logo logo
AI Search

ایلیا نام رکھنا کیسا؟

ایلیا نام رکھنے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت عوت اسلامی)

سوال

ایلیا نام رکھنا کیسا ؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

یہ نام رکھنا جائز ہے، بلکہ یہ ایک اچھا اور بابرکت نام ہے۔ یہ نام حضرت الیاس علی نبینا و علیہ الصلاۃ و السلام (جو بنی اسرائیل کے جلیل القدر پیغمبر ہیں) کے نام کا عبرانی تلفظ بھی سمجھا جاتا ہے۔ ایک قول کے مطابق حضرت خضر علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام کا بھی نام ہے۔ بعض کتب کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بھی نام ہے۔ یہ بیت المقدس کا قدیم نام بھی رہا ہے۔

حدیث پاک میں ہمیں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔ الفردوس بماثور الخطاب میں ہے: ”تسموا بخياركم“ ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد2، صفحہ58، حدیث2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

فیروزاللغات میں ہے ”ایلیا(عب-مذ)الیاس کا عبرانی تلفظ۔“ (فیروزاللغات، ص158، فیروز سنز، لاہور)

عمدۃ القاری میں ہے

”قال مجاهد: اسمه أليسع بن ملكان۔۔۔وقال مقاتل: بليا۔۔۔ وقيل: إيليا بن ملكان

 ترجمہ: مجاہد نے فرمایا: حضرت خضر علیہ الصلاۃ والسلام کا نام "الیسع بن ملکان"ہے، مقاتل نے فرمایا: ان کا نام "بلیا" ہے اور کہا گیا ہے کہ ان کا نام "ایلیا بن ملکان" ہے۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری، ج 15، ص 299، دار إحياء التراث العربي، بيروت)

اردو لغت(تاریخی اصول پر)کی پہلی جلد میں اس لفظ کے تین معانی بیان کئے گئے ہیں: ”ایلیا / ایلیاہ: (1)بنی اسرائیل کے ایک نبی کا نام، الیاس(2)حضرت علی کانام(3)بیت المقدس۔ “ (اردولغت تاریخی اصول پر، جلد01، ص1155، اردولغت بورڈ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد سعید عطاری مدنی

فتوی نمبر:WAT-4567

تاریخ اجراء:28 جمادی الاولیٰ1447ھ/20دسمبر2025ء