logo logo
AI Search

ریان نام کا مطلب اور ریان نام رکھنا کیسا ہے؟

ریان نام رکھنے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت عوت اسلامی)

سوال

ریان نام رکھنا کیساہے؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

ریان نام رکھنا جائز ہے، شرعاً اس میں کوئی مضا ئقہ نہیں۔ ریان جنت کے اس دروازے کا نام ہے، جس سے روزہ دار جنت میں داخل ہوں گے، اور اس نام کے ایک تابعی بزرگ "ریان بن صبیرہ الحنفی "رضی اللہ عنہ بھی ہیں، اور حدیث پاک میں نیکوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، اور امید ہے کہ اس سے ان کی برکت بچے کے شامل حال ہوگی۔

البتہ!یہ یاد رہے کہ احادیث مبارکہ میں نام محمد کی فضیلت و ترغیب آئی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ یہ فضیلت تنہا "محمد" نام رکھنے کی ہے، لہذا بہتر یہ ہے کہ اولا بیٹے کا نام صرف "محمد" رکھا جائے اور پھر پکارنے کے لیے " ریان" رکھ لیا جائے۔

صحیح بخاری میں ہے

”عن سهل رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: "إن في الجنة بابا يقال له الريان، يدخل منه الصائمون يوم القيامة، لا يدخل منه أحد غيرهم“

ترجمہ: حضرت سہل رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت کا ایک دروازہ ہے جسے ریان کہتے ہیں قیامت کے دن اس دروازہ سے صرف روزہ دار ہی جنت میں داخل ہوں گے، ان کے سوا اور کوئی اس میں سے نہیں داخل ہو گا۔ (صحیح بخاری، رقم الحدیث 1896، ج 3، ص 25، دار طوق النجاۃ)

"الطبقات الکبری" میں حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے اصحاب علیہم الرضوان کے بعد والے طبقہ کے ذکر میں حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرنے والے راویوں میں ایک نام یہ ہے ”الريان بن صبرةالحنفي. روى عن علي“ یعنی ریان بن صبرۃ الحنفی نے حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ (الطبقات الکبری، ج 6، ص 250، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے تسموا بخياركم ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد2، صفحہ58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

کنز العمال میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

”من ولد له مولود ذكر فسماه محمدا حبا لي وتبركا باسمي كان هو ومولوده في الجنة

ترجمہ: جس کے ہاں بیٹا پیدا ہو اور وہ میری محبت اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کے لئے اس کا نام محمد رکھے تو وہ اور اس کا بیٹا دونوں جنت میں جائیں گے۔ (کنز العمال، جلد 16، صفحہ 422، حدیث: 45223، مؤسسة الرسالة، بیروت)

رد المحتار میں مذکورہ حدیث کے تحت ہے

”قال السيوطي: هذا أمثل حديث ورد في هذا الباب وإسناده حسن“

ترجمہ: علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ نے فرمایا: جتنی بھی احادیث اس باب میں وارد ہوئیں، یہ حدیث ان سب میں بہتر ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحظر والاباحۃ، جلد 9، صفحہ 688، مطبوعہ: کوئٹہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-1238

تاریخ اجراء11ربیع الثانی 1444 ھ/07نومبر2022 ء