logo logo
AI Search

قرآن پاک میں وقف کی علامات پر وقف نہ کرنے کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کیا قرآن مجید میں مقاماتِ وقف پر وقف نہ کرنا گناہ ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ قرآنِ پاک میں جہاں وقف کی علامت لگی ہوتی ہے، اگر میں نے ان آیات کو وہاں وقف کیے بغیر یاد کیا ہے، تو کیا تلاوت کے دوران ان مقامات پر وقف نہ کرنا گناہ ہوگا؟

جواب

قرآن کریم کو نہایت اہتمام سے مع رعایتِ وصل اور وقف کے پڑھنا چاہیے کہ تلاوتِ قرآن میں قواعدِ وصل اور وقف کی رعایت بھی مثلِ تجوید کے مَا مُور بِہ اور نہایت ضروری ہے؛کیونکہ قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا حکم ہے اور ترتیل؛ حروف کے مخارج کی رعایت رکھنے اور مقاماتِ وقف کی حفاظت کرنے کو کہتے ہیں، اگرچہ محل ِوقف اور کیفیت ِوقف کے اعتبار سے تجویدا ًوقف کی کئی اقسام (مثلاً تام، کافی، حسن، قبیح وغیرہ) ہیں اور ان کی پوری الگ تفصیل ہے، جن کی مکمل وضاحت تجوید کی کتب میں دیکھی جا سکتی ہے، لیکن قرآن میں کہیں بھی صحیح محلِ وقف وہ ہے کہ جس جگہ وقف کرنے کے بعد ابتدا کرنا صحیح ہو، خواہ وہاں کوئی علامتِ وقف ہو یا نہ ہو۔ اس لیے فی نفسہ کسی خاص مقام پر وقف کرنا شرعاً اس طرح واجب نہیں کہ نہ رکنے پر قاری گنہگار ہو، اور نہ ہی کسی کلمے پر وقف کرنا مطلقاً حرام ہے۔ نیز قراء اور تجوید کے علماء جب کسی وقف کو"واجب"، "لازم"، "حرام" یا "جائز نہیں" کہتے ہیں، تو اس سے فقہی وجوب یا حرمت (جس پر ثواب یا گناہ کا مدار ہو) مراد نہیں ہوتی۔ بلکہ واجب، لازم اور ضروری سے مراد "واجبِ صناعی" ہوتا ہے، یعنی فنِ قراءت کے اعتبار سے وہاں رکنا مناسب ہے تاکہ معنی درست واضح ہو، اور حرام اور جائز نہیں وغیرہ سے مراد یہ ہوتی ہے کہ وہاں رکنا فن کے اعتبار سے غیر مناسب یا خلافِ اولیٰ ہے۔

لہذا قرآن کریم میں درج رموز و علاماتِ وقف، ماہرین ِفن کی مقرر کردہ اصطلاحات ہیں، جن کا مقصد قاری کو معنی کے لحاظ سے اچھے اور برے وقف کی راہنمائی کرنا ہے، ان علامات کا لحاظ رکھنا مستحسن اور بہتر ہے، لیکن ان کا اہتمام کرنا واجب شرعی نہیں ہے کہ نہ کرنے پر گناہ ہو، اور نہ ہی وقف کی ان جگہوں کی مخالفت کرنا حرام ہے، تاہم! جس جگہ وقف کرنے سے بالکل فاسد معنی لازم آتا ہو تو ایسی جگہوں پر فسادِ معنی کا علم ہونے کے باوجود قصداً وقف کرنا حرام ہے، (اور کسی مؤمن سے اسکا واقع ہونا محال ہے۔) لیکن چونکہ محلِ وقف کی صحیح پہچان عربی گرامر اور معانی جانے بغیر مشکل ہوتی ہے، اس لیے ماہرینِ فن نے عوام کی سہولت کے لئے علاماتِ وقف لگا دی ہیں جو تقریباً ہر قرآن مجید میں بھی لکھ دی جاتی ہیں، عام لوگ جنہیں عربی گرائمر اور معانی کا علم نہیں ہوتا، ان کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ ان رموز و اوقاف کی رعایت کے ساتھ ہی تلاوت قرآن کریں۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں آپ کو بھی چاہیے کہ رموز و اوقاف کی رعایت کے ساتھ ہی تلاوت کریں۔

قرآن کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے سے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًا﴾ ترجمہ کنز الایمان: ”اور قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔“ (پارہ 29، سورۃ المزمل، آیت 04)

اس آیت کے تحت مدارک التنزیل میں ہے {ورتل القرآن}۔۔۔ أي ۔۔۔اقرأ على تؤدة بتبيين الحروف وحفظ الوقوف وإشباع الحركات {تَرْتِيلاً} هو تأكيد في إيجاب الامر به وانه لا بد منه للقارئ “ ترجمہ: قرآن کو آہستہ آہستہ ٹھہر کر پڑھو، اس کا معنی یہ ہے۔کہ اطمینان کے ساتھ حروف جدا جدا، وقف کی حفاظت اور تمام حرکات کی ادائیگی کا خاص خیال رکھنا ''ترتیلا'' اس مسئلہ میں تاکید پیدا کررہا ہے کہ یہ بات تلاوت کرنے والے کے لئے نہایت ہی ضروری ہے۔ (تفسیر مدارک التنزیل، جلد 03، صفحہ 555، 556، مطبوعہ: بیروت)

مذکورہ بالا آیتِ مبارکہ کے تحت تفسیرِ خزائن العرفان میں ہے: ”رعایتِ وقوف اور ادائے مخارج کے ساتھ اور حروف کو مخارج کے ساتھ تا بہ امکانِ صحیح ادا کرنا نماز میں فرض ہے۔ “ (تفسیرِ خزائن العرفان، ص 1063، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

فنِ تجوید کے مشہور امام علامہ جزری علیہ الرحمہ التمہید فی علم التجوید میں فرماتے ہیں: ”وقد سئل علي رضي اللہ عنه عن معنى قوله تعالى {ورتل القرآن ترتيلا}، فقال: الترتيل تجويد الحروف، ومعرفة الوقوف“ ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا﴾کے معنی کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ترتیل سے مراد حروف کو اچھی طرح درست ادا کرنا اور مقاماتِ وقف کو پہچاننا ہے۔ (التمھید فی علم التجوید، صفحہ 40، مطبوعہ: رياض)

معرفۃ الوقوف نامی رسالہ میں ہے ”محلِ وقف یعنی وقف کرنے کی جگہ پہچاننا کہ کس جگہ وقف کرنا صحیح ہے اور کہاں صحیح نہیں ائمہ وقف اسی سے بحث کرتے ہیں۔ اس وجہ سے معرفتِ وقف میں یہ اصل ہے۔ لہذا معلوم ہونا چاہیے کہ دراصل صحیح محلِ وقف وہ ہے کہ جس جگہ وقف کرنے کے بعد ابتدا کرنا صحیح ہو۔ خواہ کوئی علامتِ وقف ہو یا نہ ہو۔ اگرچہ وصل کی جگہ وقف یا وقف کی جگہ وصل کرنے سے معنیٰ نہیں بدلتے، تاہم بے محل وقف کرنے سے سامع کو کسی دوسرے معنیٰ کا وہم ہو سکتا ہے۔“ (جامع الوقف مع معرفۃ الوقوف، صفحہ 47، مطبوعہ: لاہور)

مکتبۃ المدینہ کی شائع کردہ "نصاب التجوید" نامی کتاب میں ہے: ”عربی گرائمر جانے بغیر وقف کی صحیح پہچان نہیں ہو سکتی، لہذا قراء حضرات نے ہماری آسانی کے لئے کچھ رموز (علامات) مقرر کئے ہیں، تاکہ ہمیں معلوم ہو کہ کس جگہ وقف کرنا ہے اور کس جگہ نہیں کرنا۔“ (نصاب التجوید، سبق نمبر 18، رموزِ اوقاف، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

مقدمہ جزری میں ہے ”وليس في القرآن من وقف وجب ... ولا حرام غير ما له سبب“ ترجمہ: اور قرآن مجید میں کوئی ایسا وقف نہیں ہے جو (شرعی طور پر بذاتِ خود) واجب ہو، اور نہ ہی کوئی وقف حرام ہے، سوائے اس کے جس کی کوئی (خارجی) وجہ یا سبب ہو۔

(منظومة المقدمة فيما يجب على القارئ أن يعلمه (الجزرية)، صفحہ 10، مطبوعہ: سعوديه)

اس کی شرح میں المنح الفکریۃ شرح المقدمۃ الجزریۃ لملا علی قاری میں ہے”(وليس في القرآن من وقف وجب) وفي نسخة يجب ومن زائدة مؤكدة للمبالغة في النفي فيجوز وصل الكلمات من أوّلها إلى آخرها في القرآن العظيم ولا يكون فاعله تاركا لواجب عليه بمعنى أنه يأثم بترك الوقف لديه وإنما ينبغي له بالوجوب الاصطلاحي ويستحب له باللزوم العرفي مراعاة الوقوف القرآنية لما ورد أن علياً كرّم اللہ وجهه سُئل عن قوله تعالى ورتل القرآن ترتيلاً فقال الترتيل تجويد الحروف ومعرفة الوقوف ولما ورد عن ابن عمر رضي اللہ عنهما أنه قال: لقد عشنابرهة من دهرنا وأن أحدنا ليؤتى الايمان قبل القرآن وتنزل السورة على النبي صلی اللہ علیہ وسلم فنتعلم حلالها وحرامها وأمرها وزجرها وما ينبغي أن يوقف عنده منها، قال الناظم ففي كلام علي رضي اللہ عنه دليل على وجوب تعلمه ومعرفته وفي كلام ابن عمر رضي اللہ عنهما برهان علی أن تعلمه إجماع من الصحابة رضي اللہ عنهم وصح بل تواتر عندنا تعلمه والاعتناء به من السلف الصالح“ ترجمہ: شعر کا یہ حصہ کہ: قرآن میں کوئی ایسا وقف نہیں ہے جو واجب ہو، اور ایک نسخے میں 'وَجَبَ' کی جگہ 'يَجِبُ' (مضارع) ہے۔ اور لفظ 'مِنْ' یہاں نفی میں مبالغے اور تاکید کے لیے زائد ہے؛ چنانچہ قرآنِ عظیم میں کلمات کو اول سے آخر تک ملا کر پڑھنا (وصل کرنا) جائز ہے، اور ایسا کرنے والا اپنے اوپر کسی واجب کو چھوڑنے والا شمار نہیں ہوگا، یعنی اس جگہ وقف نہ کرنے پر وہ گناہ گار نہیں ہوگا۔ بلکہ اس کے لیے (تجوید کے) اصطلاحی وجوب کے طور پر یہ مناسب ہے اور عرفی لزوم کے طور پر مستحب ہے کہ وہ قرآنی وقفوں کی رعایت کرے؛ کیونکہ یہ روایت منقول ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ”وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا“ (اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو) کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے فرمایا: 'ترتیل سے مراد حروف کو عمدہ بنانا (تجوید) اور وقف کی جگہوں کو پہچاننا ہے۔ اور اس روایت کی وجہ سے بھی جو ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا: ہم نے اپنی زندگی کا ایک طویل حصہ اس حال میں گزارا ہے کہ ہم میں سے کسی کو قرآن سے پہلے ایمان عطا کیا جاتا تھا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سورت نازل ہوتی تھی تو ہم اس کے حلال و حرام، اس کے احکام و نواہی اور ان مقامات کو سیکھتے تھے جہاں وقف کرنا مناسب ہوتا تھا۔ شارح کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے کلام میں وقف کو سیکھنے اور اس کی پہچان حاصل کرنے کے وجوب کی دلیل موجود ہے، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کے کلام میں اس بات کا ثبوت ہے کہ اسے سیکھنا صحابہ رضی اللہ عنہم کا اجماع تھا۔ اور ہمارے ہاں سلف صالحین کا اسے سیکھنا اور اس کا اہتمام کرنا صحیح بلکہ تواتر سے ثابت ہے۔ (المنح الفکریۃ شرح المقدمۃ الجزریۃ ، صفحہ 258، مطبوعہ: دمشق)

مزید اسی میں ہے حاصل معنى البيت بكماله أنه ليس في القرآن وقف واجب يأثم القارئ بتركه ولا وقف حرام يأثم بوقفه لأنهما لا يدلان على معنى فيختل بذهابهما إلا أن يكون لذلك سبب يستدعى تحريمه وموجب يقتضى تأثيمه كأن يقصد الوقف على ﴿وما من إله﴾ ﴿وإنى كفرت﴾ ونحوها مما سبق من غير ضرورة إذ لا يقصد ذلك مسلم واقف على معناه وإذ لم يقصد فلا يحرم عليه لا الوصل ولا الوقف في مبناه وأما غير الواقفين على معناه ففي الأمر سعة عليهم إذ لا يتصور القصد لديهم لكن الأحسن مع عدم القصد أن يتجنب الوقف على مثل ذلك مطلقاً للإبهام على خلاف المرام لاسيما إذا كان مستمع في ذلك المقام“ ترجمہ: اور پورے شعر کے معنی کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں کوئی ایسا وقفِ واجب نہیں ہے جس کے چھوڑنے پر قاری گناہ گار ہو، اور نہ ہی کوئی ایسا وقفِ حرام ہے جس پر رکنے سے وہ گناہ گار ہو، کیونکہ یہ دونوں (وصل یا وقف) بذاتِ خود کسی ایسے معنی پر دلالت نہیں کرتے جو ان کے ختم ہونے سے بگڑ جائے۔ سوائے اس کے کہ اس کے لیے کوئی ایسا سبب موجود ہو جو اس کی تحریم کا تقاضا کرے اور گناہ گار ہونے کا موجب بنے، جیسے کوئی شخص بغیر کسی مجبوری کے جان بوجھ کر ”وَمَا مِنْ إِلٰهٍ“ (کوئی معبود نہیں) یا ”إِنِّي كَفَرْتُ“ (بیشک میں نے کفر کیا) اور اس جیسی دیگر مثالوں پر وقف کرنے کا ارادہ کرے جن کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ کیونکہ کوئی بھی مسلمان جو معنی سے واقف ہو، ایسا ارادہ نہیں کر سکتا۔ اور جب اس کا ایسا (غلط) ارادہ نہ ہو، تو اس پر نہ تو وصل (ملا کر پڑھنا) حرام ہوگا اور نہ ہی وقف کرنا۔ رہے وہ لوگ جو معنی سے واقف نہیں ہیں، تو ان کے لیے اس معاملے میں گنجائش ہے کیونکہ ان کی طرف سے ایسے (غلط) ارادے کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن ارادہ نہ ہونے کی صورت میں بھی بہتر یہی ہے کہ اس طرح کی جگہوں پر وقف کرنے سے بالکل بچا جائے، تاکہ مراد کے خلاف کوئی ابہام (شک) پیدا نہ ہو، خاص طور پر اگر اس جگہ کوئی سننے والا موجود ہو۔ (المنح الفکریۃ شرح المقدمۃ الجزریۃ ، صفحہ 260، مطبوعہ: دمشق)

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے ”الترتيل ۔۔۔هو رعاية مخارج الحروف وحفظ الوقوف. وروي نحوه عن علي رضي اللہ عنه حيث قال: الترتيل تجويد الحروف ومعرفة الوقوف۔۔۔۔لا خلاف في أن الاشتغال بعلم التجويد فرض كفاية، أما العمل به، ۔۔۔ذهب المتأخرون إلى التفصيل بين ما هو (واجب شرعي) من مسائل التجويد، وهو ما يؤدي تركه إلى تغيير المبنى أو فساد المعنى، وبين ما هو (واجب صناعي) أي أوجبه أهل ذلك العلم لتمام إتقان القراءة، وهو ما ذكره العلماء في كتب التجويد من مسائل ليست كذلك، كالإدغام والإخفاء إلخ. فهذا النوع لا يأثم تاركه عندهم.۔۔۔ وكذلك ما كان من جهة الوقف، فإنه لا يجب على القارئ الوقف على محل معين بحيث لو تركه يأثم، ولا يحرم الوقف على كلمة بعينها إلا إذا كانت موهمة وقصدها، فإن اعتقد المعنى الموهم للكفر كفر - والعياذ بالله - كأن وقف على قوله تعالى: (إن اللہ لا يستحي) دون قوله: (أن يضرب مثلا ما) ، أو على قوله: (وما من إله) دون (إلا اللہ) .أما قول علماء القراءة: الوقف على هذا واجب، أو لازم، أو حرام، أو لا يحل، أو نحو ذلك من الألفاظ الدالة على الوجوب أو التحريم فلا يراد منه ما هو مقرر عند الفقهاء، مما يثاب على فعله، ويعاقب على تركه، أو عكسه، بل المراد: أنه ينبغي للقارئ أن يقف عليه لمعنى يستفاد من الوقف عليه، أو لئلا يتوهم من الوصل تغيير المعنى المقصود، أو لا ينبغي الوقف عليه ولا الابتداء بما بعده، لما يتوهم من تغيير المعنى أو رداءة التلفظ ونحو ذلك. وقولهم: لا يوقف على كذا، معناه: أنه لا يحسن الوقف عليه صناعة، وليس معناه أن الوقف عليه حرام أو مكروه، بل خلاف الأولى، إلا إن تعمد قاصدا المعنى الموهم

ترجمہ: ترتیل سے مراد حروف کے مخارج کی رعایت کرنا اور مقاماتِ وقف کی حفاظت کرنا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی کے قریب منقول ہے، آپ نے فرمایا: ’’ترتیل حروف کو درست اور عمدہ طریقے سے ادا کرنے اور مقاماتِ وقف کو پہچاننے کا نام ہے۔‘‘ اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ علمِ تجوید سیکھنے میں مشغول ہونا فرضِ کفایہ ہے۔ البتہ اس پر عمل کرنے کے بارے میں قراءت و تجوید کے متاخرین علما نے اس مسئلے میں تفصیل بیان کی ہے۔ ان کے نزدیک تجوید کے مسائل میں بعض واجبِ شرعی ہیں اور بعض واجبِ صناعی۔ واجبِ شرعی سے مراد تجوید کا وہ مسئلہ ہے جس کے ترک کرنے سے حروف کی ہیئت تبدیل یا معنی فاسد ہو جاتا ہو۔ جبکہ واجبِ صناعی سے مراد وہ مسئلہ ہے جسے اہلِ فن نے قراءت کو مکمل طور پر درست اور پختہ کرنے کے لیے لازم قرار دیا ہو۔ تجوید کی کتب میں بیان کیے گئے وہ مسائل جو اس درجے کے نہیں، مثلاً ادغام، اخفاء وغیرہ، ان کے ترک کرنے پر متاخرین کے نزدیک گناہ نہیں ہوگا۔ اسی طرح وقف کے معاملے میں بھی کسی خاص مقام پر وقف کرنا قاری کے لیے اس طرح واجب نہیں کہ اگر وہ وہاں وقف نہ کرے تو گناہ گار ہو، اور نہ ہی کسی خاص کلمے پر وقف کرنا حرام ہے، مگر یہ کہ وہاں وقف کرنے سے ایسا معنی پیدا ہوتا ہو جو درست نہ ہو اور قاری جان بوجھ کر اسی معنی کو مراد لے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿إِنَّ اللّٰهَ لَا يَسْتَحْيِي﴾ پر اس طرح وقف کرنا کہ اس کے بعد ﴿أَنْ يَضْرِبَ مَثَلًا مَا﴾ نہ پڑھا جائے، یا ﴿وَمَا مِنْ إِلَهٍ﴾ پر وقف کرنا اور ﴿إِلَّا اللّٰهُ﴾ کو نہ ملانا۔ ایسی صورت میں اگر قاری اس موہمِ کفر معنی کا اعتقاد بھی رکھے تو، کفر لازم آئے گا، والعیاذ باللہ۔ اور قراءت کے علماء جب کہتے ہیں کہ فلاں مقام پر وقف ’’واجب‘‘، ’’لازم‘‘، ’’حرام‘‘ یا ’’جائز نہیں‘‘ ہے یا اس جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں، تو ان سے وہ فقہی وجوب و حرمت مراد نہیں ہوتی جو فقہاء کے ہاں مقرر ہے، یعنی جس کے کرنے پر ثواب اور چھوڑنے پر سزا ہو یا اس کے برعکس۔ بلکہ ان الفاظ سے مراد یہ ہوتی ہے کہ قاری کے لیے کسی خاص معنی کے حصول کی وجہ سے وہاں وقف کرنا مناسب ہے، یا اس لیے کہ وصل کرنے کی صورت میں مقصود معنی کے خلاف کوئی دوسرا معنی سمجھ میں نہ آئے۔ اسی طرح کسی مقام پر وقف نہ کرنے کا حکم اس وجہ سے ہوتا ہے کہ وہاں وقف کرنا یا اس کے بعد والے لفظ سے ابتدا کرنا معنی میں تبدیلی، کلام کی خرابی یا تلفظ کی قباحت کا باعث بن سکتا ہے۔ لہٰذا جب علماءِ قراءت کہتے ہیں کہ ’’فلاں مقام پر وقف نہیں کرنا چاہیے‘‘ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ فنِ قراءت کے اعتبار سے وہاں وقف کرنا اچھا نہیں، یہ مراد نہیں کہ وہاں وقف کرنا شرعاً حرام یا مکروہ ہے؛ بلکہ وہ خلافِ اولیٰ ہوتا ہے، البتہ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر اس موہمِ غلط معنی کو مراد لیتے ہوئے وہاں وقف کرے تو پھر حکم مختلف ہوگا۔ (الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ، جلد 10، صفحہ 178 تا 180، مطبوعہ: كويت)

فتاوی رضویہ میں ہے "وقف و وصل میں اتباع بہتر ہے، مگر اس کے نہ کرنے سے نماز میں اصلا کچھ خلل نہیں آتا خصوصاً ایسی جگہ کہ کلام تام ہے قصداً وقف میں بھی حرج نہیں اعادہ محض بے معنی تھا ہاں قصد مخالفت البتہ گناہ بلکہ بعض صورتوں میں سب سے سخت تر حکم کا مستوجب ہوگا مگر وہ مسلمان سے متوقع نہیں۔" (فتاوی رضویہ، جلد 6، صفحہ 370، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-5311

تاریخ اجراء: 04 ربیع الاول 1448ھ/18 اگست 2026ء