دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ تقریباً بیس سال سے میں اپنی درزی کی ذاتی دُکان چلا رہا ہوں۔ مختلف لوگ مجھے کپڑے سلائی کرنے کے لیے دیتے ہیں، جو میں ان کے ناپ کے مطابق سلائی کر کے، کسٹمرز کو چیک کرواکر دیتا ہوں، کسٹمرز مطمئن ہوکر لے جاتے ہیں۔ عام طور پر سوٹ سے کترن یا اتنا چھوٹا کپڑا بچتا ہے کہ جو استعمال کے قابل نہیں ہوتا اور لوگ اس کے متعلق پوچھتے بھی نہیں ہیں، فقط اپنا سوٹ لے کر چیک کر کے لے جاتے ہیں۔ اس بارے میں شرعی رہنمائی چاہیے کہ کیا مجھ پر لازم ہے کہ عموماً تو لوگ کترن وغیرہ کے متعلق نہ پوچھتے ہیں، نہ لے جاتے ہیں، لیکن اگر بالفرض کوئی کسٹمر پہلے سے ہی اس کترن کے بارے میں کہہ دے کہ کترن یا چھوٹے سے چھوٹا کپڑا بھی بچے، مجھے واپس کرنا ہے، تو کیا اس صورت میں اسے واپس کرنا ضروری ہوگا یا اس کے کہنے کے باوجود میں خود رکھ سکتا ہوں، اس وجہ سے کہ وہ درزی حضرات ہی رکھ لیتے ہیں؟
اور بعض دفعہ سلائی کے لیے پورا تھان ملتا ہے، جس میں سے کسٹمر کے دیے گئے ناپ کے مطابق میں کپڑے سلائی کر کے دے دیتا ہوں، لیکن پھر بھی تھان سے کچھ کپڑا بچ جاتا ہے، جو استعمال کے قابل ہوتا ہے، کیا یہ مالک کو واپس کرنا ہوگا یا میں خود استعمال کے لیے رکھ سکتا ہوں؟ پورا تھان بہت کم آتا ہے، اگر کوئی دے بھی، تو بعد میں پوچھتا ہے کہ تھان سے کچھ بچا ہے یا سارا ہی ختم ہوگیا ہے؟ برائے مہربانی دونوں صورتوں کے متعلق وضاحت کے ساتھ رہنمائی فرما دیں۔
جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں کپڑے سے اتری ہوئی کترن اور اتنا چھوٹا کپڑا کہ جو ناقابلِ استعمال ہو، عرفاً آپ کو رکھنے کی اجازت ہے، اس میں ہر کسٹمر کو یہ بتانے کی حاجت نہیں ہے کہ تمہارے کپڑے سے یہ کترن بچی ہے، بشرطیکہ واقعی وہ کترن ہو یا اتنا چھوٹا کپڑا ہو کہ جو ناقابلِ استعمال ہو اور اگر اتنا کپڑا بچ جائے، جو قابلِ استعمال ہو، تو پھر وہ کپڑا مالک کو واپس ہی کرنا ہوگا، مالک کی اجازت کے بغیر آپ خود نہیں رکھ سکتے۔ نیز کترن اور ناقابلِ استعمال کپڑا اگرچہ عام طور پر لوگ نہیں لے جاتے اور نہ پوچھتے ہیں، لیکن اگر کسی نے کہہ دیا کہ اس کی کترن اور بچا ہوا کپڑا خواہ تھوڑا ہو یا زیادہ، مجھے واپس کرنا ہے، تو اب آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ چونکہ عرف کی وجہ سے مجھے رکھنے کی اجازت ہے، اس لیے نہیں دوں گا، بلکہ آپ پر لازم ہوگا، کہ ایسی صورت میں کپڑے کی کترن ہو یا ناقابلِ استعمال بچا ہوا کپڑا، وہ مالک کو واپس ہی کریں۔
اسی طرح اگر کسی نے پورا تھان دیا اور اس میں سے کترن کے علاوہ کچھ کپڑا بچ گیا، جو استعمال کے قابل ہو، خواہ بچے کا سوٹ، یا شلوار، یا قمیص بن سکتی ہو، تو یہ کپڑا مالک کو واپس کرنا ہوگا، مالک کی اجازت کے بغیر آپ خود نہیں رکھ سکتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ درزی کی حیثیت اجیر مشترک اور اس کے پاس لوگوں کے دیے ہوئے مال کی حیثیت امانت کی ہوتی ہے، جس میں اجیر مشترک (درزی )نے اپنی کاریگری کر کے تیار کرنا ہوتا ہے، اجیر مشترک اس میں صرف اتنا ہی تصرف کر سکتا ہے، جتنا تصرف کرنے کا مالک نے کہا ہوتا ہے، اتنا تصرف کرنے کے بعد باقی بچا ہوا مال مالک کو واپس لوٹانا ہوتا ہے، مالک کی اجازت کے بغیر اس میں ذاتی تصرف کرنا یا خود رکھ لینا باطل طریقے سے دوسرے کا مال کھانا اور گناہ ہے۔ اسی وجہ سے فقہائے کرام نے درزی اور موچی کے متعلق واضح طور پر فرمایا ہے کہ مالک نے ان کو سلائی کے لیے کپڑا یا چمڑا دیا اور سلائی کے بعد کچھ کپڑا یا چمڑا بچ گیا، تو وہ مالک کا ہی ہے، اگر انہوں نے ذاتی تصرف کیا، تو یہ تاوان ادا کریں گے، ہاں اگر مالک کی طرف سے صراحتاً یا دلالتاً (عرف وغیرہ کی وجہ سے)اجازت ہو، تو پھر اجیر وہ بچی ہوئی چیز خود رکھ سکتا ہے اور اگر مالک نے اپنی بچی ہوئی چیز واپس کرنے کا کہا ، تو عرفاً ثابت شدہ اجازت، اس صراحت کی وجہ سے ختم ہوجائے گی اور اجیر پر لازم ہوگا کہ مالک کی بچی ہوئی تھوڑی سی چیز بھی اسے واپس کرے، جیسا کہ اوپر تفصیل سے بیان ہوچکا۔
کسی کا ناحق مال کھانے کی ممانعت سے متعلق قرآنِ پاک میں ہے:
وَلَا تَاْکُلُوْۤا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ
ترجمۂ کنز الایمان: ’’اور آپس میں ایک دوسرے کا مالِ نا حق نہ کھاؤ۔‘‘ (پارہ 2، سورۃ البقرۃ، آیت 188)
اس آیت کے تحت تفسیر نعیمی میں ہے: ’’رشوت، غصب، لوٹ، چوری، جھوٹی قسمیں، جوا، کہانت، خیانت وغیرہ ناجائز پیشے، یہ سب باطل آمدنیاں ہیں: یعنی نہ تو تم اپنے مال غلط طرح خرچ کرو اور نہ آپس میں ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے حاصل کر کے استعمال کرو۔‘‘(تفسیر نعیمی، جلد 2، صفحہ 232، مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ، لاھور)
حدیثِ پاک میں ہے:
ان النبي صلى اللہ عليه وسلم قال: لایحل مال امرء مسلم الاعن طیب نفس
ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:کسی مسلمان کامال اس کی رضا کے بغیر لیناحلال نہیں ہے۔ (سنن الدارقطنی، رقم الحدیث 2886، جلد 3، صفحہ 424، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)
ردالمحتار میں ہے:
لایجوز لاحد من المسلمین اخذ مال احد بغیر سبب شرعی
ترجمہ: کسی مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں کہ بغیر کسی سبب شرعی کے کسی کا مال لے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، ج 4، ص 61،دار الفکر، بیروت)
اجیر مشترک کی تعریف (Definition)اور چیز اس کے پاس بطورِ امانت ہونے سے متعلق تحفۃ الفقہاء میں ہے:
و هو نوعان استئجار الاجير المشترك و الاجير الخاص الذی يسمى اجير الوحد فالاجير المشترك كاسمه الذی يتقبل الاعمال من الناس كالصباغ و القصار و نحوهما۔۔۔۔ فاما الاجير المشترك تكون العين التی فی يده امانة ملخصاً
ترجمہ: اجیر کی دو قسمیں ہیں: اجیر مشترک، اجیر خاص جس کو اجیر وحد بھی کہا جاتا ہے، اجیر مشترک (جس کی تعریف نام سے ہی ظاہر ہے اور یہ)وہ شخص ہے جو مختلف لوگوں سے کام لیتا ہے، جیسے رنگریز،درزی اور ان جیسے اور لوگ، بہرحال اجیر مشترک کو دی گئی چیز اس کے ہاتھ میں امانت ہو تی ہے۔(تحفۃ الفقھاء، جلد 2، صفحہ 352، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)
درزی کے پاس بچا ہوا کپڑا بھی مالک کی امانت ہی ہے، چنانچہ جامع الفصولین میں ہے:
خاطه وفضل منه شيء فسرق ضمنه وكذا الاسكاف لو دفع إليه صرم ففضل منه شيء ضمنه إذ أثبت يده على مال الغير بلا إذنه إذ المالك إنما سلم إليه للقطع لا غير فإذا قطع يجب عليه رد الزيادة
ترجمہ: درزی نے کپڑا سلائی کیا، جس سے کچھ کپڑا بچ گیا اور ( درزی کی غفلت سے) وہ چوری ہوگیا، تو درزی اس کا ضامن ہوگا، اسی طرح موچی کو جوتا سلائی کرنے کے لیے چمڑا دیا، جس سے کچھ چمڑا بچ گیا، تو وہ اس چمڑے کا ضامن ہوگا اگر اس چمڑے میں مالک کی اجازت کے بغیر کوئی تصرف کرے گا، کیونکہ مالک نے اسے کاٹنے (اور سلائی کرنے )کے لیے دیا تھا، نہ کہ کسی اور کے لیے، تو جب اس نے کاٹ لیا، تو بچا ہوا چمڑا مالک کو واپس کرنا اس پر لازم تھا۔ (جامع الفصولین، الفصل الثالث و الثلاثون فی انواع الضمانات الواجبۃ، جلد 2، صفحہ 129، مطبوعہ کراچی)
امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ درزی سوٹ سے قابلِ استعمال کپڑا بچا لیتا ہے، جس کی ٹوپیاں بنا کر فروخت کرتا ہے، تو یہ ٹوپیاں خریدنا، جائز ہے یا نہیں؟ تو اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”(چونکہ اس صورت میں درزی کا وہ کپڑا ذاتی استعمال میں لانا غصب اور ناجائز ہے، اس لیے اس سے بنی ہوئی ٹوپی خریدنا بھی) ضرور معصیت وحرام ہے۔“(فتاویٰ رضویہ، جلد 23، صفحہ 567، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
عرف کی وجہ سے اجازت ثابت ہونے سے متعلق امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”جبکہ مالکِ آب کی اجازت مطلقاً یا اس شخص خاص کیلئے صراحۃً خواہ دلالۃً ثابت ہو، صراحۃًیہ کہ اُس نے یہی کہہ کر سبیل لگائی ہو کہ جو چاہے پئے وضوء کرے، نہائے۔۔۔ اور دلالۃً یوں کہ لوگ اس سے وضوء کرتے ہیں اور وہ منع نہیں کرتا یا سقایہ قدیم ہے اور ہمیشہ سے یوں ہی ہوتا چلا آیا ہے۔
لان المعروف کالمشروط کما ھو معروف فی مسائل لاتحصی
(ترجمہ:)کیونکہ معروف مشروط کی طرح ہے، اور یہ چیز بے شمار مسائل میں ہے۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد 2، صفحہ 481، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
عرف کے خلاف صراحت ہو، تو اس کےمتعلق امام اہلسنت علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں:”المعروف کالمشروط قاعدہ کلیہ ہے، مگر جب صراحۃً معروف کی نفی کردے، تو مشروط نہیں رہے گا۔
لان الصریح یفوق الدلالۃ کما فی الخانیۃ و غیرھا
(اس لیے کہ صریح کا درجہ دلالت سے اوپر ہے جیسا کہ خانیہ وغیرہ میں ہے)۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد 9، صفحہ 646، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:
ان النفی الصریح یزیل حکم دلالۃ الحال فان الصریح یفوق الدلالۃ
(ترجمہ:) صراحۃً نفی ،دلالتِ حال کو زائل کردیتی ہے کیونکہ صراحت ، دلالت سے فوقیت رکھتی ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 6، صفحہ 640، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
امیر اہلسنت حضر ت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتھم العالیہ کے رسالہ ”درزیوں کے بارے میں سوال جواب“ میں ہے: ”کپڑا سینے کے بعد جو کترن بچتی ہے، عام طور پر عُرف یہی ہے کہ اس کو واپس نہیں لیا جاتا، تو اسے رکھنے میں حَرج نہیں ۔۔۔ اور جہاں لوگ واپس لیتے ہوں وہاں واپس دینے پڑیں گے، ہاں گر مالک معلوم ہونے کے بعد کہتاہے کہ ٹھیک ہے، ہمارا کام پورا ہوگیا ہے، اب جو بچاہے وہ تم رکھ لو، تو اب پورا تھان بھی بچ گیا اور آپ نے اِجازت کے ساتھ رکھ لیا، تو کوئی حَرج نہیں۔ ملخصاً“(درزیوں کے بارے میں سوال جواب، صفحہ 35، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: Aqs-2869
تاریخ اجراء: 04جمادی الاُخريٰ 1447ھ/26 نومبر 2025ء