قرآنی آیات والے اخبارات بے وضو چھونا یا ردی میں بیچنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
قرآنی آیات و احادیث پر مشتمل اخبارات بےوضو پڑھنا چھونا اور ان کو ردی میں بیچنا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
اخبار کے صفحات میں جس جگہ قرآنی آیت یا اس کا ترجمہ لکھا ہو، تو صفحے کے اتنے حصے کو آیت و ترجمے والی جگہ سے اور صفحے کی دوسری طرف بالکل پیچھے والی جگہ سے بے وضو نہیں چھو سکتے، لیکن صفحے کے باقی حصے اور باقی اخبار کو بے وضو چھو سکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اخبار کے آیت والے صفحے پر دوسری تحریریں بھی لکھی ہوتی ہیں، صرف آیت و ترجمۂ قرآن لکھا ہوا نہیں ہوتا بلکہ صفحے کے بھی تھوڑے سے حصے ہی پر قرآن پاک کی آیت یا ترجمہ لکھا ہوتا ہے، لہٰذا صفحے کے باقی حصے اور اخبار کو بے وضو چھونا، جائز ہے کہ یہ قرآنی آیت و ترجمے کو چھونا نہیں ہے، جیسے دینی مسائل پر مشتمل کتابوں کو آیت و ترجمے والے حصے کے علاوہ جگہ سے بےوضو چھوسکتے ہیں۔ نیز اخبار ردی میں بیچنے میں اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ اس میں لکھی ہوئی آیات و احادیث، ان کے ترجمے، دینی مضامین وغیرہ مقدس تحریرات و الفاظ اور اللہ پاک، انبیاءِ کرام اور فرشتوں علیہمُ السّلام، صحابۂ کِرام و بزرگانِ دین رحمۃُ اللہِ علیہم کے ناموں وغیرہ کو احتیاط کے ساتھ الگ کر دیا جائے، پھر باقی اخبار کو ردی میں بیچ سکتے ہیں، جبکہ ان الگ کئے گئے حصوں کو اکٹھا کر کے کسی پاک تھیلے وغیرہ میں ڈال کر احتیاط کے ساتھ ادب والی جگہ پر رکھ دیا جائے یا زمین میں دفن یا گہرے سمندر و دریا یا بڑی نہر میں تھیلے کے ساتھ وزنی پتھر باندھ کر ٹھنڈا کر دیا جائے۔
پانی میں بہانے اور دفن کرنے کا طریقہ:
پانی میں بہانے کا طریقہ یہ ہے کہ کاغذات کے تھیلے وغیرہ میں وزنی پتھر ڈال کر انہیں اس طرح گہرے دریا یا بیچ سمندر میں ڈال دیا جائے کہ وہ پانی کی تہہ میں چلے جائیں اور باہر ایسی جگہ نہ آسکیں، جہاں ان کی بے ادبی کا خطرہ ہو۔ کم گہرے پانی میں نہ ڈالیں، کیونکہ ایسا کرنے سے وہ عُمُوماً بہہ کر کَنارے پر آ جاتے ہیں، جس کی وجہ سے سخت بے ادبیاں ہوتی ہیں۔ لہٰذا پانی میں ڈالنے سے پہلے تھیلے میں چند جگہ چِیرے لگا دیں تاکہ اُس میں فوراً پانی بھر کر تہہ میں چلا جائے۔ سب سے بہتر یہ ہے کہ انہیں پاک کپڑے میں لپیٹ کر زمین میں دفن کر دیا جائے، جس کا طریقہ یہ ہے کہ ان کے لیے لحد (بغلی قبر) بنائیں یعنی گڑھا کھود کر قبلے کی جانِب دیوار کو اتنا کھودیں کہ سب قرآن پاک اور مقدَّس اَوراق اس دیوارکے سوراخ میں سما جائیں، تاکہ ان پر مِٹّی نہ پڑے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صندوق نما قبر کھودیں یعنی گڑھا کھود کر اس میں رکھیں اور اوپر سے تختہ لگا کر چَھت بنا کر اس چھت پر مِٹّی ڈالیں، جیسے میت کےلیے قبر بنائی جاتی ہے تاکہ ان مقدس تحریروں پر مٹی نہ پڑے، نہ ہی کسی چلنے والے کا پاؤں پڑے۔ یہ احتیاط بھی شرعاً ضروری ہے کہ قرآن پاک وغیرہ مقدس اوراق کو کسی وقف قبرستان میں دفن نہ کریں، کیونکہ قبرستان مسلمان مُردوں کی تدفین کے لیے وقف ہوتے ہیں، لہٰذا ان میں اوراقِ مقدسہ دفن کرنا یا اس مقصد کے لیے کنواں بنانا، جائز نہیں، کیونکہ یہ وقف کی حالت کو بدلنا ہے، جو کہ ناجائز ہے۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضانِ مدینہ اگست 2026ء