logo logo
AI Search

راحم نام کا مطلب اور راحم علی نام رکھنا کیسا؟

بچے کا نام راحم علی رکھنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

بیٹے کا نام راحم علی (Rahim Ali) رکھنا جائز ہے یا نہیں؟ جبکہ بیٹے کا پورا نام "محمد راحم علی رضوان (Muhmmad Rahim Ali Rizwan) ہوگا۔ اس کے متعلق رہنمائی فرمادیں۔

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

راحم علی نام رکھنا درست ہے۔ راحم کا مطلب ہے: "رحم کرنے والا" اور علی، یہ امیر المومنین مولائے کائنات حضرت سیدنا علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم کا نام ہے۔ لہذا راحم علی، نام رکھنا درست ہے۔ البتہ! بہتر یہ ہے کہ اولا صرف محمد نام رکھ لیا جائے کہ حدیث پاک میں محمد نام رکھنے کی فضیلت بیان ہوئی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ یہ فضیلت تنہا محمد نام رکھنے کی ہے، پھر پکارنے کے لیے "علی" رکھ لیجیے کہ یہ حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کا نام ہے اور حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کا فرمایا گیا ہے اور اس سے امید ہے کہ ان کی برکت بچے کے شامل حال ہوگی۔ اور پھر چاہیں تو دونوں نام ملا کر "محمد علی" کردیا جائے۔

فیروز اللغات میں ہے "راحم": رحم کرنے والا۔" (فیروز اللغات، ص 737، فیروز سنز)

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے:

تسموا بخياركم

ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”بچہ کا اچھا نام رکھا جائے۔ ہندوستان میں بہت لوگوں کے ایسے نام ہیں، جن کے کچھ معنی نہیں یا اون کے برے معنی ہیں، ایسے ناموں سے احتراز کریں۔ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ و السلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔“ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

محمد نام رکھنے کی فضیلت:

کنز العمال میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

من ولد له مولود ذكر فسماه محمدا حبا لي و تبركا باسمي كان هو و مولوده في الجنة

ترجمہ: جس کے ہاں بیٹا پیدا ہو اور وہ میری محبت اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کے لئے اس کا نام محمد رکھے تو وہ اور اس کا بیٹا دونوں جنت میں جائیں گے۔ (کنز العمال، ج 16، ص 422، مؤسسة الرسالة، بیروت)

رد المحتار میں مذکورہ حدیث کے تحت ہے

قال السيوطي: هذا أمثل حديث ورد في هذا الباب و إسناده حسن

ترجمہ: علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے فرمایا: جتنی بھی احادیث اس باب میں وارد ہوئیں، یہ حدیث ان سب میں بہتر ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحظر و الاباحۃ، ج 6، ص 417، دار الفکر، بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو الفیضان مولانا عرفان احمد عطاری

فتویٰ نمبر: WAT-3552

تاریخ اجراء: 08 شعبان المعظم 1446ھ / 07 فروری 2025ء