محرم الحرام میں پانی کی سبیل لگانا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
9، 10محرم الحرام کو پانی کی سبیل لگانا کیسا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے گاؤں میں ایک شخص نے کہا کہ 10، 9 محرم الحرام کو پانی کی سبیل لگانا، جائز نہیں، آپ سے عرض ہے کہ ہمیں اس بارے میں رہنمائی فرمائیں کہ کیا 10، 9 محرم الحرام کو پانی کی سبیل لگاناجائز ہےیا نہیں؟
جواب
نو یا دس محرم الحرام کو خالص اللہ پاک کی رضا اور شہیدانِ کربلا رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی ارواحِ طیبہ کو ثواب پہنچانے کی نیت سے مسلمانوں کے لیے پانی کی سبیل لگانا بلا شبہ جائز، مستحب اور ثواب کا کام ہے، حدیث پاک میں پانی کو افضل صدقہ کہا گیا ہے، نیز پانی پلانے سے گناہ معاف ہوتے ہیں۔
اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
﴿اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَ الْمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَهُمْ وَ لَهُمْ اَجْرٌ كَرِیْمٌ﴾
ترجمہ کنزالایمان: بے شک صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور وہ جنہوں نے اللہ کو اچھا قرض دیا ان کے دُونے ہیں اور ان کے لیے عزت کا ثواب ہے۔ (پارہ27، سورہ الحدید، آیت18)
امام ابو البرکات عبد اللہ بن احمد نَسَفِی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 710ھ) لکھتے ہیں:
”ان الذين اصدقوا واقرضوا القرض الحسن ان يتصدق من الطيب عن طيبة النفس وصحة النية على المستحق للصدق ﴿یُّضٰعَفُ لَهُمْ﴾۔۔۔ولهم اجر كريم ای الجنة“
ترجمہ: بے شک وہ مرد اور عورتیں جنہوں نے خوش دلی اور نیک نیت کے ساتھ حق داروں کو صدقہ دیا اور راہِ خدا میں خرچ کیا تو ان کیلئے صدقہ کرنے اور راہِ خدا میں خوش دلی کے ساتھ خرچ کرنے کا ثواب کئی گنا بڑھا دیا جائے گا اور ان کے لیے عزت کا ثواب ہے اور وہ جنت ہے۔ (تفسیر نسفی، جلد 3، صفحہ 438، مطبوعہ دارالکلم الطیب، بیروت)
پانی افضل صدقہ ہے، جیسا کہ سنن ابو داؤد میں ہے:
”عن سعد بن عبادة انه قال: يا رسول الله، ان ام سعد ماتت، فاي الصدقة افضل؟ قال: الماء، قال: فحفر بئرا، وقال: هذه لام سعد“
ترجمہ: حضرت سعد بن عبادہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ! امِّ سعد(میری ماں) انتقال کر گئیں تو کون سا صدقہ ان کے لیے بہتر ہے؟ فرمایا ”پانی“، تو انہوں نے کنواں کھدوایا اور کہا یہ کنواں سعد کی ماں کے لئے ہے۔ (سنن ابو داؤد، جلد 2، صفحہ 130، مطبوعہ مکتبۃ العصریۃ، بیروت)
مذکورہ بالا حدیث کے متعلق مراۃ المناجیح میں ہے: ”بعض لوگ سبیلیں لگاتے ہیں، عام مسلمان ختم فاتحہ وغیرہ میں دوسری چیزوں کے ساتھ پانی بھی رکھ دیتے ہیں، ان سب کا ماخذ یہ حدیث ہے، کیونکہ اس سے معلوم ہوا کہ پانی کی خیرات بہتر ہے۔“ (مراۃ المناجیح، جلد 03، صفحہ 138، مطبوعہ لاہور)
پانی پلانے سے گناہ معاف ہوتے ہیں، جیسا کہ حدیث پاک میں ہے:
”حدثنا انس بن مالك قال: قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم: اذا كثرت ذنوبك فاسق الماء على الماء تتناثر كما يتناثر الورق من الشجر في الريح العاصف“
ترجمہ: حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نےارشاد فرمایا: جب تیرے گناہ زیادہ ہو جائیں، تو پانی پر پانی پلاؤ، گناہ جھڑ جائیں گے جیسے آندھی میں درخت کے پتے گرتے ہیں۔ (تاریخ بغداد، جلد 06، صفحہ 403، مطبوعہ دارالکتاب العربی، بیروت)
سبیل لگانے میں ایصالِ ثواب کی نیت ہو، جیسا کہ فتاوی رضویہ میں ہے: ”نیت ایصالِ ثواب کی ہو اور ریا وغیرہ کو دخل نہ ہو، تو اس(یعنی پانی پلانے) کے جواز میں کوئی شبہہ نہیں، شربت کریں اور عرض کریں کہ الٰہی! یہ شربت ترویح رُوح حضرت امام (یعنی حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی روح کو راحت پہنچانے) کے لیے کیا ہے، اس کا ثواب انھیں پہنچا اور ساتھ فاتحہ وغیرہ پڑھیں، تو اور افضل، پھر مسلمانوں کو پلائیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 09، صفحہ 601، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
صدر الشریعہ بدر الطریقہ مولانا مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ) لکھتے ہیں: ”ماہ محرم میں دس ۱۰ دنوں تک خصوصاً دسویں کو حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ و دیگر شہدائے کربلا کو ایصال ثواب کرتے ہیں کوئی شربت پر فاتحہ دلاتا ہے، کوئی شیر برنج (یعنی چاولوں کی کھیر) پر، کوئی مٹھائی پر، کوئی روٹی گوشت پر، جس پر چاہو فاتحہ دلاؤ جائز ہے، ان کو جس طرح ایصال ثواب کرو مندوب ( یعنی مستحب)ہے، بہت سے پانی اور شربت کی سبیل لگادیتے ہیں۔“ (بہار شریعت، جلد 03، صفحہ 643، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-8462
تاریخ اجراء: 03 صفر المظفر 1445ھ/ 22 اگست 2023ء