logo logo
AI Search

زبیر نام رکھنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بچے کا نام زبیر رکھنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا بچے کا نام زبیر رکھنا درست ہے؟

جواب

بچے کا نام زبیر رکھنا درست بلکہ بہتر ہے، کہ یہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ تعالی عنہ کا نام ہے، جن کو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے دنیا میں ہی جنت کی بشارت عطا فرما دی، اور حدیثِ پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ ان کے نام پر نام رکھنے سے ان کی برکت بچے کے شامل حال ہو گی۔

الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ میں ہے

الزبیر بن العوام۔۔۔ احد العشرۃ المشھود لھم بالجنۃ، واحد الستۃ اصحاب الشوری

ترجمہ: زبیر بن عوام رضی اللہ تعالی عنہ ان دس صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین میں سے ہیں، جن کو جنت کی بشارت دی گئی، اور ان چھ لوگوں میں سے ہیں، جن کو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی وفات کے وقت شوری کے لیے منتخب فرمایا۔ (الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، جلد2، صفحہ457، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے ”تسموا بخياركم“ ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد2، صفحہ58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔“ (بہار شریعت، جلد3، حصہ 15، صفحہ356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-4612

تاریخ اجراء: 15رجب المرجب1447ھ/05جنوری2026ء