطبوعہ مکتبۃ الرشد)

حضرت سیدنا عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے دور خلافت میں ایک شخص نے حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو لفظ "یا " کیساتھ پکار کر اپنی حاجت بیان کی اور اس کی حاجت روائی بھی ہوئی، چنانچہ امام طبرانی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نقل کرتے ہیں: ”ان رجلا کان یختلف الی عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فی حاجۃ لہ وکان عثمان لا یلتفت الیہ ولا ینظر فی حاجتہ، فلقی عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ، فشكا ذلك إليه، فقال له عثمان بن حنيف: ائت المیضاۃ فتوضا ثم ائت المسجد فصل فیہ رکعتین ثم قال اللھم انی اسئلک واتوجہ الیک بنبینا نبی الرحمۃ یا محمد انی اتوجہ بل الٰی ربی فیقضی حاجتی و تذکر حاجتک ورح الی، حتى اروح معک، فانطلق الرجل فصنع ما قال لہ عثمان، ثم اتی باب عثمان رضی اللہ عنہ فجاء البواب حتی اخذہ بیدہ فادخلہ علی عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فاجلسہ معہ علی الطنفسۃ وقال حاجتک فذکر حاجتہ، فقضاها له، ثم قال له: ما ذکرت حاجتک حتی کانت ھذہ الساعۃ وقال ماکان لک من جاجۃ، فأتنا ثم ان الرجل خرج من عندہ فلقی عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ فقال لہ جزاک اللہ خیرا بما کان ینظر فی حاجتی ولا یلتفت الی حتی كلمته فی فقال عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ واللہ ما كلمته ولکن شھدت رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم، وأتاه ضرير، فشكا عليه ذهاب بصره، فقال: له النبي صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم: أفتصبر؟، فقال: يا رسول الله !إنه ليس لي قائد، وقد شق علي، فقال له النبي صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم:ائت المیضاۃ فتوضا ثم صلی رکعتیں ثم ادع بھذہ الدعوات فقال عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالٰی عنہ فواللہ ما تفرقنا وطال بنا الحدیث حتی دخل علینا الرجل کانہ لم یکن بہ ضرقط“

ترجمہ: ایک شخص حضرت عثمان بن عفان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس کسی ضرورت سے آتا جاتا تھا۔ حضرت عثمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اس کی طرف متوجہ نہ ہوتے تھے اور اس کی ضرورت پر غور نہ فرماتے تھے۔ وہ شخص حضرت عثمان بن حنیف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے ملا اور ان سے اس کے متعلق شکایت کی۔ عثمان بن حنیف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اس سے کہا: لوٹا لاؤ اور وضو کرو، اس کے بعد مسجد میں آ کر دو رکعت نماز پڑھو، پھر (یہ دعا) پڑھو: اے ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری طرف اپنے نبی رحمت ، محمد صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے وسیلے سے متوجہ ہوتا ہوں، یا رسول اللہ! میں آپ کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہوں کہ وہ میری یہ حاجت پوری فرما دے ۔ (یہ دعا پڑھ کر حضرت عثمان بن عفان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس جاؤ) اور اپنی حاجت بیان کرو اور جاؤ یہاں تک کہ میں بھی تمہارے ساتھ جاؤں۔ تو وہ آدمی گیا اور اس نے وہی کیا جو اسے حضرت عثمان نے اس سے فرمایا تھا۔ پھر وہ حضرت عثمان بن عفان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے دروازے پر آیا تو دربان نے اس کا ہاتھ تھاما اور حضرت عثمان بن عفان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس لے گیا۔ آپ نے اسے اپنے پاس چٹائی پر بٹھایا اور پوچھا: تیری حاجت کیا ہے؟ تو اس نے اپنی حاجت بیان کی اور آپ نے اسے پورا فرمادیا۔ پھر اس سے کہا: تو نے اپنی اس حاجت کے بارے میں آج تک کیوں نہ بتایا؟ آئندہ تمہاری جو بھی ضرورت ہو مجھے بیان کرو۔ پھر وہ آدمی آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس سے چلا گیا اور عثمان بن حنیف سے ملا اور ان سے کہا: آپ کو بہتر جزا دے، اگر آپ میری حاجت میں میری رہنمائی نہ فرماتے تو نہ تو وہ میری حاجت پر غور کرتے اور نہ میری طرف متوجہ ہوتے۔ حضرت عثمان بن حنیف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے کہا: بخدا یہ میں نے نہیں کہا بلکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ ایک نابینا آدمی آیا اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے اپنی بینائی چلے جانے کا شکوہ کیا، تو حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تو صبر کر۔ اس نے عرض کیا: یا رسو ل اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم! میرا کوئی خادم نہیں اور مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے۔ تو حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوٹا لے کر آؤ اور وضو کرو، پھر دو رکعتیں پڑھ کر ان کلمات کے ساتھ دعا مانگو۔ تو حضرت عثمان بن حنیف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے کہا: خدا کی قسم! ہم لوگ نہ تو ابھی مجلس سے دور ہوئے اور نہ ہی ہمارے درمیان لمبی گفتگو ہوئی، حتی کہ وہ آدمی ہمارے پاس (اس حالت میں) آیا کہ گویا اسے کوئی اندھا پن ہی نہیں تھا۔ (معجم صغیر، ج 1، ص 183، مطبوعہ بیروت)

اس حدیثِ پاک کے متعلق اگر کوئی کہے کہ اس میں تو نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے مدد نہیں مانگی جا رہی، بلکہ آپ کا وسیلہ پیش کیا جا رہا ہے، تو جواب یہ ہے کہ ہم پہلے ہی ذکر کر چکے کہ اہل سنت کے نزدیک استمداد بھی در حقیقت توسل ہی ہے، اگرچہ الفاظ ڈائریکٹ بندے سے مدد مانگنے کے ہوتے ہیں، لیکن مانگنے والے کا اعتقاد یہی ہوتا ہے کہ یہ ہستی میرے لیے وسیلہ ہیں۔

الادب المفرد میں ہے کہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہما کا پیر سن ہو گیا، تو کسی نے کہا کہ جو آپ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں انہیں پکاریں، تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے یوں پکارا: ”یا محمدّاہ“ یعنی: یا رسول الله!، تو فوراً آپ کا پاؤں ٹھیک ہوگیا۔ (الادب المفرد، باب ما یقول الرجل اذا خدرت رجله، صفحہ 217، مطبوعہ مكة المكرمة)

کروڑوں حنفیوں کے پیشوا، امام الائمہ، امامِ اعظم ابو حنیفہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اپنے مشہور کلام قصیدہ نعمانیہ میں حضور سرورِ کائنات صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے استمداد کرتے ہوئے عرض کرتے ہیں: ؎

يامالكي كن شافعي في فاقتي اني فقير في الورىٰ لغناكا

انا طامع بالجود منك ولم يكن لابي حنيفه في الأنام سِواكا

یعنی: اے میرے مالک!آپ میری حاجت میں میری شفاعت فرمائیے میں ساری مخلوق میں فقیر ہوں اور آپ کے غِنا کا منتظر ہوں۔

یا رسول الله! میں آپ کے جود و عطا کا امیدوار ہوں، اور مخلوق میں آپ کے سوا ابو حنیفہ کا کوئی نہیں۔ (المستطرف في كل فن مستظرف، باب 42، صفحہ 442، مطبوعہ پشاور)

مشہورِ زمانہ اشعار جن میں نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو پکار کر واضح الفاظ میں مدد مانگی گئی ہے اور ان اشعار کے متعلق منکرین کے اکابرین نے بھی لکھا کہ انہیں پڑھنا، گناہ یا شرک نہیں، اشعار یہ ہیں: ؎

یَارَسُوْلَ اللّٰہ اُنظُرْ حَالَنَا یَاحَبِیْبَ اللّٰہ اِسمَعْ قَالَنَا

اِنَّنِی فِیْ بَحرِْ ھَمِّ مُّغْرَقٌ خُذْیَدِیْ سَھِّلْ لَّنَا اَشْکَالَنَا

یعنی:یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم میرے حال پر نظر فرمائیے، اے اللہ کے محبوب! میری التجاء کو سنیے۔ میں غموں کے دریا میں غرق ہو رہا ہوں، میرا ہاتھ پکڑ کر میری مشکلیں آسان فرما دیجئے۔

امام شرف الدین بوصیری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 694ھ) کو بیماری لاحق ہوئی، تو آپ نے نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں قصیدہ لکھا، جس میں نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی تعریف و ثنا بھی بیان کی اورحرف نِدا ”یا “ کے ساتھ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو پکار کر مدد بھی طلب کی، تو نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے خواب میں تشریف لا کر مدد فرمائی، چنانچہ لکھتے ہیں: ؎

یا خَيْرَ مَنْ يَمَّمَ العَافُونَ سَاحَتَهُ

سَعْيًا وَفَوْقَ مُتُونِ الأَيْنُقِ الرُّسُمِ

یعنی: اے تمام انسانوں میں سب سے بہترین ہستی! آپ وہ ہیں کہ حاجت مند اور بھلائی کے طلبگار آپ کی چوکھٹ کا قصد کرتے ہیں، پیدل چل کر بھی اور تیز رفتار اونٹوں کی پیٹھ پر سوار ہو کر بھی۔ (بردۃ المدیح للبوصیری، ص 16، مطبوعہ دار التراث)

ایک شعرمیں کہتے ہیں: ؎

یَا أَكرمَ الخَلقِ مَا لِي مَنْ أَلُوذُ بِه

سِواكَ عِندَ حُلولِ الحَادثِ العَمَم

یعنی: اے مخلوق میں سب سے معزز ہستی مشکلات اور مصائب کے عام ہونے کے وقت آپ کے سوا میرا کون ہے جس کا میں سہارا لوں۔ (بردۃ المدیح للبوصیری، ص 22، مطبوعہ دار التراث)

استمداد کی غرض سے ”یارسول اللّٰہ “ پکارنے کو شرک کہنے والوں کے پیر و مرشد حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو پکار کر استمداد کرتے تھے، چنانچہ اپنے دیوان میں لکھتے ہیں: ؎

کرم فرماؤ ہم پر اور کرو حق سے شفاعت تم ہمارے جرم و عصیاں پر نہ جاؤ یا رسول الله
پھنسا ہوں بے طرح گردابِ غم میں ناخدا ہوکر میری کشتی کنارے پر لگاؤ یا رسول الله
جہاز امت کا حق نے کر دیا ہے آپ کے ہاتھوں تم اب چاہے ڈباؤ یا تراؤ یارسول اللہ

(کلیات امدادیہ، صفحہ 205، مطبوعہ دارالاشاعت، کراچی)

اس باب میں دلائل بہت کثرت سے بیان کیے جا سکتے ہیں، لیکن اختصار کے پیشِ نظر انہی روایات اور اشعار پر اکتفا کیا جاتا ہے، مزید یہ کہ خود انکار کرنے والوں کے اکابرین کے بھی دسیوں ایسے اشعار موجود ہیں کہ جن میں ڈائریکٹ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو پکار کر مدد طلب کی گئی ہے۔

نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ دیگر صالحین سے بھی مدد مانگی جا سکتی ہے، چنانچہ علامہ علی قاری حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1014ھ/1605ء) ”نزہۃ الخاطر الفاتر فی ترجمہ سیدی الشریف عبدالقادر“ میں حضور غوثِ اعظم رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا قول نقل کرتے ہیں: ”من استغاث بی فی کریۃ کشف عنہ ومن نادانی باسمی فی شدۃ فرجت عنہ ومن توسل بی الی اللہ فی حاجۃ قضیت حاجتہ“ یعنی: جو کوئی رنج و غم میں مجھ سے مدد مانگے تو اس کا رنج و غم دور ہوگا اور جو سختی کے وقت میرا نام لے کر مجھے پکارے (مثلاً یا غوث المدد) تو وہ شدت دور ہوگی اور جو کسی حاجت میں رب کی طرف مجھے وسیلہ بنائے تو اس کی حاجت پوری ہوگی۔ (نزھۃ الخاطر، ص 67، مؤسسۃ الشرف، لاھور)

شبہ: اگر کوئی یہ کہے کہ قرآنِ مجید میں بہت سی جگہوں پر غیر اللہ کو پکارنے کی ممانعت بیان ہوئی ہے اور فرمایا گیا ہے کہ جن کو تم اللہ کے علاوہ پکارتے ہو، وہ تو کسی بھی چیز کے مالک نہیں، لہٰذا نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو مدد کے لیے پکارنا حکمِ قرآنی کے خلاف اور شرک ہے۔

جواب: قرآنِ مجید میں اس مفہوم کی جتنی بھی آیات ہیں، وہاں صیغہ استعمال ہوا ہے، یدعوا، یدعون، تدعون، ندعوا وغیرہ اور یہ سب دَعْوٌ یادَعْوَۃ سے بنے ہیں، جس کے معنی بلانا یا پکارنا ہے۔ قرآن شریف میں یہ لفظ پانچ معانی میں استعمال ہوا ہے: (1) پکارنا ۔ (2) بلانا۔ (3) مانگنا یا دعا کرنا ۔ (4) پوجنا یعنی معبود سمجھ کر پکارنا۔ (5) تمنا کرنا۔ اور مختلف مواقع پر یہ قرآنِ کریم میں پانچوں معنیٰ میں استعمال ہوا ہے اور جن آیات میں یہ فرمایا کہ جن کو تم اللہ کے علاوہ پکارتے ہو، تو یہاں دعا کا چوتھا معنیٰ مراد ہے، یعنی صرف پکارنا مراد نہیں، بلکہ معبود سمجھ کر پکارنا مراد ہے، بالفاظِ دیگر عبادت کے معنیٰ میں مستعمل ہے، اب معنیٰ یہ بنے گا کہ جن کی تم اللہ کے علاوہ عبادت کرتے ہو، یعنی بت، یہ کسی بھی نفع نقصان کے مالک نہیں۔ اگر ہر جگہ اس کا ایک ہی معنیٰ (یعنی پکارنا) مراد لیا جائے اور ساتھ یہ بھی کہا جائے کہ غیر اللہ کو پکارنا شرک ہے، تو قرآنی آیات میں باہم تعارض پیدا ہوجائے گا، مثلاً قرآنِ حکیم میں ہی کئی جگہوں پر غیر اللہ کو پکارنے کے لیے "دعا" کا مادہ استعمال ہوا ہے، بلکہ اس کا حکم دیا گیا، تو کیا وہاں غیر اللہ کو پکارنے کا حکم دے کر قرآنِ کریم شرک کی تعلیم دے رہا ہے؟ العیاذ باللہ۔ چنانچہ چند قرآنی آیات ملاحظہ کیجیے:

ایک مقام پر فرمایا: ﴿اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآىٕهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِۚ ﴾ ترجمہ: انہیں ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو ، یہی اللہ کے نزدیک عدل ہے۔ (سورۃ الاحزاب، آیت 5)

ایک مقام پر فرمایا: ﴿وَّ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْکُمْ فِیْۤ اُخْرٰىکُمْ﴾ ترجمہ: اور رسول تم کو تمہارے پیچھے پکارتے تھے۔ (سورۃ آلِ عمران، آیت 153)

ان آیات میں دعا، یدعو کا معنیٰ پکارنا اور بلانا ہے، جبکہ جہاں من دون اللہ کے الفاظ موجود ہیں یا لفظ "عبادت" کا قرینہ موجود ہے، تو وہاں دعا یدعو کا معنیٰ عبادت ہوگا۔ خلاصہ یہ ہے کہ دعا قرآن کریم میں بہت سے معنوں میں استعمال ہوا ہے، ہر جگہ اس کے وہ معنی کرنے چاہئیں جو وہاں کے مناسب ہیں، جو ہر جگہ اس کے معنی پکارنا کرتے ہیں، وہ بہت فحش غلطی کرتے ہیں، جس سے قرآنی مقصد ہی بدل جاتا ہے۔ اسی لئے ان لوگوں کو اس پکارنے میں بہت سی قیدیں لگانی پڑتی ہیں، کبھی کہتے ہیں غائب کو پکارنا، کبھی کہتے ہیں مردہ کو پکارنا، کبھی کہتے ہیں دور سے سنانے کیلئے پکارنا، کبھی کہتے ہیں مافوق الاسباب سنانے کے لئے دور سے پکارنا شرک ہے، مگر پھر بھی نہیں مانتے، پھر تعجب ہے کہ جب کسی کو پکارنا عبادت ہوا تو عبادت کسی کی بھی کی جائے شرک ہے، زندہ کی یا مردہ کی، قریب کی یا دور کی پھر یہ قیدیں بے کار ہیں۔ غرضیکہ یہ معنی نہایت ہی غلط ہیں، ان جگہوں میں دعا سے مراد عبادت ہے، اس معنی پر نہ کسی قید کی ضرورت ہے نہ کوئی دشواری پیش آسکتی ہے۔ (ماخوذ از علم القرآن، صفحہ 93 تا 103، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

حاصل یہ کہ استمداد کی غرض سے نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں التجا پیش کرنا اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو ” یارسول اللّٰہ“ کہہ کر پکارنا، بلاشبہ جائز اور اسلاف کے عمل سے ثابت ہے اور ان دلائل کی رُو سے اشعار و غیر اشعار دونوں میں استمداد، مدد طلب کرنے ہی کے طور پر ہے۔ اپنی طرف سے بلادلیل یہ کہنا کہ اشعار تو بس یاد اور مزے کے لئے کہے جاتے تھے، استمداد کے لئے نہیں تو یہ بات ہی بے مزہ، بے دلیل، بے حقیقت اور من گھڑت ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب:مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر: FSD-10096

تاریخ اجراء: 25 محرم الحرام 1448 ھ/11 جولائی 2026ء