logo logo
AI Search

سورہ حشر کی آخری تین آیات کی فضیلت

بسم اللہ الرحمن الرحيم

کیا سورۂ حشر کی آخری تین آیات کی فضیلت تلاوت سننے والے کو حاصل ہوگی؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

شرعی حکم یہ ہے کہ جو شخص تلاوت قرآن مجید سننے کی غرض سے موجود ہو،اس پر خاموشی کے ساتھ تلاوت سننا لازم ہوتا ہے، لہذا ايسے مقتدی جونماز کے بعد امام صاحب کی تلاوت سننے کی غرض سے وہاں موجود ہوں، تو ایسے مقتدیوں کا خاموشی کے ساتھ تلاوت سننا واجب ہوگا۔ سن کر ساتھ پڑھنے میں بھی سننے کی غرض سے موجود ہونا ہے، لہذا امام صاحب کی تلاوت سن کر ساتھ ساتھ پڑھنا جائز نہیں ہوگا۔

نیز سورہِ حشر کی آخری تین آیات سے متعلقہ فضیلت والی احادیث میں ’’قرأ‘‘ یعنی پڑھنے کے الفاظ ہیں۔ صرف سننے والے کے لیے فضیلت کی کوئی صراحت احادیث میں موجود نہیں۔ لہذا یہ فضیلت صرف پڑھنے والے کو حاصل ہوگی، سننے والوں کو نہیں۔ نمازی بھی یہ فضیلت حاصل کرنا چاہیں تو امام صاحب کی تلاوت کے مکمل ہونے کے بعد خود سے ان آیات کو پڑھ لیں تا کہ انہیں بھی یہ فضیلت حاصل ہوجائے۔

سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں: ”ظاہریہ ہے، و اللہ تعالی اعلم کہ اگر کوئی شخص اپنے لئے تلاوتِ قرآن عظیم بآواز (بلند آواز سے تلاوت) کر رہا ہے اور باقی لوگ اس (تلاوت) کے سننے کو جمع نہ ہوئے، بلکہ اپنے اغراضِ متفرقہ میں (اپنےمختلف کاموں میں مصروف) ہیں، تو ایک شخص تالی (تلاوت کرنےوالے) کے پاس بیٹھا بغور سن رہا ہے، (تو) ادائے حق (تلاوت سننےکا حق ادا) ہوگیا، باقیوں پر کوئی الزام نہیں اور اگر وہ سب اسی غرضِ واحد (تلاوت سننے) کے لئے ایک مجلس میں مجتمع (جمع ہوئے) ہیں، تو سب پر سننےکا لزوم چاہیے۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 353، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

بہارِ شریعت میں ہے: ”جب بلند آواز سے قرآن پڑھا جائے، تو تمام حاضرین پر سُننا فرض ہے، جب کہ وہ مجمع بغرض سُننے کے حاضر ہو ورنہ ایک کا سننا کافی ہے، اگرچہ اور اپنے کام میں ہوں۔“ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 552، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

سورہ حشر کی آخری آیات کی فضیلت سے متعلق جامع ترمذی، مسند احمد، سنن دارمی، المعجم الکبیر للطبرانی کی حدیث مبارک ہے: و اللفظ للاول: ’’عن معقل بن يسار، عن النبي صلى اللہ عليه و سلم قال: «من قال حين يصبح ثلاث مرات أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم»، و قرأ ثلاث آيات من آخر سورة الحشر، وكل اللہ به سبعين ألف ملك يصلون عليه حتى يمسي، و إن مات في ذلك اليوم مات شهيدا، و من قالها حين يمسي كان بتلك المنزلة‘‘ ترجمہ: حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا ’’جس نے صبح کے وقت تین مرتبہ ’’اَعُوْذُ بِاللّٰہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمْ‘‘ کہا اور سورۂ حشر کی آخری تین آیات کی تلاوت کی تو اللہ تعالیٰ ستر ہزار فرشتے مقرر کر دیتا ہے جوشام تک اس کے لئے دعا کرتے رہتے ہیں اور اگر اسی دن انتقال کر جائے تو شہید کی موت مرے گا اور جو شخص شام کے وقت اُسے پڑھے تو اس کا بھی یہی مرتبہ ہے۔ (جامع ترمذی، جلد 5، صفحہ 42، رقم الحدیث: 2922، دار الغرب الإسلامي - بيروت)

اس کی دوسری فضیلت ملاحظہ ہو، چنانچہ شعب الایمان میں حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث مبارک ہے: ’’قال رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم: مَن قرأ خواتيم الحشر في ليلة أو نهار فمات من يومه أو ليلته فقد أوجب الجنّة‘‘ ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے رات یادن میں سورہِ حشرکی آخری (تین) آیتیں پڑھیں اور اسی دن یا رات میں اس کا انتقال ہو گیا تو اس نے جنت کو واجب کر لیا۔ ( شعب الایمان، جلد 4، صفحہ 121، رقم الحدیث: 2271، مطبوعہ ھند)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری 
فتوی نمبر: FAM-1207
تاریخ اجراء: 05ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 22 مئی 2026ء