Ek Masjid Mein Aik Se Zaid Jamat Karwana Kaisa ?
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ایک مسجد میں ایک سے زیادہ جماعتیں کروانا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میرا سوال یہ تھا کہ ایک مسجد میں ایک سے زیادہ جماعتیں کروائی جاسکتی ہیں؟
جواب
مسجد محلہ جس کے لیے امام اور جماعت مقرر ہو، جب اس کے اہل محلہ اس میں اذان اور اقامت کے ساتھ مسنون طریقہ سے جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لیں، تو اب دوبارہ اسی کیفیت پر دوسری جماعت قائم کرنا مکروہ ہے، البتہ محراب سے ہٹ کر اذان کا اعادہ کیے بغیر دوسری جماعت کرسکتے ہیں، اقامت کہنے میں حرج نہیں۔
نوٹ: یہ یاد رہے کہ مخصوص شرائط کے ساتھ مرد پر مسجد میں جماعت اولی کے ساتھ نماز پڑھنا واجب ہے اور شرعی رخصت کے علاوہ، محض سستی کی بنا پر مسجد کی جماعت اولی چھوڑنا جائز نہیں۔ لہذا جماعت ثانی کی امید پر جماعت اولی کو بلاوجہ شرعی چھوڑنے کی اجازت نہیں ہے۔
اور شارع عام کی مساجد جن کے نمازی مقررنہیں ہوتے، اسی طرح بازاروں اور اسٹیشن وغیرہ کی مساجد، جہاں لوگ آتے رہتے ہیں، اور نماز پڑھ کر چلے جاتے، ہیں، ان کا حکم یہ ہے کہ وہاں اذان و اقامت کے ساتھ بھی دوسری جماعت قائم کرنے میں حرج نہیں، بلکہ یہی افضل ہے کہ جو گروہ آئے وہ نئی اذان و اقامت کے ساتھ جماعت کرے۔
بہارشریعت میں ہے: مسجدِ محلہ میں جس کے ليے امام مقرر ہو، امام محلہ نے اذان و اقامت کے ساتھ بطریق مسنون جماعت پڑھ لی ہو تو اذان و اقامت کے ساتھ ہيات اُولی پر دوبارہ جماعت قائم کرنا مکروہ ہے اور اگر بے اذان جماعتِ ثانیہ ہوئی، تو حرج نہیں جب کہ محراب سے ہٹ کر ہو۔ ہياءت بدلنے کے ليے امام کا محراب سے دہنے یا بائیں ہٹ کر کھڑا ہونا کافی ہے، شارع عام کی مسجد جس میں لوگ جوق جوق آتے اور پڑھ کر چلے جاتے ہیں یعنی اس کے نمازی مقرر نہ ہوں، اس میں اگرچہ اذان و اقامت کے ساتھ جماعتِ ثانیہ قائم کی جائے کوئی حرج نہیں، بلکہ یہی افضل ہے کہ جو گروہ آئے نئی اذان و اقامت سے جماعت کرے، یوہیں اسٹیشن و سرائے کی مسجدیں۔ ملخصاً (بہارشریعت، ج 01، ص 583، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ)
امام اہل سنت امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: پانچوں وقت کی نماز مسجد میں جماعت کے ساتھ واجب ہے۔ ایک وقت کابھی بلاعذر ترک گناہ ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، ج 7، ص 194، رضا فاؤنڈیشن، لاهور)
اسی فتاوی رضویہ میں فرمایا: ’’اقول لسنا نبیح تعمد ترک الجماعۃ الأولی اتکالا علی الاخری فمن سمع منادی ﷲ ینادی و لم یجب بلاعذر اثم و عزر“ یعنی میں کہتا ہوں: ہم جماعت اولیٰ کے عمداً ترک کو دوسری جماعت پر بھروسا کی بناء پر مباح قرار نہیں دیتے اور جس شخص نے بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے بلاوا سُنا اور اس نے اسے قبول نہ کیا وہ گنہگار ہوگا اور وہ قابل تعزیر ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج 7، ص 162، رضا فاؤنڈیشن، لاهور)
فتاوی رضویہ میں ہے: مسجدِ محلّہ میں جماعت ثانیہ کے لئے اعادہ اذان منع ہے تکبیر میں حرج نہیں۔ (فتاوی رضویہ، ج 05، ص 156، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا ذاکر حسین عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1604
تاریخ اجراء: 12 شوال المکرم 1444ھ / 03 مئی 2023ء