logo logo
AI Search

رجب کے روزے کی فضیلت و حقیقت کیا ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

ماہ رجب میں روزہ رکھنے کی ممانعت سے متعلق ایک حدیث پاک کی شرح

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ زید کا کہنا ہے کہ رجب کے مہینے میں روزے نہیں رکھنے چاہییں، اپنے اس قول پر مصنف ابن ابی شیبہ کی اس روایت کو بطور دلیل پیش کرتا ہے:

عن خرشۃ بن الحر، قال: رایت عمر یضرب اکف الناس فی رجب، حتی یضعوها فی الجفان، ویقول  :کلوا، فانما هو شهر کان یعظمہ اهل الجاهلیۃ

ترجمہ: خرشہ بن حررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، میں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو لوگوں کو کھانے سے ہاتھ روکنے پر مارتے ہوئے دیکھا، یہاں تک کہ اُن کے لیے کھانا رکھ دیا جاتا (اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ) فرماتے: کھاؤ ‘‘کیونکہ یہ وہ مہینا ہے جس کی زمانہ جاہلیت میں تعظیم کرتے تھے ۔(مصنف ابن ابی شیبہ ،حدیث نمبر 9758) مزید یہ کہتاہے کہ جن روایات میں رجب کے مہینے میں روزے رکھنے کے فضائل کا ذکر ہے، وہ روایات ضعیف ہیں، لہٰذا ان پر عمل نہیں کرنا چاہئے۔ اس تناظر میں چند سوالا ت کے جوابات مطلوب ہیں:

(1) رجب کے روزوں کا کیا حکم ہے ؟

(2) کیا رجب کے روزوں کے فضائل سے متعلق ساری روایات ضعیف ہیں؟

(3) جوضعیف ہیں وہ تعدد طرق سے حسن ہوتی ہیں یا نہیں؟ اگر نہیں ہوتیں، توان پرعمل کرنا کیسا ہے؟

(4) زید نے جو روایت بیان کی ہے، اس کا کیا جواب ہے؟

جواب

(1) رجب کے مہینے میں روزے رکھنا مستحب ہے چنانچہ فتاوی ہندیہ، جلد1، صفحہ202 اور فتاوی تاتار خانیہ میں ہے:

المرغوبات من الصيام أنواع أولها صوم المحرم والثانی صوم رجب والثالث صوم شعبان

ترجمہ: مستحب روزوں کی چند قسمیں ہیں، جن میں سے پہلے محرم کے روزے اور دوسرے رجب کے روزے اور تیسرے شعبان کے روزے ہیں۔ (فتاوی تاتارخانیہ، جلد2، صفحہ118، دارالکتب العلمیہ، بیروت)

الفقہ علی المذاہب الاربعہ میں ہے: یندب صوم شهررجب وشعبان

ترجمہ: ماہ رجب اور شعبان کے روزے رکھنا مستحب ہے۔(الفقہ علی المذاهب الا ربعہ، جلد1، صفحہ507، دار الکتب العلمیہ،  بیروت)

بلکہ اس مہینے میں روزے رکھنا تو خود حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے بھی ثابت ہے۔ صحیح مسلم شریف، مصنف ابن ابی شیبہ، جلد2، صفحہ344، حدیث نمبر9748، امالی ابن بشران، جلد1، صفحہ253، میں شرط مسلم پر سند صحیح کے ساتھ حدیث پاک مروی ہے:

واللفظ للاول:’’عثمان بن حکیم الانصاری،قال:سالت سعیدبن جبیرعن صوم رجب ونحن یومئذ فی رجب فقال: سمعت ابن عباس رضی اللہ عنھما، یقول: ’’کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یصوم حتی نقول:لا یفطر،ویفطرحتی نقول: ’’لا یصوم‘‘

ترجمہ: عثمان بن حکیم الانصاری فرماتے ہیں، میں نے سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے رجب کے روزے کے بارے میں سوال کیا اور اس وقت رجب کا مہینا تھا، تو انہوں نے فرمایا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو فرماتے سنا: فرما رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے رکھتے، یہاں تک کہ ہم کہتے کہ افطار نہیں کریں گے اور افطار کرتے، یہاں تک کہ ہم  کہتے: روزہ نہیں رکھیں گے۔ (صحیح مسلم، کتاب الصیام، جلد2، صفحہ811، دار إحیاء التراث العربی، بیروت)

(3،2) رجب کے روزوں کے متعلق ساری روایات ضعیف نہیں ہیں، بلکہ اس پر صحیح احادیث بھی موجود ہیں، جیسا کہ جواب نمبر ایک میں ہم نے صحیح مسلم کی صحیح روایت نقل کی ہے اور جو ضعیف ہیں، وہ بھی تعددِ طرق و شواہد و توابع کی وجہ سے حسن کے درجے میں چلی جاتی  ہیں اور بالفرض اس پر صرف ضعیف روایات ہی ہوتیں، تو بھی روزے رکھنے کی ممانعت کا قول کرنا درست نہیں کہ تمام ائمہ حدیث کا اجماع ہے کہ فضائل اعمال میں ضعیف احادیث بھی معتبر ہوتی ہیں۔

اصولِ حدیث کا یہ اصول ہے کہ اگر ضعیف حدیث متعدد طرق سے مروی ہو، تو وہ قوی ہوکر حسن لغیرہ کے درجے تک پہنچ جاتی ہے، چنانچہ التیسیر بشرح الجامع الصغیر میں ایک ضعیف حدیث کے بارے میں ہے:

وھو ضعیف کماقال المنذری وغیرہ لکنہ یقویہ مابعدہ فھوحسن لغیرہ

ترجمہ: اوروہ ضعیف ہے، جیساکہ منذری اوران کے علاوہ نے کہا، لیکن اس کے بعد والی نے اُس کو قوی کر دیا، تو وہ حسن لغیرہ ہے۔ (التیسیر بشرح الجامع الصغیر،جلد1،صفحہ167،مکتبۃ الامام الشافعی ،الریاض)

الادب فی رجب میں ہے:

وقدجاء فی فضائل صومہ احادیث ضعیفۃتصیربکثرۃ طرقھاقویۃ مع ان الاحادیث الضعیفۃ الاحوال معتبرۃ فی فضائل الاعمال یعنی تفید

ترجمہ: اورتحقیق رجب کے فضائل کے بارے میں احادیث ضعیفہ وارد ہیں، کثرت طرق کی وجہ سے وہ قوی ہو گئی ہیں با وجودیکہ وہ احادیث ضعیفہ ہیں، فضائل اعمال میں معتبر ہیں، یعنی عمل کا فائدہ دیتی ہیں۔ (الادب فی رجب، صفحہ39، المکتب الاسلامی، دارعمار، بیروت)

فضائل میں ضعیف حدیث معتبر ہونے کے حوالے سے مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح، جلد2، صفحہ 806 پر ہے:

وهویعمل بہ فی فضائل الاعمال اتفاقا

ترجمہ: اور بالاتفاق ضعیف حدیث پر فضائل اعمال میں عمل کیا جائے گا۔

اسی کتاب کےایک دوسرے مقام پر ہے:

اجمعواعلی جوازالعمل بالحدیث الضعیف فی فضائل الاعمال

ترجمہ: فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر عمل کرنے کے جواز پر علمائے کرام کا اجماع ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح ، جلد3 ،صفحہ 895، دار الفکر، بیروت)

ایک اور مقام پر یوں ہے:

ومعتبر فی فضائل الاعمال عندالکل

ترجمہ: اورفضائل اعمال میں تمام کے نزدیک معتبر ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح، جلد7، صفحہ 2754، دار الفکر، بیروت)

شرح مسند ابی حنیفہ میں ملا علی قاری علیہ رحمۃ اللہ الباری ضعیف حدیث پرعمل کرنے کے بارے میں فرماتے ہیں:

باسناد ضعیف لکنہ قوی حیث یعمل بہ فی فضائل الاعمال واللہ اعلم بالاحوال

ترجمہ: اسناد ضعیفہ کے ساتھ  مروی ہیں، لیکن فضائل اعمال میں عمل کے اعتبار سے قوی ہیں اوراللہ عزوجل احوال کو بہتر جانتا ہے۔ (شرح مسند ابی حنیفہ، جلد1، صفحہ26، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں: اور فضائلِ اعمال میں حدیث ضعیف باجماعِ ائمہ مقبول ہے، واﷲتعالیٰ اعلم۔ (فتاوی رضویہ، جلد10، صفحہ 649، رضا فاؤنڈیشن، لاهور)

(4) زید نے جو روایت حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے سے ذکر کی ہے، اس کا مطلب شارحین حدیث نے یہ بیان کیا ہے کہ اگر کوئی شخص زمانہ جاہلیت کی طرح اس مہینے میں روزہ کو واجب جانتے ہوئے رکھے، تو ممنوع ہے، ورنہ منع نہیں کہ یہ نفلی روزہ ہے اور اس سے ممانعت کی کوئی وجہ نہیں۔ العلامۃ الشیخ علی بن سلطان محمد القاری فرماتے ہیں:

فمحمول علی اعتقاد وجوبہ، کما فی الجاھلیۃ 

ترجمہ: تو ممانعت کواس کے واجب ہونے کے اعتقاد پر محمول کیا جائے گا، جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں تھا۔ (الادب فی رجب، صفحہ39، المکتب الاسلامی، دار عمار، بیروت)

لہٰذا مسلمانوں کو چاہيے کہ کسی کے وسوسہ کی وجہ سے اپنی عبادات میں سستی نہ کریں، بلکہ اللہ تعالیٰ سے ثواب کثیر کی امید پر رجب کے مہینے میں خوب خوب عبادات کریں۔

اس موضوع پر تفصیلی معلومات کے لیے العلامۃ الشیخ علی بن سلطان محمد، ابو الحسن نور الدین الملا الہروی القاری علیہ رحمۃ اللہ الباری کی تصنیف لطیف ’’الادب فی رجب‘‘ کا مطالعہ بہترین ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی ابوالحسن  محمد ہاشم خان عطاری
فتوی نمبر: Lar 3796
تاریخ اجراء: 09 رجب المرجب 1434ھ20مئی 2013ء