logo logo
AI Search

ارساء ایمان نام رکھ سکتے ہیں؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اِرساء ایمان نام رکھنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ارساء ایمان نام رکھنا کیسا؟

جواب

ارساء ايمان دو لفظوں کا مجموعہ ہے: ارساء اور ایمان۔ ارساء کا معنی ہے: ٹھہرنا، ثابت ہونا، استوار( یعنی مضبوط ) ہونا وغیرہ۔ تو دونوں لفظوں کا مجموعی معنیٰ ہوگا: "ایمان کا ٹھہرنا، ایمان کا ثابت ہونا، ایمان کا مضبوط ہونا وغیرہ۔"ان معانی کے اعتبار سے ارساء ایمان نام رکھنا فی نفسہ جائز ومباح ہے۔ البتہ !بہتر یہ ہے کہ ارساء کے آگے لفظ ایمان کے بجائے اس کے والد کا نام لگا دیا جائے، کیونکہ ارساء ایمان کی صورت میں اگر بچی کو پکارا جائے اور وہ موجود نہ ہو، تو جواب میں کہا جائے گا کہ ارساء ایمان نہیں ہے یعنی مضبوط ایمان نہیں ہے، ایمان ثابت نہیں ہے، ایمان ٹھہرا ہوا نہیں ہے، تویوں یہ بدفالی ہوگی۔

اور سب سے بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام نیک خواتین مثلاً اُمّہات المؤمنین، صحابیات رضی اللہ تعالی عنہن وغیرھا، اللہ پاک کی نیک بندیوں کے ناموں پر رکھا جائے، کیونکہ حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ اس سے ان نیک ہستیوں کی برکت بچی کے شامل حال ہو گی۔

ارساء کے معنیٰ کے متعلق المنجد میں ہے ”ارساء: ٹھہرنا، ثابت ہونا، استوار ہونا۔“ (المنجد، صفحہ291، خزینہ علم و ادب، لاہور)

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالی عنہ سےمروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

”لا تسمين غلامك يسارا ولا رباحا ولا نجيحا ولا أفلح فإنك تقول: أثم هو؟ فلا يكون، فيقول: لا“

یعنی: اپنے بچے کا نام نہ یسار رکھو، نہ رَبَاح، نہ نجیح اور نہ اَفْلَح، کیونکہ تم پوچھو گے کہ کیا وہ یہاں ہے؟ اور وہ نہیں ہوگا تو جواب آئے گا: نہیں۔ (صحیح مسلم، صفحہ849، حدیث:  2137، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

مذکورہ حدیث پاک کے تحت مراۃ المناجیح میں ہے ”غلام سے مراد مطلقًا لڑکا ہے خواہ بیٹا ہو یا غلام یا کوئی اور، وہ جس کا نام رکھنا ہمارے قبضہ میں ہو۔ نہی تنزیہیہ کی ہے یعنی یہ نام بہتر نہیں۔ یسار کے معنی ہیں فراخی، عسر کا مقابل، رباح کے معنی ہیں نفع خسارہ کا مقابل، نجیح کے معنی ہیں کامیاب ظفر یاب، افلح کے معنی ہیں نجات والا یہ ممانعت صرف ان ناموں میں محدود نہیں بلکہ ان جیسے اور نام جن کی معنی میں خوبی و عمدگی ہو جیسے ظفر، برکت وغیرہ، یہ نام نہ رکھنا بہتر ہے۔ اس کی وجہ خود بیان فرمارہے ہیں۔ تو اس صورت میں تمہارے گھر سے نفع، فتح، نجات کی نفی ہو جاوے گی نام رکھے تھے نیک فالی کے لیے مگر جب ان کی نفی کی گئی تو بدفالی ہوگی۔“ (مراۃ المناجیح، جلد6، صفحہ407، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے تسموا بخياركم ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد2، صفحہ58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں: ”انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔“ (بہار شریعت، جلد3، حصہ 15، صفحہ356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-4602

تاریخ اجراء: 12رجب المرجب1447ھ/02جنوری2026ء