logo logo
AI Search

فروہ نام کا مطلب اور فروہ نام رکھنا کیسا ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بچی کا نام فروہ رکھنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا ہم لڑکی کا نام فروہ رکھ سکتے ہیں؟

جواب

فروہ کا معنی ہے: تاج، مالداری وغیرہ، لہذا فروہ نام رکھ سکتے ہیں۔

مصباح اللغات میں ہے: الفَرْوَۃْ: عورت کا سربند، تاج، مالداری۔ (مصباح اللغات، صفحہ 631، ط: دار الاشاعت)

البتہ! حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، اور اس سے امید ہے کہ اچھوں کی برکت بچی کے شامل حال رہے گی۔ لہذا فروہ کے بجائے اُم فروہ نام رکھنا بہتر ہے کہ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی ہمشیرہ کا نام اُم فروہ ہے اور یہ صحابیہ ہیں، رضی اللہ تعالی عنہا۔ الثقات لابن حبان میں ہے

أم فَرْوَة بنت أبي قحَافَة أُخْت أبي بكر لَهَا صُحْبَة

ترجمہ: ام فروہ بنت ابو قحافہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی بہن اور صحابیہ ہیں۔ (الثقات لابن حبان، ج 03، ص 460، دائرۃ المعارف العثمانیۃ، حیدر آباد، ہند)

اسی طرح حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی پڑپوتی اور امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کی امی جان کا نام ام فروہ ہے۔ الثقات لابن حبان میں ہے

وَ أم جَعْفَر بن مُحَمَّد أم فَرْوَة بنت الْقَاسِم بْن مُحَمَّد بْن أَبِي بكر الصّديق رَضِي الله عَنهُ

ترجمہ: حضرت جعفر بن محمد رضی اللہ تعالی عنہما کی والدہ ام فروہ ہیں، جو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے پوتے قاسم بن محمد رضی اللہ تعالی عنہما کی بیٹی ہیں۔ (الثقات لابن حبان، ج 06، ص 132، دائرۃ المعارف العثمانیۃ، حیدر آباد، ہند)

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے

تسموا بخياركم

ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

بہار شریعت میں ہے انبیائے کرام علیہم الصلاۃ و السلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ ان کی برکت بچہ کے شامل حال ہو۔ (بہار شریعت، جلد 03، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

نوٹ: ناموں کے بارے میں تفصیلی معلومات اور بچوں اور بچیوں کے اسلامی نام حاصل کرنے کے لیے مکتبۃ المدینہ کی جاری کردہ کتاب نام رکھنے کے احکام کا مطالعہ کر لیجیے۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابوالفیضان مولانا عرفان احمد عطاری
فتویٰ نمبر: WAT-3443
تاریخ اجراء: 10 رجب المرجب 1446ھ / 11 جنوری 2025ء