logo logo
AI Search

ختم شریف کے بعد پیسے دینا یا لینا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

ختم شریف پڑھنے کے بعد پیسے لینا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

قرآنِ مجید کی تلاوت پر اجرت لینا ناجائز و حرام ہے، البتہ! بطورِ ہبہ، صلہ یا احسان دی جانے والی رقم لینا جائز ہے۔ تاہم! یہ جاننا ضروری ہے کہ ختمِ شریف کے بعد قاری صاحب کو دی جانے والی رقم کب اجرت شمار ہوگی اور کب ہبہ و صلہ۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ:

اگر پہلے سے یہ طے ہو کہ قرآنِ مجید پڑھنے کے بدلے اتنی رقم دی جائے گی، یا اگرچہ صراحتاً طے نہ ہوا ہو، لیکن وہاں عرف و رواج یہی ہو کہ ختمِ قرآن کے بعد قاری صاحب کو رقم دی جاتی ہے، اور اس صورت میں پہلے صراحتالین دین کی نفی نہیں کی گئی تھی، تو ایسی رقم اجرت کے حکم میں ہوگی، لہٰذا اس کا لینا ناجائز و حرام ہوگا۔ البتہ! اگر نہ پہلے سے کوئی معاہدہ ہوا ہو، اور نہ ہی وہاں ایسا کوئی عرف موجود ہو، یا عرف تو ہو لیکن قاری صاحب پہلے ہی واضح طور پر یہ کہہ دیں کہ ہم تلاوت پرکوئی رقم وغیرہ نہیں لیں گے، اورصاحب خانہ قبول کرلیں، پھر اس کے باوجود اگر صاحب خانہ ،خوش دلی سے بطورِ ہدیہ، صلہ یا احسان کچھ رقم پیش کرے، تو وہ اجرت نہیں ،بلکہ ہبہ و صلہ شمار ہوگی، جس کا لینا جائز ہے، بلکہ دینے والے کے لیے باعثِ ثواب بھی ہے۔

امامِ اہلسنت، امام احمدرضا خان علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں: اصل یہ ہے کہ طاعت و عبادات پر اجرت لینا دینا (سوائے تعلیمِ قرآن عظیم و علومِ دین و اذان و امامت وغیرہا معدودے چند اشیاء کہ جن پر اجارہ کرنا متاخرین نے بناچاری و مجبوری بنظر حال زمانہ جائز رکھا) مطلقاً حرام ہے اور تلاوتِ قرآن عظیم بغرض ایصال ثواب ضرور منجملہ عبادات و طاعت ہیں ، تو ان پر اجارہ بھی ضرور حرام و محذور ۔ ۔ ۔ اور اجارہ جس طرح صریح عقد زبان سے ہوتا ہے، عرفاً شرط معروف و معہود سے بھی ہوجاتا ہے۔ مثلاً پڑھنے پڑھوانے والوں نے زبان سے کچھ نہ کہا، مگر جانتے ہیں کہ دینا ہوگا، وہ سمجھ رہے ہیں کہ کچھ ملے گا، انہوں نے اس طور پر پڑھا، انہوں نے اس نیت سے پڑھوایا، اجارہ ہوگیا اور اب دو وجہ سے حرام ہوا: (1) ایک تو طاعت پر اجارہ یہ خود حرام، (2) دوسرے اجرت اگر عرفاً معین نہیں، تو اس کی جہالت سے اجارہ فاسد، یہ دوسرا حرام۔ ۔ ۔ ۔ پس اگر قرار داد کچھ نہ ہو، نہ وہاں لین دین معہود ہوتا ہو، تو بعد کو بطور صلہ و حسن سلوک کچھ دے دینا جائز بلکہ حسن ہوتا، ۔ ۔ ۔ مگر جبکہ اس طریقہ کا وہاں عام رواج ہے، تو صورت ثانیہ میں داخل ہوکر حرام محض ہے، اب اس کے حلال ہونے کے دوطریقے ہیں: اول یہ کہ قبل قراء ت پڑھنے وا لے صرا حۃً کہہ دیں کہ ہم کچھ نہ لیں گے، پڑھوانے وا لے صاف انکار کر دیں کہ تمھیں کچھ نہ دیا جا ئے گا۔ اس شرط کے بعد وہ پڑھیں اور پھر پڑھوا نے وا لے بطور صلہ جو چا ہیں دے دیں یہ لینا دینا حلال ہو گا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 486 تا 488، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

 فتاوی اجملیہ میں ہے تلاوتِ قرآن کریم پر اجرت لینا اور دینا بالکل ناجائز ہے۔ اسی طرح جس مقام کے عرف میں اس پر لیا دیا جاتا ہے، تو حسبِ دستور تلاوت پر لینا اور دینا بھی ناجائز ہے، ہاں جہاں نہ ایسا عرف و رواج ہو، نہ دینے والا اور نہ لینے والا بہ نیتِ اجرت لیتے، دیتے ہوں، تو وہاں صدقہ و صلہ ہے، اس کے جواز میں کوئی شبہ نہیں۔ (فتاوی اجملیہ، جلد 2، صفحہ 620، شبیر برادرز، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی 
فتوی نمبر: WAT-5285
تاریخ اجراء: 24 صفر المظفر 1448ھ / 08 اگست 2026ء