فجر کی قضا نماز صبح آٹھ یا نو بجے پڑھنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
صبح آٹھ یا نو بجے نمازِ فجر پڑھنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ایک شخص کی روزانہ فجر کی نماز قضاہو، تو وہ صبح 8 یا 9 بجے اٹھ کر ادا کر سکتا ہے؟
جواب
نعوذ باللہ من ذالک! ایک وقت کی نماز بھی جان بوجھ کر بلا عذر شرعی قضا کردینا سخت ناجائز و حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے، اور ایساشخص سخت فاسق و فاجر ہے، اس پر لازم ہے کہ سچے دل سے توبہ کر کے نمازوں کو ان کے وقت پر ادا کرے، پوچھی گئی صورت میں اس شخص پر بھی لازم ہے کہ فجر کی نماز اس کے وقت پر ادا کرے، بلاوجہ شرعی نمازقضا کردینا سخت ناجائزو حرام اور گناہ کا کام ہے، جس سے توبہ لازم ہے، البتہ! اگر فجرکی نماز قضا ہوگئی، جان بوجھ کر یا اس کے علاوہ، تو اب اس کی قضافرض ہے، اور مکروہ و ممنوع اوقات (جن کی تفصیل نیچے آرہی ہے) کے علاوہ کسی بھی وقت، قضا کر سکتا ہے، پس سورج نکلنے کے بیس منٹ بعد اور ضحوہ کبری (زوال) کے وقت سے پہلے، اس سارے ٹائم میں قضا کر سکتا ہے، لہذا صبح 8 یا 9 بجےبھی قضا کر سکتا ہے، اور بلاوجہ شرعی قضا کی، تو اس سے توبہ بھی لازم ہے۔
اللہ تعالیٰ بے نمازیوں کی مذمت کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا﴾ ترجمہ کنز الایمان: تو ان کے بعد ان کی جگہ وہ ناخلف آئے جنہوں نے نمازیں گنوائیں (ضائع کیں) اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے تو عنقریب وہ دوزخ میں غیّ کا جنگل پائیں گے۔ (پارہ 16، سورۃ مریم، آیت 59)
حدیث مبارک ہے”من ترك الصلاة متعمدا كتب اسمه على باب النار ممن يدخلها“ترجمہ: جس نے قصداً نماز چھوڑی تو اس کا نام جہنم کے اس دروازے پر لکھ دیا جاتا ہے، جس سے وہ جہنم میں داخل ہو گا۔ (كنز العمال، جلد 7، صفحہ 324، حدیث 19090، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”جس نے قصدا ایک وقت کی نمازچھوڑی، ہزاروں برس جہنم میں رہنے کا مستحق ہوا، جب تک توبہ نہ کرے اور اس کی قضانہ کرلے، مسلمان اگر اُس کی زندگی میں اُسے یکلخت چھوڑ دیں اُس سے بات نہ کریں، اُس کے پاس نہ بیٹھیں، تو ضرور اس کا سزا وار ہے۔“ (فتاوٰی رضویہ، جلد 9، صفحہ 159، 158، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
جن اوقات میں قضا مکروہ ہے، ان کے متعلق جزئیات و تفصیل:
صحیح بخاری و مسلم، مسند امام احمد، المعجم الاوسط اور دیگر کتبِ احادیث میں ہے(و اللفظ للمعجم) ’’ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نھی عن الصلاۃ فی ثلاث ساعات: عند طلوع الشمس حتی تطلع ونصف النھار و عند غروب الشمس‘‘ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے تین اوقات میں نماز پڑھنےسے منع فرمایا: سورج طلوع ہونے کے وقت یہاں تک کہ (اچھی طرح) طلوع ہو جائے، نصف النہار (زوال کے وقت) اور غروبِ آفتاب کے وقت۔ (المعجم الاوسط للطبرانی، جلد 5، صفحہ 53، مطبوعہ: قاھرہ)
بدائع الصنائع میں ہے ’’ليس للقضاء وقت معين بل جميع الاوقات وقت له الا ثلاثة: وقت طلوع الشمس و وقت الزوال و وقت الغروب، فانه لا يجوز القضاء في هذه الاوقات‘‘ ترجمہ: قضا نماز کے لیے کوئی وقت معین نہیں ہے، بلکہ تمام اوقات میں پڑھ سکتے ہیں، سوائے تین اوقات کے، یعنی طلوعِ شمس، زوال اور غروب آفتاب کے وقت ،کہ ان اوقات میں قضا نماز پڑھنا جائز نہیں، جیسا کہ گزرا۔ (بدائع الصنائع، کتاب الصلوۃ، جلد 1، صفحہ 562، مطبوعہ: کوئٹہ)
خطبہ خواہ کسی کابھی ہو،جب اس کے لیے امام منبرپر آجائے، تو اس وقت قضا نماز پڑھنامکروہ وممنوع ہے، البتہ! صاحب ترتیب کےلیے خطبہ جمعہ کے وقت قضامنع نہیں ،فتح باب العنایہ میں ہے ’’(تکرہ) ای الصلاۃ وسجدۃ التلاوۃ وصلاۃ الجنازۃ الا الفائتۃ لصاحب الترتیب (اذا خرج) ای صعد (الامام) المنبر (للخطبۃ) ای خطبۃ الجمعۃ او العیدین او الحج او الکسوف او الاستسقاء‘‘ ترجمہ: جب امام خطبے کے لیے منبر پہ آ جائے، تو نماز، سجدہ تلاوت اور نمازِ جنازہ ادا کرنا مکروہ ہے، مگر صاحبِ ترتیب کے لیے فوت شدہ نماز پڑھنا مکروہ نہیں، خطبہ جمعہ کا ہو یا عیدین کا یا پھر حج کا یا نمازِ کسوف یا نمازِ استسقاء کا ہو۔ (فتح باب العنایہ، کتاب الصلوۃ، جلد 1، صفحہ 192، مطبوعہ: کراچی)
فرض نمازکاوقت تنگ ہو،تواس وقت قضانمازپڑھنامکروہ وممنوع ہے چنانچہ در مختار اور رد المحتار میں ہے ’’(يكره غير المكتوبة عند ضيق الوقت) اي المكتوبة الوقتية، فشملت الكراهة النفل والواجب والفائتة ولو كان بينها وبين الوقتية ترتيب‘‘ ترجمہ: وقت میں تنگی ہو تو غیر فرض کی ادائیگی مکروہ ہے، یہاں فرض سے مراد وقتی فرض نماز ہے اور یہ کراہت نفل، واجب، قضا کو بھی شامل ہے، اگرچہ قضا اور وقتی فرض کے درمیان ترتیب والا معاملہ ہو۔ (درمختار مع رد المحتار، کتاب الصلوۃ، جلد 2، صفحہ 50، مطبوعہ: کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے ’’عین خطبہ کے وقت اگرچہ پہلا ہو یا دوسرا اور جمعہ کا ہو یا خطبۂ عیدین یا کسوف و استسقا و حج و نکاح کا ہو، ہر نماز حتیٰ کہ قضا بھی ناجائز ہے، مگر صاحب ترتیب کے ليے خطبہ جمعہ کے وقت قضا کی اجازت ہےفرض کا وقت تنگ ہو، تو ہر نماز یہاں تک کہ سنت فجر و ظہر مکروہ ہے۔‘‘ (بہار شریعت، حصہ 3، جلد 1، صفحہ 456، 457، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5427
تاریخ اجراء: 05 ربیع الآخر 1448ھ / 17 ستمبر 2026ء