logo logo
AI Search

مومن اور فاجر کی مثال والی حدیث مبارکہ کا حوالہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مؤمن کی مثال نرم ٹہنی کی سی اور فاجر کی مثال صنوبر کے درخت کی سی ہے، روایت کا حوالہ

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "مومن کی مثال کھیت کی نرم ٹہنیوں کی سی ہے کہ جدھر کو تیز ہوا چلی ادھر کو جھک جاتی ہیں اور جب ہوا تھم جاتی ہے تو ٹہنیاں پر سکون ہو جاتی ہیں (یعنی مومن کو آزمائش سے گزار کر بچا لیا جاتا ہے) لیکن فاجر و فاسق کی مثال صنوبر کے مضبوط درخت جیسی ہے کہ ایک ہی حالت میں کھڑا رہتا ہے (یعنی فاسق و فاجر آزمائشوں سے نہیں گزارا جاتا) یہاں تک کہ اللہ جب چاہتا ہے اسے ایک ہی بار اکھاڑ (پھینک) دیتا ہے۔" کیا یہ حدیث مبارکہ کے الفاظ اسی طرح ہیں؟

جواب

جی ہاں! یہ حدیث مبارکہ کے الفاظ ہیں۔ صحیح البخاری میں یہ حدیث مبارکہ ہے ”عن أبي هريرة رضي اللہ عنه قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: ‌مثل ‌المؤمن ‌كمثل ‌الخامة ‌من ‌الزرع، من حيث أتتها الريح كفأتها، فإذا اعتدلت تكفأ بالبلاء. والفاجر كالأرزة، صماء معتدلة، حتى يقصمها اللہ إذا شاء“ ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: رسول اللہ (عزوجل و صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: مؤمن کی مثال کھیتی کے اس نرم و شاداب پودے کی طرح ہے، جسے ہوا جس طرف سے بھی آتی ہے، جھکا دیتی ہے، اور جب وہ سیدھا ہوتا ہے، تو پھر کسی آزمائش (ہوا) سے جھک جاتا ہے (یا پھر یوں ترجمہ ہوگا کہ) اور جب ہوا تھمتی ہے، تو وہ پھر سیدھا کھڑا ہو جاتا ہے (اسی طرح) مومن بلاؤں اور آزمائشوں میں الٹتا پلٹتا رہتا ہے، جبکہ فاجر کی مثال صنوبر کے اس سخت اور سیدھے درخت کی طرح ہے، جو بالکل قائم رہتا ہے، یہاں تک کہ جب اللہ چاہتا ہے، تو اسے ایک ہی بار میں جڑ سے اکھاڑ پھینکتا ہے۔(صحیح البخاری، کتاب المرضی، صفحہ 1052، رقم الحدیث 5644، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-5304

تاریخ اجراء: 01 ربیع الاول 1448ھ/15 اگست 2026ء