logo logo
AI Search

جوئے کے پیسوں سے کاروبار کرنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم

جوئے سے جیتے ہوئے پیسوں سے کاروبار کرنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائےدین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ جوئے سے جیتے ہوئے پیسوں سے کاروبار کرنا کیسا؟

جواب

جوئے سے جیتے ہوئے پیسوں سے کاروبار کرنا، ناجائز اور حرام ہے۔ ایسے مال کو اصل مالک تک پہنچانا، فرض ہے، اگر وہ نہ رہا ہو، تو اس کے ورثا کو دینا ہوگا اور اگر کسی صورت نہ اصل مالک کی معلومات ہوسکے اور نہ اس کے ورثہ کی، تو اس مال کو بغیر ثواب کی نیّت کے شرعی فقیر کو دینا ضروری ہے، ایسے مال کو کاروبار، خرید و فروخت وغیرہ کسی کام میں لگانا، حرام قطعی ہے۔

جوئے، چوری وغیرہ حرام ذرائع سے مال حاصل کیا، تو مالک یا ورثا کو واپس لوٹانا یا صدقہ کرنا ضروری ہے، خرید و فروخت کسی کام میں اُس مال کالگانا، جائز نہیں۔ چنانچہ اس بارے میں سیدی اعلی حضرت اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن لکھتے ہیں: ”جو مال رشوت یاتغنی یاچوری سے حاصل کیا اس پر فرض ہے کہ جس جس سے لیا اُن پر واپس کردے، وہ نہ رہے ہوں اُن کے ورثہ کو دے، پتا نہ چلے تو فقیروں پر تصدق کرے، خرید و فروخت کسی کام میں اُس مال کا لگانا حرام قطعی ہے ، بغیر صورت مذکورہ کے کوئی طریقہ اس کے وبال سے سبکدوشی کا نہیں۔ یہی حکم سُود وغیرہ عقودِ فاسدہ کا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں جس سے لیا بالخصوص انہیں واپس کرنا فرض نہیں، بلکہ اسے اختیار ہے کہ اسے واپس دے خواہ ابتداء تصدق کردے، وذٰلک لان الحرمۃ فی الرشوۃ وامثالھا لعدم الملک اصلا فھو عندہ کالمغصوب فیجب الرد علی المالک او ورثتہ ما امکن اما فی الربٰو او اشباھہ فلفساد الملک وخبثہ و اذا قد ملکہ بالقبض ملکا خبیثا لم یبق مملوک الماخوذ منہ لاستحالۃ اجتماع ملکین علی شیئ واحد فلم یجب الرد وانما وجب الانخلاع عنہ اما بالرد واما بالتصدق کما ھو سبیل سائر الاملاک الخبیثۃ۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 551 تا 552، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے سوال ہوا کہ: "زید نے جوئے میں روپیہ کمایا، اور اسی روپیہ سے اس نے اپنے گھر کا اثاثہ اور اسباب درست کیا ہے۔ اب زید تائب ہوتا ہے اور چاہتا ہے کہ اپنا ذمہ بری کرے۔ اور جو مال حرام کا اس کے پاس ہے اس کو جدا، تو کیا کرے؟" تو آپ علیہ الرحمۃ نے جواباً ارشاد فرمایا: ”جس قدر مال جوئے میں کمایا محض حرام ہے۔۔۔ اور اس سے برائت کی یہی صورت ہے کہ جس جس سے جتنا مال جیتا ہے اسے واپس دے، یا جیسے بنے اسے راضی کرکے معاف کرالے۔ وہ نہ ہو تو اس کے وارثوں کو واپس دے، یا ان میں جو عاقل بالغ ہوں ان کا حصہ ان کی رضامندی سے معاف کرالے۔ باقیوں کا حصہ ضرور انھیں دے کہ اس کی معافی ممکن نہیں، اور جن لوگوں کا پتہ کسی طرح نہ چلے نہ ان کا، نہ ان کے ورثہ کا، ان سے جس قدر جیتا تھا ان کی نیت سے خیرات کردے، اگرچہ اپنے محتاج بہن، بھائیوں، بھتیجوں، بھانجوں کو دے دے، اس کے بعد جو بچ رہے گا وہ اس کے لئے حلال ہے۔" (فتاوی رضویہ، 19، ص 651، 652، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد سعید عطاری مدنی

فتوی نمبر: FatwaQA-048

تاریخ اجراء: 25 ربیع الاول 1448ھ/07 اگست 2026ء