اقامت میں قد قامت الصلوٰۃ رہ جائے تو کیا کریں؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
اقامت میں قد قامت الصلوٰۃ نہیں پڑھا تو اقامت کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کےبارے میں کہ نماز کے لیے اقامت کہی جائے، لیکن "قد قامت الصلوٰۃ" کہنا بھول جائے اور اقامت ختم کر دے، تو کیا حکم ہے؟ کیا اب اقامت دوبارہ کہنا ہوگی؟
سائل: محمد نعمان (فیصل آباد)
جواب
اگر اقامت میں "قد قامت الصلوٰۃ" کہنا رہ جائے تو طریقہ یہ ہے کہ پوری اقامت دوبارہ کہی جائے، البتہ اگر اقامت ختم ہونے کے بعد اس کے متصل "قد قامت الصلوٰۃ" پڑھ لیا جائے، تو بھی کافی ہے، پھر اقامت دہرانے کی حاجت نہیں۔
اقامت میں "قد قامت الصلوٰۃ" کے الفاظ چھوٹ جائیں، تو اقامت دوبارہ پڑھی جائے گی جیسا کہ فتاوی تتار خانیہ اور الذخیرۃ البرھانیہ میں ہے (و اللفظ للآخر) و إذا ظن الإقامة من أولها أذانا و أتمها أذانا، ينبغي أن يعيد الإقامة لأن التغيير في كلھا، و لو ألحق بآخرها قد قامت الصلاة و صلی بها جاز" ترجمہ: اگر کسی نے ابتدا ہی سے اقامت کو اذان سمجھا اور آخر تک اسے اذان ہی سمجھ کر پڑھا، تو اسے چاہئے کہ اقامت دوبارہ پڑھے، کیونکہ اس صورت میں گویا پوری اقامت ہی بدل گئی۔ البتہ اگر آخر میں "قد قامت الصلوٰۃ" ملا دے اور اسی اقامت پر نماز پڑھ لے، تو یہ بھی درست ہے۔ (فتاوی تتارخانیہ، ج 1، ص 326، بیروت) (الذخیرۃ البرھانیہ، ج 2، ص 10، بیروت)
اس مسئلہ کی اصل امام محمد بن حسن شیبانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے درج ذیل جزئیہ پر ہے، چنانچہ آپ سے سوال کیا گیا: أرأيت مؤذناً أذن ثم مكث بعد أذانه ساعة فأخذ في إقامته فظن أنها الأذان فصنع فيها ما يصنع في الأذان، فقال له بعض القوم: هذه الإقامة، كيف يصنع؟ أيبتدئ الإقامة من أولها أو يقول: قد قامت الصلاة؟ قال: بل يبتدئ الإقامة من أولها. قلت: فإن لم يفعل وقال: قد قامت الصلاة؟ قال: يجزيهم" ترجمہ: آپ کیا فرماتے ہیں اس بارے میں کہ اگر ایک مؤذن اذان دینے کے بعد کچھ دیر ٹھہرے، پھر اقامت شروع کرے، لیکن اسے یہ گمان ہو کہ وہ اذان دے رہا ہے، چنانچہ اقامت كو اذان ہی کی طرح مکمل کردے، پھر لوگوں میں سے کوئی اسے بتائے کہ یہ اقامت ہے، تو اب وہ کیا کرے؟ کیا اقامت ابتدا سے دوبارہ پڑھے یا صرف "قد قامت الصلوٰۃ" کہہ دے؟ امام محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: اقامت ابتدا سے دوبارہ پڑھے۔ پھر عرض کیا گیا کہ اگر وہ دوبارہ نہ پڑھے، بلکہ صرف "قد قامت الصلوٰۃ" کہہ دے تو کیا یہ کافی ہوگا؟ فرمایا: ہاں، یہ کافی ہے۔ ( الأصل للإمام الشيباني، ج 1، ص 119، بیروت)
اشکال: فقہاء کرام فرماتے ہیں کہ اقامت کا تکرارمشروع نہیں۔ تو پھر اس صورت میں اقامت دوبارہ پڑھنے کا حکم کیوں ہے؟
جواب: اس صورت میں بظاہر تو اقامت دوبارہ پڑھی جا رہی ہے، اس لیے دیکھنے میں یہ اقامت کا اعادہ معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ اقامت کا اعادہ نہیں ہےکیونکہ "قد قامت الصلوٰۃ" اقامت کے بنیادی کلمات ہیں، انہی کلمات سے اذان اور اقامت میں فرق ہوتا ہے اور انہی کی وجہ سے ان تمام کلمات کو اقامت کانام دیا جاتا ہے، اگر یہ بنیادی کلمات ہی رہ جائیں تو حقیقت میں وہ اقامت ہی نہیں کہلائے گی۔
اسی لیے الذخیرۃ الفتاویٰ اور فتاویٰ تتارخانیہ میں بھی یہی وجہ بیان کی گئی ہے کہ ان بنیادی کلمات کے رہ جانے سے گویا پوری اقامت ہی بدل گئی، اس لیے اسے دوبارہ پڑھا جائے۔
لہذا اس صورت میں جب دوبارہ اقامت پڑھی جائے گی تو حقیقت میں یہ دوسری اقامت نہیں، بلکہ پہلی ہی اقامت قرار پائے گی کہ جو اب اپنے بنیادی کلمات کے ساتھ ادا کی جا رہی ہے۔
رہا یہ مسئلہ کہ اگر آخر میں صرف "قد قامت الصلوٰۃ" پڑھ لیا جائے تو اقامت کیوں درست ہو جاتی ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اصول یہ ہے کہ اگر اذان یا اقامت کے کسی جملے کو اپنے اصل مقام سے آگے یا پیچھے کر دیا جائے تو اس سے اذان و اقامت کی درستی میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لہٰذا جب یہ الفاظ آخر میں پڑھ لیے جائیں گے تو یہ ایسا ہی ہوگا جیسے ان کلمات کو مؤخر کر کے ادا کیا گیا ہو، اور اس سے اقامت صحیح رہتی ہے۔
اقامت کی تکرار مشروع نہیں اس بارے میں الاختیار لتعلیل المختار میں ہے: و لا تعاد الإقامة لأن تكرارها غير مشروع. ترجمہ: اقامت دوبارہ نہیں پڑھی جائے گی، کیونکہ اقامت کا تکرارمشروع نہیں۔ (الاختیار لتعلیل المختار، ص 61، دار المعرفہ، بیروت)
بہار شریعت میں ہے: اَذان کی تکرار مشروع ہے اور اِقامت دوبار نہیں۔ (بہارشریعت، حصہ 3، ص 471،مکتبہ المدینہ، کراچی)
اقامت کو اقامت کا نام قد قامت الصلوٰۃ کے الفاظ کی وجہ سے ہی دیا جاتا ہے اور یہی کلمات اقامت کی اصل ہیں جیسا کہ امداد الفتاح شرح نورالایضاح اورتبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے: و قوله قد قامت الصلاة اذ هى الاصل فيها و ما سميت الاقامة الالاجلها تسمية للكل باسم البعض" ترجمہ: قد قامت الصلوٰۃ" کہنا، کہ اقامت میں اصل یہی کلمات ہیں، اور اقامت کا نام ہی ان کلمات کی وجہ سے رکھا گیا ہے، جو کہ جزو کا نام بول کر کل مراد لینے کے قبیل سے ہے۔(امداد الفتاح شرح نور الايضاح، ص 196، دمشق) (تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق، ج 1، ص 243، بیروت)
کلمات اذان و اقامت کو مقدم و مؤخرکرنے کے بارے میں بہار شریعت میں ہے: اگر کلماتِ اذان یا اقامت میں کسی جگہ تقدیم و تاخیر ہو گئی تو اتنے کو صحیح کر لے۔ سرے سے اعادہ کی حاجت نہیں اور اگر صحیح نہ کئے اور نماز پڑھ لی تو نماز کے اعادہ کی حاجت نہیں۔ (بہار شریعت، حصہ 3، ص 469،مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-10064
تاریخ اجراء: 13 محرم الحرام 1448ھ / 29 جون 2026ء