logo logo
AI Search

سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ کا نور پیدا کیا گیا؟ حدیث کی تحقیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سب سے پہلے نبی پاک ﷺ کا نور پیدا کیا گیا، کیا یہ حدیث ثابت ہے ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ نورِ مصطفیٰ کی اولیت کے متعلق دو احادیث کافی مشہور ہیں۔

(1) ”أول شیئ خلقہ اللہ...الخ“ (2) ”أول ما خلق اللہ نوري...الخ

کیا یہ دونوں حدیثیں واقعی ثابت ہیں؟ کیونکہ بعض لوگ اِن روایات کو ضعیف بلکہ موضوع بھی کہتے ہیں؟

جواب

اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب، آخری نبی حضرت سیدنا محمد مصطفیٰ ﷺ کو بے شمار فضائل و کمالات عطا فرمائے۔ اُنہی کمالات میں سے ایک کمال یہ بخشا کہ آپ ﷺ کے نور مبارک کو ہر چیز سے پہلے اپنے نور سے پیدا فرمایا۔ اِس پر بعض آیاتِ مبارکہ میں واضح ارشادات اور احادیث صحیحہ میں صراحت سے ثبوت ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ سے یہ کہنے کا حکم ارشاد فرمایا:﴿ وَ بِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ﴾ ترجمہ: اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔ ﴿الأنعام: 163

اس کے تحت تفسیر عرائس البیان فی حقائق القرآن میں ہے:” اشارۃ الی تقدم روحہ وجوھرہ علی جمیع الکون“ ترجمہ: اِس آیتِ مبارکہ میں آپ ﷺ کی روح و جوہر کے تمام کائنات و مافیہا پر مقدم ہونے کا اشارہ ہے۔ (عرائس البیان فی حقائق القرآن، جلد 01، صفحہ 409، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

جہاں تک سوال میں منقول دو روایات کا تعلق ہے، تو اُن دونوں کے متعلق بالترتیب کلام کیا جائے گا اور آخر پر حدیث موضوع کی علامات اور اِن روایات کو موضوع کہنے والوں کے متعلق کلام کیا جائے گا۔

پہلی حدیث: ”أول شیئ خلقہ اللہ“

امام بخاری و امام مسلم رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِما کے استاذ امام عبد الرزاق رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: ”قال سالت رسول اللہ ﷺ عن اول شیئ خلقہ اللہ تعالی؟ فقال ھو نور نبیک یا جابر خلقہ اللہ“ ترجمہ: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسولﷺ! اللہ پاک نے سب سے پہلے کس چیز کو پیدا کیا؟ تو آپﷺ نے جواباً ارشاد فرمایا: اے جابر! اللہ پاک نے سب سے پہلے تیرے نبی کے نور کو پیدا فرمایا۔ (الجزء المفقود من المصنف عبد الرزاق، کتاب الایمان، صفحہ 63، الحدیث: 18، مطبوعہ مؤسسۃ الشرف)

اِسی روایت کو علامہ قسطلانی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے امام عبد الرزاق رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے حوالہ سے نقل کیا اور لکھا: ”وروى عبد الرزاق بسنده عن جابر بن عبد اللہ الأنصارى قال: قلت يا رسول اللہ۔۔۔الخ“ ترجمہ واضح ہے۔ (المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، جلد 01، صفحہ 48، مطبوعۃ المكتبة التوفيقية، القاهرة)

اِس روایت کو نقل کرنے کے بعد عارِف باللہ، علامہ عبدالغنی نابُلُسی حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1143ھ/1730ء) نے صراحت سے اِس حدیث کے صحیح ہونے کو بیان کیا، چنانچہ لکھا: ”وقد خلق كل شيء من نوره كما ورد به الحديث الصحیح“ ترجمہ واضح ہے۔ (الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ، جلد 4، صفحہ 342، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

اِسی روایت کو ملتے جلتے الفاظ سے درج ذیل ائمہ دین نے بھی نقل کیا۔

نمبر شمار

امام

سنِ وفات

کتاب کا نام

1.

امام بیہقی

458 ھ

دلائل النبوۃ ومعرفۃ أحوال صاحب الشریعۃ

2.

نظام الدین قمی

728 ھ

غرائب القرآن ورغائب الفرقان

3.

ابن حجر مکی

974 ھ

افضل القری لتصحیح أم القری

4.

مجدد الف ثانی

1034 ھ

مکتوباتِ امام ربانی

5.

علامہ حلبی

1044 ھ

إنسان العيون في سيرة الأمين المأمون

6.

شیخ محقق دہلوی

1052 ھ

مدارج النبوۃ فی بیان أحوال خیر البشر

7.

علامہ فاسی

1052 ھ

مطالع المسرات بجلاء دلائل الخیرات

8.

علامہ نابلسی

1143 ھ

الحدیقۃ الندیہ شرح الطریقۃ المحمدیہ

9.

امام عجلونی

1162 ھ

کشف الخفاء

10.

علامہ آلوسی

1270 ھ

روح البیان فی تفسیر القرآن

11.

امام خرپوطی

رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہم

1299 ھ

عصيدۃ الشہدۃ شرح قصيدۃ البردۃ

”تلقی بالقبول“:

اول تو مذکورہ روایت پر بعض علماء نے صراحت سے صحت کا حکم لگایا ہے، نیز دوسری طرف یہ روایتِ نور ایسی روایت ہے کہ جسے ائمہ کی بڑی تعداد نے قبول ونقل کیا ہے اور ”تلقی العلماء بالقبول“ ایسی شان دار چیز ہے کہ جس کے بعد ملاحظہِ سند کی بھی حاجت ختم ہو جاتی ہے، لہذ ایہ تلقی بالقبول بھی اِس روایت کے صحت و اعتماد اور تعویل و استناد کی بڑی جامع دلیل ہے۔

اِس روایت کو نقل کرنے کے بعد امامِ اہلِ سنَّت، امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”یہ حدیث امام بیہقی نے بھی ”دلائل النبوۃ“ میں بنحوہٖ روایت کی، اجلہ ائمہ دین مثل امام قسطلانی ”المواہب اللدنیۃ“ اور امام ابن حجر مکی ”افضل القرٰی“ اور علامہ فاسی ”مطالع المسرات“ اور علامہ زرقانی ”شرح المواھب“ اور علامہ دیار بکری ”تاریخ الخمیس“ اور شیخ محقق دہلوی ”مدارج النبوۃ“ وغیرہا میں اس حدیث سے استناد اور اس پر تعویل و اعتماد فرماتے ہیں، بالجملہ وہ تلقی امت کا منصب جلیل پائے ہوئے ہے، تو بلاشبہ حدیث حسن صالح مقبول معتمد ہے ۔ تلقی علماء بالقبول وہ شی عظیم ہے، جس کے بعد ملاحظہ سند کی حاجت نہیں رہتی بلکہ سند ضعیف بھی ہوتو حرج نہیں کرتی۔“ (فتاوٰی رضویہ، جلد 30، صفحہ 659، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

یونہی غزالی زماں علامہ احمد سعید کاظمی شاہ صاحب نے لکھا: ”کثیر التعداد جلیل القدر ائمہ کا اس حدیث کو قبول کرنا، اس کی تصحیح فرمانا، اس پر اعتماد کر کے اس سے مسائل کا استنباط کرنا، اس کے صحیح ہونے کی روشن دلیل ہے، خصوصاً سیدنا عبد الغنی نابلسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حدیقہ ندیہ کے مبحث ثانی نوع ستین ”من آفات اللسان فی مسئلة ذم الطعام“ میں اس حدیث کے متعلق ”الحدیث الصحیح“ فرمانا صحتِ حدیث کو زیادہ واضح کر دیتا ہے۔ ان مختصر جملوں سے ان حضرات کو مطمئن کرنا مقصود ہے، جو اس حدیث کی صحت میں متردد رہتے ہیں۔“ (مقالاتِ کاظمی، جلد 01، صفحہ 55، مطبوعہ مکتبہ ضیائیہ)

استاذ العلماء میاں عبدالحق غور غشتوی جابری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ”کثیر من المحدثین تلقوا ذلك الحديث بالقبول وقبول الائمة دليل لصحة الحديث“ ترجمہ: بہت سے محدثین نے اِس حدیث کو قبول کیا ہے۔ ائمہ کا قبول کر لینا بھی حدیث کے صحیح ہونے کی علامت ہے۔ (نور الانوار، صفحۃ 28، دار العلوم اسلامیہ رحمانیہ، ھری پور، ھزارہ)

فائدہ: میاں عبد الحق رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہِ کی یہ کتاب عربی میں ہے۔ اِس کتاب کی توثیق اور ترجمہ علامہ عبدالحکیم شرف قادری صاحب رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہِ نے فرمایا، نیز خود میاں عبد الحق رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہِ حدیثِ نور کے راوی حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی اولاد سے ہیں۔ اِسی لیے ”جابری“ کہلاتے ہیں۔

”تلقی بالقبول“ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ”نزھۃ النظر“ میں ہے: ”وهذا التلقي وحده أقوى في إفادة العلم من مجرد كثرة الطرق القاصرة عن التواتر“ ترجمہ: اور تنہا یہ تلقی بالقبول افادہِ علم میں اُن بہت سی سندوں کی بہ نسبت زیادہ قوی اور مضبوط ہے، جو تواتر کے درجے تک نہ پہنچتی ہوں۔ (نزهة النظر في توضيح نخبة الفكر، صفحہ 52، مطبوعۃ دمشق، سوریا)

دوسری حدیث” أول ما خلق اللہ نوري“

اِس حدیث کی سندی حیثیت جاننے سے پہلے فن اصولِ حدیث کے چند قواعد مطالعہ کیجیے۔

· جب کسی حدیث کی کوئی سند ضعیف یا راوی غیر معتبر ہو، جبکہ دوسری حدیث صحیح اُس کی ہم معنی ہو، تو وہ ضعیف حدیث بھی معناً مقبول کہلائے گی۔

· اولاً تو حدیث ”أَوَّلُ مَا خَلَقَ اللہُ نُوْرِیْ“ کو شاہ عبد الحق محدث دہلوی ”صحیح“ کہہ رہے ہیں۔ اب اگر کسی سند میں اس کا ضعف ثابت بھی ہو، تب بھی حدیثِ جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اِس کے ہم معنی ہے اور حدیثِ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ لفظاً و معناً دونوں اعتبار سے مقبول ہے، البتہ ”أَوَّلُ مَا خَلَقَ اللہُ نُوْرِیْ“ لفظاً ثابت نہیں، مگر معناً یہ بھی صحیح ہے اور درحقیقت یہ مصنف عبد الرزاق کی حدیث کا خلاصہ واختصار ہے۔

· جس روایت کو بلا انکار اور بغیر جرح کے نقل کیا جائے، وہ حدیث معناً صحیح ہوتی ہے اور حدیث ”أَوَّلُ مَا خَلَقَ اللہُ نُوْرِیْ“ کو محدثین صدیوں سے بلا انکار اور بغیر جرح کے نہ صرف نقل کرتے چلے آرہے ہیں، بلکہ اس سے استدلال بھی کرتے ہیں۔ یہ بتواتر نقل ہوتے رہنا، اِس روایت کی معناً صحت کی دلیل ہے، ورنہ حدیثِ موضوع سے استدلال کجا، اسے بیان کرنا بھی جائز نہیں۔

· علماءِ کرام کا تلقی بالقبول بھی حدیث کی قبولیت کے لیے کافی ہوتا ہے۔ چنانچہ صدیوں سے محدثین کا اِس کو نقل کرنا بھی اِسے تقویت دیتے ہوئے قابلِ قبول بناتا ہے۔

یہ چاروں نکات فیضِ ملت، خلیفہ مفتی اعظم ہند، ابو صالح مفتی فیض احمد اویسی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اِس حدیث کے دفاع میں لکھے ہوئے رسالہ میں بیان کیے۔ اُن قواعد کو ملخصاً نقل کیا گیا ہے۔ (اول ما خلق اللہ نوری، صفحہ 4)

اِس روایت کے ماخذ و مراجع:

یہ روایت ”مرقاۃ المفاتیح“ میں یوں ہے: ”وروي: ۔۔۔وإن أول ما خلق اللہ نوري“ ترجمہ: اور روایت کیا گیا کہ بے شک سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو پیدا فرمایا، وہ مجھ مصطفیٰ ﷺ کا نور تھا۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 01، صفحہ 169، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

اِسی روایت کو ”مدارج النبوۃ “ میں حدیث صحیح قرار دیتے ہوئے لکھا گیا: ”درحدیث صحیح وارد شدہ کہ اول ما خلق اللہ نوری“ ترجمہ: حدیثِ صحیح میں آیا ہے کہ ”اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے میرے نور کو پیدا فرمایا۔“ (مدارج النبوۃ، جلد 02، صفحہ 02، مطبوعہ مرکز اھلِ سنت برکات رضا)

اِس روایت کے متعلق مفتی جلال الدین امجدی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1422ھ/2001ء) لکھتے ہیں: ”وبالجملہ حدیث ”اول ما خلق اللہ نوری“ اکابر علماء کی تصانیف میں بلانکیر شائع وذائع ہے۔ اس حدیث کو علماء متقدمین ومتاخرین کے درمیان قبولِ تام کا منصبِ جلیل حاصل ہے۔ بدمذہب علماء نے بھی اس حدیث کو تسلیم کیا ہے۔ اور تلقیِ علماء بالقبول وہ شئےِ عظیم ہے جس کے بعد کسی سند کی حاجت نہیں رہتی، بلکہ سند ضعیف بھی ہو تو حرج نہیں کرتی۔“ (فتاوی فیض الرسول، جلد 1، صفحہ 30، مطبوعہ شبیر برادرز لاھور)

امامِ اہلِ سنَّت، امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1340ھ/1921ء) سے سوال ہوا کہ زید کہتا ہے کہ حدیث ”اول ما خلق اللہ نوری“ بالمعنی صحیح ہے، اگرچہ الفاظ کتابوں میں موجود نہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ جب اس کے الفاظ موجود نہیں، تو کیا ہم اِسے موضوع کہیں گے؟ آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے جواب دیا: ”عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: یا جابر ان اللہ تعالیٰ قد خلق قبل الاشیاء نور نبیک من نورہ۔ ترجمہ: اے جابر ! بے شک اللہ تعالیٰ نے تمام اشیاء سے پہلے تیرے نبی کے نور کو اپنے نور سے پیدا کیا۔۔۔یہ اس معنی میں نص صریح ہے۔ حدیث کے جب معنی حضور اقدس ﷺ سے ثابت اور صحیح ہیں، تو اسے موضوع نہیں کہہ سکتے، ورنہ صحیحین کی صدہا حدیثیں معاذ اللہ موضوع ہوجائیں گی۔“ (فتاوٰی رضویہ، جلد 27، صفحہ 49، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

اِس روایت کو جن دیگر ائمہ نے روایت کیا، اُن کے نام، سالِ وفات اور جس کتاب میں روایت نقل کی، اُن کتب کے نام درج ذیل ہیں۔

نمبر شمار

امام

سنِ وفات

کتاب کا نام

1.

شیخ نظام الدین نیشاپوری

728ھ

تفسیر النیسابوری

2.

قاضی عضد الدین ایجی

756ھ

المواقف في علم الكلام

3.

علامہ ابن الملک

854ھ

شرح المصابیح

4.

ملا علی قاری

1014ھ

مرقاۃ المفاتیح

5.

ملا علی قاری

1014ھ

شرح الشفاء لقاضی عیاض

6.

علامہ علی بن برہان الدین حلبی

1044ھ

السیرۃ الحلبیۃ

7.

امام ابو حامد العربی الفاسی

1052ھ

مرآة المحاسن من أخبار الشيخ أبي المحاسن

8.

علامہ شہاب الدین خفاجی

1069ھ

حاشیۃ الشھاب علی البیضاوی

9.

علامہ محمد بن عبد الباقی زرقانی

1122ھ

شرح الزرقانی علی المواھب

10.

شیخ اسماعیل حقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہم

1137ھ

روح البیان

اِس روایت کے ناقلین میں سے ایک درجن جلیل القدر ائمہ کے نام نقل کیے گئے، مجموعی تعداد تین درجن تک بڑھائی جا سکتی ہے۔

حدیث موضوع کی علامات:

یاد رکھیں کہ آج کے فتنوں بھرے زمانے میں جس کا جیسے دل چاہے، کسی بھی حدیث کو موضوع کہہ دیتا ہے، جیسا کہ بعض لوگ سوال میں مذکورہ دو روایات کو اپنی بدنصیبی اور کم علمی کی وجہ سے موضوع کہنا شروع کر دیتے ہیں، حالانکہ بعض اوقات اصولِ حدیث کے معیار پر وہ حدیث نہایت معتبر اور درجہِ صحت پر ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ، دینی معاملات اور بالخصوص فرامینِ مصطفیٰ ﷺ کے متعلق ایسی جرأت سے محفوظ فرمائے۔ آمین

فنِ اصولِ حدیث کے ماہرین نے کسی حدیث کےموضوع ہونے کی باقاعدہ علامات بیان کی ہیں۔ اُن کو پرکھ کر فیصلہ کیا جاتا ہےکہ وہ روایت موضوع ہے یا نہیں اور پھر یہ فیصلہ کرنا بھی ہر عام شخص کا کام نہیں، بلکہ جو اِس شعبہ کے ماہرین ہیں، وہ اِس فیصلہ کا حق رکھتے ہیں اور مذکورہ روایت میں موضوع کی علامات میں سے کوئی بھی علامت نہیں پائی جاتی۔ یہاں چند علاماتِ وضع ذکر کی جاتی ہیں۔

· راوی کے حال کا قرینہ: راوی کے احوال، حالاتِ زندگی یا قرائن سے اس کے جھوٹ کا پتا چلنا۔

· مروی کے حال کا قرینہ: خود روایت کے حالات یا پس منظر سے اس کے موضوع ہونے کا پتا چلنا۔

· الفاظ اور معانی دونوں کی رکاکت: حدیث کہہ کر بیان کیے گئے الفاظ اور معانی کا مجموعی طور پر رکیک ہونا۔

· عقل کے صریح مخالف ہونا: حدیث کا عقلِ سلیم کے خلاف ہونا اور اس کی کوئی جائز تاویل بھی ممکن نہ ہونا۔

· بڑے واقعے کی خبر کا ایک راوی ہونا: کسی بہت بڑے اور اہم واقعہ مثلاً حجاج کو بیت اللہ سے روکے جانے کی خبر کا ایسا ہونا کہ اتنے بڑے معاملے کو اتنے لوگوں میں سے صرف ایک ہی شخص نقل کر رہا ہو۔

· بڑی جماعت کا راوی کی تکذیب کرنا: راوی کی تکذیب پر ایسی بڑی جماعت کا متفق ہونا جن کا باہم جھوٹ پر متفق ہونا عادۃً ناممکن ہو۔

· نصِ قرآن کے منافی ہونا: حدیث کا قرآن کریم کی کسی صریح نص کے متضاد ہونا۔

· سنتِ متواترہ کے منافی ہونا: حدیث کا سنتِ متواترہ کے خلاف اور مناقض ہونا۔

· اجماعِ قطعی کے منافی ہونا: حدیث کا امت کے اجماعِ قطعی کے مخالف ہونا۔

یہ وہ علامات ِ وضع ہیں، جنہیں علامہ ابنِ حجر رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ”المقدمة لابنِ صلاح“ پر اپنے نکات درج کرتے ہوئے اکیسویں نوع میں جمع فرمایا۔ تفصیل کے لیے وہاں مراجعت کی جا سکتی ہے۔ (النكت على كتاب ابن الصلاح، جلد 01، صفحہ 125، مطبوعہ المدینۃ المنورۃ)

بلکہ حقیقت میں موضوع قرار دینے کی شرائط اس سے بھی زیادہ سخت ہیں، جیسا کہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ نے منیر العین میں بیان فرمائی ہیں۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر: FSD-10130

تاریخ اجراء: 22 صفر المظفر 1448ھ/06 اگست 2026