logo logo
AI Search

نجومی کو ہاتھ دکھا سکتے ہیں؟

نجومی کو ہاتھ دکھانا کیسا

دار الافتاء اھلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

     کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ قسمت معلوم کرنے کے لیے نجومی کو ہاتھ دکھانا کیسا ہے ؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

     اگر اس عقیدے کے ساتھ نجومی سے قسمت کا حال پوچھا کہ جو یہ بتائے گا ، وہ قطعاً یقیناً حق ہوگا ، تو یہ کفر ہے اور اگر یہ اعتقاد تو نہ ہو ، لیکن صرف رغبت و شوق کی وجہ سے ہو ، تو گناہِ کبیرہ و فسق ہے اور اگر مذاق کے طور پر ہو، تو مکروہ ہے اور اگر نجومی کو ہاتھ دکھانا اس کو عاجز کرنے کے لیے ہو ، تو حرج نہیں ہے ، لیکن یہ آخری صورت کم ہی پائی جاتی ہے اور عموماً رغبت و شوق سے ہی دکھایا جاتا ہے ، جو حرام و گناہ کبیرہ ہے۔

     سنن ابن ماجہ میں ہے :

من اتى حائضا او امرأة فی دبرها او كاهنا فصدقہ بمایقول فقد كفر بما انزل على محمد  صلى اللہ عليه و سلم

ترجمہ : جو حائضہ عورت سے یا عورت کے پچھلے مقام میں جماع کرے یانجومی کے پاس جائے اور اس کے کہے کی تصدیق کرے ، تو اس نے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم پر اترے ہوئے کا انکار کیا ۔(سنن ابن ماجہ ، ابواب الطہارۃ ، باب النہی عن اتیان الحائض ، صفحہ 47 ، مطبوعہ کراچی )

     سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فتاویٰ رضویہ میں فرماتے ہیں : ’’ کاہنوں اور جوتشیوں سے ہاتھ دکھا کر تقدیر کا بھلا ، برا دریافت کرنا اگر بطور اعتقاد ہو یعنی جویہ بتائیں حق ہے ، تو کفر خالص ہے۔ اسی کو حدیث میں فرمایا :

فقد کفر بما نزل علی محمد صلی ﷲ تعالی علیہ وسلم

( یعنی ) بے شک اس سے انکار کیا جو کچھ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پراتارا گیا اور اگر بطور اعتقاد وتیقن نہ ہو ، مگر میل ورغبت کے ساتھ ہو ، توگناہ کبیرہ ہے۔اسی کو حدیث میں فرمایا :

لم یقبل ﷲ لہ صلوۃ اربعین صباحا

اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہ فرمائے گا اور اگر ہزل واستہزاء ہو ، تو عبث ومکروہ ، حماقت ہے، ہاں اگر بقصدِتعجیز(یعنی نجومی کو عاجز کرنے لیے) ہو ، تو حرج نہیں ۔‘‘ ( فتاویٰ رضویہ ، جلد 21 ، صفحہ 155 ، 156 ، رضا فاؤنڈیشن ، لاھور )    

مفسرِ شہیر مفتی احمد یار نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے اوپر مذکورابن ِ ماجہ کی  حدیث شریف کی یوں شرح فرمائی ہے: ’’خیال رہے کہ یہاں سے شرعی کفر ہی مراد ہے، ( یعنی جو کفر ) اسلام کا مقابل(ہے )۔۔۔( یہ اس صورت میں ہے کہ جب ) کاہن نجومی کوعالم الغیب جان کراس سے فال کھلوائیں یاغیبی خبریں پوچھیں اوراگر گناہ سمجھ کر یہ کام کریں ، تو فسق ہے،کفر نہیں یا یہاں کفر سے مراد لغوی معنی ہیں  ناشکری ۔‘‘ ( مراۃ المناجیح ، کتاب الطہارت ، حیض کا باب ، دوسری فصل ، جلد 1 ، صفحہ 351،  مطبوعہ ضیاء القرآن ، لاھور )

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتویٰ نمبر: Aqs-1283

تاریخ اجراء: 17 جمادی الثانی 1439ھ / 06 مارچ 2018ء