logo logo
AI Search

من و سلویٰ کیا ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

من و سلویٰ کی وضاحت

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

اکثر مفسرین کے مطابق من سے مراد ترنجبین ہے۔ اور سلوی سے مراد بٹیر یا بٹیر کی مثل کوئی پرندہ ہے۔

اور ترنجبین ایک قسم کی شکر، جو خراسان میں اکثر درخت جواسا یا اونٹ کٹارے کے کانٹوں پر شبنم کی طرح گر کر جم جاتی ہے، مسہل میں اکثر کام آتی ہے۔

تفسیر جلالین میں ہے {المن و السلوى} هما الترنجبين و الطير السمانى" ترجمہ: من و سلوی سےمراد ترنجبین اور بٹیرنامی پرندہ ہے۔ (تفسیر جلالین، صفحہ 26، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

تفسير نسفی میں ہے {المن} الترنجبين و كان ينزل عليهم مثل الثلج من طلوع الفجر إلى طلوع الشمس لكل إنسان صاع {و السلوى} ۔ ۔ ۔ و هي السماني" ترجمہ: من، ترنجبین ہے اور یہ برف کی طرح ان پر طلوع فجر سے طلوع آفتاب تک ہر شخص کے لیے ایک صاع (تقریبا چار کلو) اترتا تھا اور سلوی سے مراد بٹیر ہے۔ (تفسير نسفی، جلد 1، صفحہ 91، مطبوعہ: بیروت)

تفسير خازن ميں ہے "الأكثرون على أن المن هو الترنجبين و قيل: هو شيء كالصمغ يقع على الشجر طعمه كالشهد. و قال وهب: هو الخبز الرقاق، و أصل المن هو ما يمن اللہ به من غير تعب ۔ ۔ ۔ السلوى، و هو طائر يشبه السماني و قيل هو السماني بعينه فكان الرجل يأخذ ما يكفيه يوماوليلة، فإذا كان يوم الجمعة يأخذ ما يكفيه ليومين لأنه لم يكن ينزل يوم السبت شيء" ترجمہ: اکثر مفسرین کے نزدیک مَن سے مراد ترنجبین ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ یہ گوند کی مانند ایک چیز تھی، جو درختوں پر گرتی تھی اور اس کا ذائقہ شہد جیسا میٹھا ہوتا تھا۔ حضرت وہب رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس سے مراد باریک روٹی ہے۔ مَن کی اصل ہر وہ نعمت ہےجو اللہ تعالیٰ بغیر کسی مشقت اور محنت کے عطا فرمائے۔ سلوٰی ایک پرندہ تھا جو بٹیر سے مشابہ تھا، بلکہ بعض اہلِ علم کے نزدیک وہ بعینہٖ بٹیر ہی تھا۔ ہر شخص اس میں سے اتنا ہی لے لیتا تھا جو ایک دن اور ایک رات کے لیے کافی ہو۔ البتہ جمعہ کے دن وہ دو دن کی ضرورت کے مطابق لے لیتا تھا، کیونکہ ہفتےکے دن ان پرکچھ نازل نہ ہوتا تھا۔ (تفسير خازن، جلد 1، صفحہ 47، 48، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی 
فتوی نمبر: WAT-5289
تاریخ اجراء: 02 صفر المظفر 1448ھ / 17 جولائی 2026ء